ایلون مسک اور مصنوعی ذہانت (AI) بنانے والی امریکی کمپنی ’اینتھروپک‘ کے درمیان تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔
مزید پڑھیں
برسوں تک یہ دونوں مسابقت کے بجائے نظریاتی تصادم کا شکار رہے اور ایلون مسک اکثر اینتھروپک پر تنقید کرتے تھے۔
اب یہ تلخی اربوں ڈالر کی تاریخی ڈیل میں تبدیل ہو چکی ہے۔
نظریاتی اختلافات سے کاروباری شراکت داری تک
اینتھروپک کے بانیوں، ڈاریو اور ڈینیلا اموڈی نے ’اوپن اے آئی‘ چھوڑ کر 2021 میں یہ کمپنی قائم کی تھی۔
ان دونوں کا اوپن اے آئی کو چھوڑتے وقت یہ دعویٰ تھا کہ وہ انسانی تحفظ کو ترجیح دیں گے۔
ایلون مسک نے اس کمپنی کو اخلاقی اور تجارتی لحاظ سے اپنا مخالف قرار دیا، لیکن آج وہی مسک، اینتھروپک کو درکار کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کر رہے ہیں۔
کمپیوٹنگ کا بحران اور کلاڈ ماڈل کی مجبوری
اینتھروپک کا مقبول ماڈل ’کلاڈ‘ (Claude) دنیا میں تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کر رہا ہے، لیکن اس کی کامیابی کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کی طلب نے کمپنی کو بحران میں ڈال دیا ہے۔
اینتھروپک کو اپنے صارفین اور کلاڈ کوڈ جیسے ٹولز چلانے کے لیے جدید ترین کمپیوٹنگ پاور کی اشد ضرورت ہے۔
کولوسس-1: ایلون مسک کا نیا برانڈ
ایلون مسک نے ممفس میں اپنے بڑے مرکز ’کولوسس-1‘ کے ذریعے اینتھروپک کو 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد اینویڈیا (Nvidia) جی پی یو فراہم کیے ہیں۔
اس ڈیل کے تحت اینتھروپک مئی 2029 تک ماہانہ 1.25 ارب ڈالر ادا کرے گی، جس کی مجموعی مالیت 40 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔
مسک کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی
ایلون مسک اب محض ’گروک‘ (Grok) بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ وہ اپنی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ (xAI) کو اے آئی انڈسٹری کے لیے ایک ’انفرا اسٹرکچر پلیٹ فارم‘ کے طور پر متعارف کروا رہے ہیں۔
یہ شراکت داری ثابت کرتی ہے کہ مسک کی بنائی گئی سہولیات ان کے اپنے حریفوں کے کام بھی آ سکتی ہیں۔
مستقبل کے امکانات اور خلائی ڈیٹا سینٹرز
اینتھروپک اب صرف مسک ہی پر انحصار نہیں کر رہی، بلکہ گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسے شراکت دار بھی تلاش کر رہی ہے۔
دوسری جانب، خلائی ڈیٹا سینٹرز اور شمسی توانائی سے چلنے والے سرورز کے تصور پر بھی کام ہو رہا ہے، جس میں مسک کی اسپیس ایکس (SpaceX) اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
طاقت کا نیا مرکز
یہ ڈیل ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی کی جنگ اب صرف بہتر ماڈل بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اصل طاقت اب اُس کے پاس ہوگی جو ڈیٹا سینٹرز، بجلی اور چپس (Chips) جیسے وسائل کو کنٹرول کرتا ہے۔
اینتھروپک کی مجبوری اور مسک کی صلاحیت نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ اب ’کمپیوٹنگ پاور‘ کے ذریعے ہوگا۔