ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ آج اتوار کو دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مزید کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنگی منصوبہ طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ واشنگٹن نے اسلحہ ساز کمپنیوں کو اپنی جنگی پیداوار تیز کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے اب تک 3000 سے زیادہ ایرانی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں کمانڈ و کنٹرول مراکز، پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانے، فضائی دفاعی نظام، بیلسٹک میزائل سائٹس اور فوجی مواصلاتی نظام شامل ہیں۔
ان حملوں میں 43 ایرانی بحری جہاز بھی تباہ کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق مشترکہ امریکی، اسرائیلی کارروائی میں ایران کے
سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد باکپور بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جواب میں اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک کی طرف تقریباً 2700 میزائل اور ڈرون فائر کیے۔
زیادہ تر ڈرون شاہد-136 طرز کے تھے، جن کی قیمت تقریباً 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر تک بتائی جاتی ہے جبکہ بیلسٹک میزائلوں کی قیمت ان کی قسم کے مطابق لاکھوں سے لے کر کئی ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں امریکا کو تقریباً 6 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے، جبکہ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اخراجات کم کرنے کے لیے نسبتاً کم قیمت ہتھیاروں کے استعمال میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران کے اندر ہونے والے مادی نقصانات اور متاثرہ تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کی مجموعی لاگت کا ابھی تک درست اندازہ سامنے نہیں آیا۔