مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی نے خطے کی فضائی نقل و حمل کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
مزید پڑھیں
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
فضائی سفر کے تازہ ترین نقشے ظاہر کرتے ہیں کہ شام، عراق اور ایران کی فضائی حدود تقریباً خالی ہو چکی ہیں۔ اس کے برعکس، مصر اور سعودی عرب کی فضائی حدود میں پروازوں کا شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے، جہاں سے متبادل فضائی راستے گزر رہے ہیں۔
عراق، شام اور ایران میں فضائی پابندیاں
عراق نے آپریشنل وجوہات پر اپنی فضائی حدود کو 7 جون کی شام سے 10 جون کی شام تک مکمل بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 72 گھنٹے تک تمام پروازوں کی معطلی کی تصدیق کی ہے۔
اس کے علاوہ شام نے بھی اپنی فضائی حدود کو بڑے پیمانے پر محدود کیا ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق دمشق ایئرپورٹ پر 12 گھنٹے کے لیے آپریشن معطل رہے، جبکہ حلب ایئرپورٹ کے لیے مخصوص راستے کھلے رکھے گئے۔
اُدھر ایران نے بھی اپنے مغربی علاقے کی فضائی حدود کو تاحکم ثانی بند کر دیا ہے۔
متبادل راستوں پر بڑھتا دباؤ
فضائی حدود کی بندش سے مشرق وسطیٰ کے روایتی فضائی کوریڈورز شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اب بڑی تعداد میں پروازیں مصر اور سعودی عرب کے اوپر سے گزر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی فضائی ٹریفک کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
معاشی اثرات اور آپریشنل مشکلات
طویل متبادل راستوں کے انتخاب سے پروازوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے، جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فضائی کمپنیوں کو اب اپنے شیڈول میں تبدیلی کرنا پڑ رہی ہے، جس سے مسافروں اور کارگو کی ترسیل میں تاخیر کا خدشہ ہے۔
سیکیورٹی اور علاقائی صورتحال
یہ فضائی تعطل اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم کا نتیجہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران سے 30 بیلسٹک میزائل اور یمن کی جانب سے بھی میزائل داغے گئے، جس کے باعث اسرائیل کے بن گورین ایئرپورٹ پر بھی ہنگامی صورتحال دیکھی گئی۔
خطے میں جاری اس فضائی افراتفری نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے مابین تنازع اب صرف زمینی یا عسکری سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات عالمی ہوابازی اور معاشی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔