آبنائے ہرمز ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گیا ہے، مگر اس بار صرف ایک نہایت اہم جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک نئے محاذِ جنگ کے طور پر جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگ کے آغاز کے ساتھ بھڑک اٹھا ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ تنگ آبی گزرگاہ، جس سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی برآمدات گزرتی ہیں، اب محض ایران کی جانب سے دی جانے والی دھمکی کا حربہ نہیں رہی، بلکہ فریقین کے درمیان ایک باقاعدہ محاذِ تصادم بن چکی ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ ایرانی بحریہ نے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا اور خطے میں فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
حالیہ عرصے کے آغاز پر امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایرانی اسٹریٹجک تنصیبات کے خلاف حملوں کا آغاز کیا، جسے ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے ایک مشترکہ فوجی کارروائی قرار دیا گیا۔
ان کارروائیوں میں ایرانی جنگی جہازوں کی تباہی اور ایرانی سرزمین کے اندر فضائی حملے شامل تھے۔
امریکی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ان آپریشنز میں درجنوں ایرانی کمانڈر مارے گئے، جن میں ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جس کے بعد ایران نے ’بے مثال انتقام‘ کی دھمکی دی۔
مزید پڑھیں
جہاز رانی کو خطرات
جلد ہی تہران نے اپنی دھمکی پر عمل درآمد کیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا اور خلیج عرب میں آبنائے کے قریب تین امریکی اور برطانوی
تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔
اس کے مقابلے میں جہاز رانی کمپنی V.Ships، جو مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے چلنے والے ٹینکر کی آپریٹر ہے، نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب سفر کے دوران ایک میزائل نما گولہ جہاز سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں عملے کا ایک فرد ہلاک ہو گیا۔
اسی تناظر میں سلطنت عمان نے اعلان کیا کہ آئل ٹینکر Sky Light پر مسندم کی بندرگاہ خصب کے شمال میں، آبنائے ہرمز کے قریب، حملہ ہوا جس میں عملے کے چار افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب امریکہ نے اعلان کیا کہ ایران کو آبنائے پر کنٹرول سے روکنے کے لیے جاری فوجی کارروائی کے دوران 9 ایرانی جنگی جہاز تباہ کیے گئے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا۔
ان کشیدگیوں کے نتیجے میں عالمی کمپنیوں، مثلاً Maersk، نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنی جہاز رانی کو آبنائے ہرمز سے معطل کر دیا، جس کے براہِ راست اثرات عالمی سپلائی چین پر مرتب ہو رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
تقریباً 33 سے 50 کلومیٹر چوڑی اور 60 میٹر گہری یہ آبی گزرگاہ دنیا کے قدیم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے عرب ممالک کی تیل برآمدات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق روزانہ 25 سے 35 آئل ٹینکر اس سے گزرتے ہیں۔
یہ گزرگاہ ایشیائی منڈیوں تک خام تیل کی تقریباً 85 فیصد برآمدات کی ترسیل میں معاون ہے، جبکہ عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا 20 سے 30 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق سعودی عرب اپنی 65 سے 70 فیصد تیل برآمدات، عراق تقریباً 95 فیصد، متحدہ عرب امارات 90 فیصد، جبکہ ایران، کویت اور قطر کا تقریباً تمام تیل اسی راستے سے برآمد ہوتا ہے۔
چین، جاپان، انڈیا اور جنوبی کوریا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔
امریکی محکمہ توانائی کی معلوماتی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 اور 2023 کے دوران روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اس گزرگاہ سے گزرا۔
جبکہ 2024 میں عالمی شپنگ اور توانائی کمپنیوں کے تخمینوں کے مطابق روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل اور کنڈینسیٹس یہاں سے گزرے۔
امریکی محکمہ توانائی کی معلوماتی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 اور 2023 کے دوران روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اس گزرگاہ سے گزرا۔
جبکہ 2024 میں عالمی شپنگ اور توانائی کمپنیوں کے تخمینوں کے مطابق روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل اور کنڈینسیٹس یہاں سے گزرے۔
اقتصادی اثرات
یقیناً آبنائے ہرمز کے پانی میں جاری سنگین سیکیورٹی کشیدگی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر واضح اثر ڈال رہی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جبکہ تصادم سے قبل یہ 67 سے 73 ڈالر کے درمیان گردش کر رہی تھیں۔
سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ حملوں کا دائرہ وسیع ہو جائے یا جہاز رانی طویل عرصے کے لیے معطل ہو جائے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے 100 ڈالر فی بیرل کی حد تک پہنچ سکتی ہیں بلکہ اس سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، خصوصاً اگر خلیجی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہو۔
البتہ اگر فوجی کشیدگی کو محدود کر لیا جائے بغیر وسیع پیمانے پر رکاوٹ کے، تو قیمتیں اگرچہ بلند سطح پر رہیں گی مگر قابو میں رہ سکتی ہیں۔