اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

خلیج میں کشیدگی کا 101 واں دن: خطہ جنگ اور امن کے درمیان معلق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خلیج کا تزویراتی نقشہ، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور علاقائی سیکیورٹی تناؤ
کویت میں مینا الاحمدی ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگی ہوئی ہے (فوٹو: الجزیرہ)

100 دن گزرنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ’جنگ ہوگی یا امن رہےگا‘ جیسے روایتی سوالاتاپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

اس وقت یہ خطہ نہ تو مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اور نہ ہی یہاں دیرپا امن قائم ہے۔ یہ ایک ایسی پیچیدہ و متنازع صورت حال ہے جہاں عسکری طاقت کو سفارتی سودے بازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

طاقت کا استعمال اور سفارت کاری کا نیا رُخ

امریکا اور ایران دونوں ہی اس بات سے آگاہ ہیں کہ کھلی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ 

واشنگٹن خود ایسی جنگ نہیں چاہتا جس کا نتیجہ غیر متوقع ہو اور تہران کبھی ایسے تصادم سے گریزاں ہے جو اس کے وسائل کو ممکنہ طور پر ختم کر دے۔

اسی طرح خطے کے ممالک بھی نہیں چاہتے کہ ان کی سرزمین اور فضائی حدود تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے کا میدان بنیں۔

middle east war
(فوٹو: انٹرنیٹ)

دباؤ کی سفارت کاری

بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں موجودہ جاری عمل ’دباؤ کی سفارت کاری‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

امریکا فوجی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے مطالبات کے حق میں مجبور کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران میزائل، ڈرون اور سمندری راستوں کو خطرے میں ڈال کر پیغام دے رہا ہے کہ اسے تنہا نہیں کیا جا سکتا۔

اس وقت یہاں طاقت، سفارت کاری کا متضاد نہیں، بلکہ اس کا حصہ بن چکی ہے۔

middle east 1
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

غلط فہمی کا خطرہ

اس نوعیت کی سفارت کاری کا سب سے بڑا خطرہ ’کنارے پر کھیلنا‘ ہے، کیونکہ ہر فریق سمجھتا ہے کہ وہ محدود تصادم کے بعد رک سکتا ہے۔

لیکن سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے بحران ہمیشہ جنگ کی خواہش سے نہیں، بلکہ حساب کتاب میں غلطی، غلط فہمی یا دوسرے فریق کی حدود کو غلط سمجھنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ 

ایسے حالات میں ایک معمولی سا اقدام بھی بے قابو ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔

بحران صرف ایران کا جوہری پروگرام نہیں

100 دن گزر جانے کے بعد یہ بحران صرف ایرانی جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہا۔

اب اس میں آبنائے ہرمز کی حفاظت، توانائی کا تحفظ، پابندیاں، منجمد اثاثے اور علاقائی پراکسی محاذ بھی شامل ہو چکے ہیں۔  بحران میں یہ توسیع اس کے حل کو مزید مشکل بنا رہی ہے، کیونکہ ہر فائل دوسری فائل کو کھول دیتی ہے۔

امریکی ناکابندی کامیابی اور ایران امریکہ بیانیہ جنگ تحلیل
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکابندی (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

ہرمزبحران: عالمی معیشت کے لیے خطرہ

آبنائے ہرمز اس بحران کا تزویراتی قلب ہے۔ جو بھی اسے خطرے میں ڈالتا ہے، وہ صرف اپنے حریف کو نہیں، بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چین کو نشانہ بناتا ہے۔

فریقین کے درمیان کوئی بھی سمجھوتہ اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی سلامتی کا مسئلہ تسلیم نہ کیا جائے، نہ کہ صرف امریکا یا ایران کا سیاسی کارڈ۔

مستقبل کے ممکنہ منظرنامے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت پہلا ممکنہ منظرنامہ ایک عارضی اور ناقص سمجھوتہ ہے، جو جنگ تو نہیں روکے گا لیکن وقت خریدنے (مہلت ملنے) میں مدد دے سکتا ہے۔

دوسرا ممکنہ منظر نامہ موجودہ کیفیت کا تسلسل ہے جو خطے کو مسلسل تناؤ میں رکھے گا۔ 

اسی طرح تیسرا منظرنامہ کسی غلطی کے نتیجے میں وسیع تصادم کا امکان ہے، جو سب سے زیادہ خطرناک مگر کم متوقع ہے۔

pakistan us iran war
(فوٹو: اے آئی)

علاقائی استحکام کے 3 بنیادی عوامل

مبصرین کے مطابق اس وقت خطے کے مستقبل کا دارومدار 3 عوامل پر ہے۔

پہلا، واشنگٹن اور تہران کا ایسی ڈیل قبول کرنا جو شکست نہ لگے۔ دوسرا، ثالثوں کا کردار جو غیر رسمی رابطوں کو ایک سیاسی فریم ورک میں ڈھال سکیں۔ 

تیسرا، خطے کے ممالک کا یہ مؤقف کہ ان کی سلامتی کسی بھی عالمی سمجھوتے میں ثانوی نہیں ہونی چاہیے۔

100 دن گزر جانے کے بعد اب یہ بحران مکمل جنگ کے بجائے ایک اضطراری سمجھوتے کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ 

اس وقت فریقین ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کررہے، لیکن مکمل تباہی کے خوف نے انہیں ایک عارضی عقل مندی پر مجبور کر رکھا ہے۔ 

سیاسی توازن کا یہ کھیل اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب کھلاڑی یہ سمجھنے لگیں کہ وہ صورتحال پر مکمل قابو پا چکے ہیں، جبکہ اصل خطرہ ان کے اپنے تکبر اور غلط اندازوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔