ایپل کی جانب سے اپنی سالانہ ڈویلپرز کانفرنس 2026 کے انعقاد کے قریب آتے ہی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
اطلاعات کے مطابق ایپل اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ ’سری‘ میں اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی لانے جا رہی ہے، جس میں گوگل کے جیمینائی ماڈل اور انویڈیا کی طاقتور چپس کا استعمال کیا جائے گا۔
جیمینائی ماڈل: سری کی نئی روح
رپورٹس کے مطابق ایپل اپنے موجودہ ماڈل کو ختم کر کے اس کی جگہ جیمینائی کا تخصیص کردہ ورژن لائے گی۔
یہ ماڈل 3 ارب کے بجائے 1.2 ٹریلین پیرامیٹرز پر مشتمل ہوگا۔ اس تبدیلی کے لیے ایپل مبینہ طور پر گوگل کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کرے گی۔
اینویڈیا کی بلیک ویل چپس کا کردار
سری کی پروسیسنگ اب گوگل کلاؤڈ کے انفرا اسٹرکچر پر اینویڈیا بلیک ویل B200 پروسیسرز کے ذریعے ہوگی۔
یہ چپس ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ’کونفیڈینشل کمپیوٹنگ‘ فراہم کرتی ہیں۔ ان میں 208 ارب ٹرانسسٹرز موجود ہیں، جو ایپل کے اپنے A19 پرو پروسیسر سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہیں۔
پرسنل اسسٹنس کا عروج
نئی اپ ڈیٹ کے بعد سری محض جواب دینے تک محدود نہیں رہے گا۔
یہ ’پرسنل سری‘ کے طور پر یوزر کے ای میل، کیلنڈر اور میسجز کا تجزیہ کر کے پیچیدہ کام خودکار طریقے سے انجام دے گا۔ مثال کے طور پر، فلائٹ ٹائمنگ اور ٹریفک کے حساب سے یوزر کو بروقت روانگی کا مشورہ دینا اب ممکن ہوگا۔
ایپل کی حکمت عملی میں غیر معمولی تبدیلی
یہ قدم ایپل کی روایتی پالیسی کے برعکس ہے، جس کے تحت کمپنی اپنی تمام ٹیکنالوجی خود تیار کرتی تھی۔
تاہم اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے ایپل کو گوگل کے ساتھ اشتراک پر مجبور کر دیا ہے، تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھ سکے۔
کن ڈیوائسز پر یہ سہولت دستیاب ہوگی؟
نئے اے آئی فیچرز تمام صارفین کے لیے نہیں ہوں گے۔ لیکس کے مطابق یہ سہولت صرف جدید ہینڈ سیٹس تک محدود ہوگی، جن میں آئی فون 15 پرو، پرو میکس، آئی فون 16، 17 اور آنے والی 18 سیریز شامل ہیں۔
پرانے ماڈلز اس جدید ٹیکنالوجی کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
ایپل کی یہ حکمت عملی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوئیں تو سری کا یہ نیا اوتار صارفین کے لیے فون استعمال کرنے کے تجربے کو مکمل طور پر بدل دے گا، جس کا حتمی اعلان جلد متوقع ہے۔