فٹبال کی عالمی مقبولیت نے ورلڈ کپ کی میزبانی کو محض ایک کھیل سے نکال کر اسٹریٹیجک ، معاشی اور سماجی اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں
آج کئی ممالک اس ایونٹ کو اپنی ’سافٹ پاور‘ بڑھانے، قومی برانڈ کو بہتر کرنے اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جرمنی: معاشی فوائد سے زیادہ تشخص میں بہتری
جرمنی نے 2006 کے ورلڈ کپ کے ذریعے اپنے سخت گیر امیج کو تبدیل کر کے ایک دوستانہ اور جدید ملک کے طور پر پیش کیا۔
اگرچہ معاشی طور پر اسے 3.2 بلین یورو کا فائدہ ہوا، مگر اصل کامیابی ’فین زونز‘ کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے تشخص کو بہتر بنانا تھی۔
جنوبی افریقہ اور ’سفید ہاتھی‘ کا تصور
جنوبی افریقہ نے 2010 میں ایونٹ کی میزبانی تو کی، لیکن اسے توقعات کے برعکس طویل مدتی معاشی فوائد حاصل نہ ہو سکے۔
کئی اسٹیڈیمز دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے ’سفید ہاتھی‘ (غیر منافع بخش منصوبے) بن گئے، جنہیں اب مقامی سطح پر استعمال کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
برازیل: اخراجات کا بوجھ اور عوامی احتجاج
2014 میں برازیل نے ورلڈ کپ پر غیر معمولی اخراجات کیے، جس کے نتیجے میں عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔
تخمینوں کے برعکس برازیل میں معاشی نمو سست رہی اور کئی منصوبے ادھورے رہ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایونٹ کے فوائد صرف فیفا اور چند بڑی کمپنیوں تک محدود رہے۔
روس: سیاست اور کھیل کا امتزاج
2018 کے ورلڈ کپ کے دوران روس نے عالمی پابندیوں کے باوجود ایونٹ کا کامیاب انعقاد کیا۔
اگرچہ اس سے معاشی نمو میں معمولی اضافہ ہوا، لیکن کریملن کا بنیادی مقصد روس کو ایک محفوظ، جدید اور مہمان نواز ملک کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا، جس میں وہ کامیاب رہا۔
قطر: ترقیاتی اہداف کے لیے ایک ماڈل
قطر نے 2022 کے ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ کو اپنی ’نیشنل وژن 2030‘ کے ساتھ جوڑ کر انفرا اسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی کا ذریعہ بنایا۔
قطر نے ’سفید ہاتھی‘ کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے ’اسٹیڈیم 974‘ جیسے پائیدار ماڈلز متعارف کرائے جو بعد میں ناکارہ نہیں ہوئے اور 200 بلین ڈالر کے اس وسیع تر سرمایہ کاری پروگرام نے غیر تیل (نان آئل) معیشت کو نئی جہتیں دیں۔
ایونٹ کی کامیابی کا معیار
ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کا حتمی اثر اس بات پر منحصر ہے کہ میزبان ملک اسے قومی ترقی کے طویل مدتی منصوبوں کا حصہ کیسے بناتا ہے۔
کامیاب ماڈل وہی ہے جو محض اسٹیڈیمز بنانے کے بجائے بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور پائیدار قومی امیج سازی پر توجہ مرکوز کرے۔