اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

مائیکروسافٹ کے انجینئرز پر اے آئی کے زیادہ استعمال پر پابندی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مائیکروسافٹ اے آئی پابندی اور ٹیکنالوجی اخراجات کی علامتی تصویر
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں شامل بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اب ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں شامل بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اب ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں

مائیکروسافٹ نے اپنے انجینئرز کے لیے معروف اے آئی ٹولز کے استعمال پر پابندی یا ان میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ زیادہ فیس اور بجٹ کا دباؤ ہے۔ 

خبر رساں اداروں کے مطابق مائیکروسافٹ نے اپنے ملازمین کی جانب سے اینتھروپک (Anthropic) کے ٹول ’کلاڈکوڈ‘ (Claude Code) کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر پابندی  لگائی ہے۔

اس یو ٹرن کی وجہ کیا ہے؟

اگرچہ مائیکروسافٹ، اوپن اے آئی (OpenAI) میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس میں 2019 سے 2023 کے دوران تقریباً 13 ارب ڈالر کی خطیر رقم شامل تھی جو بعد میں 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

تاہم کمپنی نے اپنے اندرونی کاموں کے لیے اینتھروپک کے ٹولز پر بھی انحصار شروع کردیا تھا۔

ایک سال قبل مائیکروسافٹ نے اپنے آئی ٹی (IT) سیکشن کے انجینئرز کے لیے اے آئی کا استعمال لازمی قرار دیا تھا اور اسے کارکردگی جانچنے کا معیار بنایا تھا۔ 

مائیکروسافٹ اے آئی پابندی اور ٹیکنالوجی اخراجات کی علامتی تصویر
پابندی کی بنیادی وجہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ زیادہ فیس اور بجٹ کا بے جا دباؤ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس دوران ملازمین کو ’کلاڈ کوڈ‘کے لائسنس دیے گئے تھے، تاہم کمپنی نے محسوس کیا کہ انجینئر اپنے ہی ٹول ’گٹ ہب کو پائلٹ‘ (GitHub Copilot) کے بجائے حریف کمپنی کے ٹول کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

اس سے کمپنی کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا تھا، جس وجہ سے مائیکروسافٹ نے ’کلاڈکوڈ‘کے لائسنس کم کر دیے اور انجینئرز کو دوبارہ اپنی ہی ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا۔

اے آئی انسانی تنخواہوں سے زیادہ مہنگی؟

ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا عکاس ہے جس کا سامنا دنیا کی بڑی کارپوریشنز کو ہے۔

مائیکروسافٹ نے اینتھروپک میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، جبکہ بدلے میں اینتھروپک نے ’مائیکروسافٹ ایژر‘ (Microsoft Azure) کلاؤڈ سروسز پر 30 ارب ڈالر خرچ کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کے ماہرین اور ’گارٹنر‘ (Gartner) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2026 میں عالمی سطح پر آئی ٹی اخراجات 6.31 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ 2025 کے مقابلے میں 13.5 فیصد زیادہ ہے۔

’ایکسیس‘ (Axios) کی رپورٹ کے مطابق اب صورتحال یہ ہے کہ کئی بڑی کمپنیاں اے آئی کی مد میں اتنا خرچ کر رہی ہیں کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے بھی بڑھ گیا ہے۔

اینویڈیا (NVIDIA) کے نائب صدر برائے ڈیپ لرننگ، برائن کیٹانزارو کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے کمپیوٹنگ کی لاگت ملازمین کی تنخواہوں سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکی ہے۔‘

اسی طرح اوبر (Uber) کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر کا بجٹ بھی اے آئی کے استعمال کی وجہ سے 2026 کے وسط میں ہی ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

مائیکروسافٹ اے آئی پابندی اور ٹیکنالوجی اخراجات کی علامتی تصویر
کمپنی نے محسوس کیا کہ انجینئر اپنے ہی ٹول ’گٹ ہب کو پائلٹ‘ کے بجائے حریف ٹول کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ٹوکن سسٹم اور معاشی بحران

اے آئی ماڈلز کی قیمتوں کا تعین ’ٹوکن‘ (Token) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یعنی جتنا زیادہ استعمال، اتنی ہی زیادہ قیمت۔ یہ استعمال جب بغیر کسی روک ٹوک کے بڑھتا ہے، تو ایک بڑے معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ بڑے کارپوریٹ سیکٹر میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا واقعی اے آئی ہر معاملے میں کفایت شعار ہے؟ 

اب کئی ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ طویل مدتی بنیادوں پر ’انسانی لیبر‘(Human Labor) مصنوعی ذہانت کی ان مہنگی فیسوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور سستی ثابت ہو سکتی ہے۔

مائیکروسافٹ کا یہ اقدام اے آئی انڈسٹری کے لیے ایک انتباہی گھنٹی ہے۔ 

یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ اے آئی کا جادو اب اپنی معاشی حقیقتوں سے ٹکرا رہا ہے۔ یعنی اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ترقی کا اہم زینہ ہے، لیکن اس کا بے دریغ استعمال اب کمپنیوں کے مالیاتی نظام کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ 

آنے والے وقت میں کمپنیاں اے آئی کے استعمال میں ’کفایت‘ اور ’پیداواری صلاحیت‘ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنانے پر مجبور ہوں گی۔