اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں میں مسافروں کی بھولی گئی عجیب و غریب اشیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اوبر کی بغیر ڈرائیور خودکار ٹیکسیاں اور مسافروں کا گمشدہ سامان
کمپنی نے گزشتہ برس گاڑی میں مسافروں کی بھولی ہوئی اشیا کی فہرست جاری کی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی عالمی کمپنی اوبر نے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنی خودکار ٹیکسیوں میں مسافروں کی جانب سے چھوڑی گئی ہزاروں اشیا کی فہرست جاری کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ دلچسپ رپورٹ جہاں صارفین کے رویوں کی عکاس ہے، وہیں جدید ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے عوامی بھروسے کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

بین الاقوامی کمپنی اوبر کی اس سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسافروں نے اسمارٹ فونز اور چابیوں کے علاوہ انتہائی عجیب و غریب اشیا بھی گاڑیوں میں چھوڑیں۔ 

ان اشیا میں زندہ مچھلیاں، الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلیٹ، برف پر چلنے 

والی سلائیڈ، زندہ تتلیوں کا ڈبہ اور مشہور برانڈ لوبوٹان کا صرف ایک جوتا شامل پایا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون، بٹوے اور پاسپورٹ تو عام بھولی گئی اشیاء ہیں، مگر اس بار مصنوعی دانتوں کا سیٹ اور دلچسپ تحریروں والی ٹوپیاں بھی ملی ہیں۔ 

اوبر کی بغیر ڈرائیور خودکار ٹیکسیاں اور مسافروں کا گمشدہ سامان
یہ رپورٹ جدید ٹیکنالوجی پر صارفین کے بڑھتے بھروسے کو ظاہر کرتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ان اشیا کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب بغیر ڈرائیور گاڑیوں میں سفر کے دوران کافی پرسکون محسوس کرتے ہیں۔

کمپنی نے خودکار گاڑیوں کے شعبے میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف شراکت داریاں کی ہیں۔ 

مارچ 2025 میں امریکی شہر آسٹن سے ’ویمو آن اوبر‘ سروس کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس کے بعد اس سروس کا دائرہ کار اٹلانٹا، لاس ویگاس اور ڈیلاس جیسے شہروں تک پھیلا دیا گیا۔

اوبر کی بغیر ڈرائیور خودکار ٹیکسیاں اور مسافروں کا گمشدہ سامان
مسافروں نے اسمارٹ فونز اور چابیوں کے علاوہ انتہائی عجیب و غریب اشیا بھی گاڑیوں میں چھوڑیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

اوبر نے لاس ویگاس میں موشنل اور ڈیلاس میں ایورائیڈ جیسی کمپنیوں کے ساتھ مل کر خدمات فراہم کی ہیں۔

اگرچہ ان میں سے کچھ گاڑیوں میں اب بھی انسانی حفاظتی آپریٹرز موجود ہوتے ہیں، لیکن مسافروں کی جانب سے سامان بھولنے کے ہزاروں واقعات ایک سال میں ریکارڈ کیے گئے۔

گمشدہ سامان میں 7 کلو وزنی یویو، کالے سنگ مرمر کی بطخ، اسکویش میلو نامی کھلونا اور گلوکارہ چارلی ایکس سی ایکس کا پوسٹر بھی شامل تھا۔ 

یہ تمام اشیا ظاہر کرتی ہیں کہ خودکار ٹیکسیوں کا استعمال اب محض ضرورت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

اوبر کی بغیر ڈرائیور خودکار ٹیکسیاں اور مسافروں کا گمشدہ سامان
لوگ اب بغیر ڈرائیور گاڑیوں میں سفر کے دوران کافی پرسکون محسوس کرتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

گمشدہ سامان کی واپسی کا طریقہ کار روایتی سفر جیسا ہی رکھا گیا ہے، جہاں مسافر ایپ کے ذریعے سپورٹ ٹیم سے رابطہ کرتے ہیں۔

سامان ملنے کی صورت میں اسے مینٹیننس سینٹر سے خود لیا جا سکتا ہے یا 15 ڈالر کے عوض ہوم ڈیلیوری کی سہولت لی جا سکتی ہے۔

اوبر میں خودکار گاڑیوں کی عالمی سپورٹ سربراہ ایمی ساتروم کا کہنا ہے کہ کمپنی نے گزشتہ دہائی میں کروڑوں شکایات سے نمٹنے کا نظام تیار کیا ہے۔ 

اب اسی تجربے کو انسانی ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کے مسافروں کی سہولت کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

اوبر کی بغیر ڈرائیور خودکار ٹیکسیاں اور مسافروں کا گمشدہ سامان
گمشدہ سامان میں 7 کلو وزنی یویو، کالے سنگ مرمر کی بطخ سمیت اور بھی دلچسپ سامان شامل تھا (فوٹو: انٹڑنیٹ)

کمپنی نے فروری میں ’اوبر آٹونومس سلوشنز‘ کے نام سے ایک نیا کاروباری یونٹ بھی قائم کیا ہے۔

یہ یونٹ خودکار ٹیکسیوں، ٹرکوں اور ڈیلیوری روبوٹس چلانے والی کمپنیوں کو سافٹ ویئر اور آپریشنل سپورٹ فراہم کرتا ہے تاکہ اس جدید شعبے میں انقلاب برپا کیا جا سکے۔

اوبر رواں سال کے اختتام تک دنیا کے 15 شہروں میں خودکار ٹیکسی سروس فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ 2029 تک خودکار گاڑیوں کے سفر کو آسان بنانے والا دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارم بن کر ابھرے۔