ایک صارف نے ایک دہائی قبل اُس وقت بٹ کوائن خریدا تھا، جب ایک سکے کی قیمت تقریباً 250 ڈالر تھی۔
مزید پڑھیں
یونیورسٹی کے دور میں پاس ورڈ تبدیل کرنے کے بعد وہ اسے بھول گیا، جس کے نتیجے میں یہ ڈیجیٹل اثاثے برسوں تک رسائی سے باہر رہے۔
کلاڈ کی معاونت اور کامیابی
صارف نے کئی برس تک خود کار طریقے سے لاکھوں پاس ورڈز آزما کر رسائی حاصل کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔
اور اس عمل میں اس کے 8 ہفتے لگے، جس میں کلاڈ نے پرانی فائلز کا تجزیہ کیا۔
ڈیجیٹل بازیابی کا اہم موڑ
کلاڈ نے کافی چھان بین کے بعد صارف کے پرانے کمپیوٹر سے ایک ایسی بیک اپ فائل تلاش کر لی جو پاس ورڈ تبدیل کرنے سے پہلے بنائی گئی تھی۔
یہی تلاش کلیدی ثابت ہوئی، جس کے بعد صارف نے اپنے پرانے سیکنڈری پاس ورڈز اور ریکوری فریسس (Recovery Phrases) کا استعمال کرتے ہوئے اپنے بٹ کوائن تک رسائی حاصل کی۔
تکنیکی عمل اور ناکام کوششیں
اس سے قبل اس کام کےلیے 3.5 ٹریلین سے زائد پاس ورڈز آزمائے، جس کے لیے ’Hashcat‘ جیسے سافٹ ویئر اور طاقتور گرافکس کارڈز کا استعمال کیا گیا۔
تاہم کامیابی اصل میں کلاڈ کے ذریعے ڈیٹا کو منظم کرنے اور پرانی بیک اپ فائل کو بروقت دریافت کرنے سے حاصل ہوئی۔
ڈیٹا کی کھوج میں اے آئی کا کردار
صارف نے واضح کیا کہ کلاڈ نے بٹ کوائن کی انکرپشن کو ہیک نہیں کیا، بلکہ بکھرے ہوئے ڈیٹا کو یکجا کیا ہے۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز بڑی مقدار میں غیر منظم ڈیٹا کی چھانٹی کرنے اور اسے مفید معلومات میں تبدیل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈیجیٹل تنقید اور مستقبل
یہ واقعہ ڈیجیٹل ڈیٹا مائننگ کی ایک بہترین مثال ہے۔ بہت سے صارفین کے پاس پرانی ہارڈ ڈرائیوز اور کلاؤڈ اکاؤنٹس میں برسوں کا مواد بکھرا پڑا ہوتا ہے۔
مستقبل میں کلاڈ جیسے اے آئی ماڈلز ایسے پیچیدہ ڈیجیٹل ریکارڈز کو ترتیب دینے کے لیے ایک اہم معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ واقعہ اینتھروپک کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی محض تحریر یا پروگرامنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ حقیقی زندگی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔