اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

سعودی امریکہ بائیو ٹیکنالوجی اتحاد کا اجلاس، تحقیق میں تعاون پر اتفاق

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

سعودی وزارت سرمایہ کاری نے وزارت نیشنل گارڈ کے شعبہ صحت اور شاہ عبداللہ انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ سینٹر (کیمارک) کے تعاون سے سعودی امریکہ بائیو ٹیکنالوجی اتحاد کے دوسرے اجلاس کی میزبانی کی۔

یہ بھی پڑھیں:

سبق ویب سائٹ کے مطابق ریاض میں منعقدہ اجلاس گزشتہ ماہ امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کا تسلسل ہے، جس کا مقصد بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔

’انوسٹ سعودی‘ کے تعاون سے منعقدہ اس تقریب میں علم کی منتقلی اور اختراع کے ذریعے صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

سی ای او سعودی انویسٹمنٹ مارکیٹنگ اتھارٹی خالد الخطاف نے تقریب سے افتتاحی خطاب میں کہا کہ سعودی امریکہ شراکت داری بائیو ٹیکنالوجی کی ترقی اور علم کی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے ایک بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس تعاون سے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں موجود ماہرین نے سان فرانسسکو سربراہ کانفرنس کے نتائج کو عملی جامہ پہنانے اور مشترکہ تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا تاکہ جدید طبی ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہو سکے۔

saudi us biotech alliance 2
(فوٹو: واس)

نیشنل گارڈ کے شعبہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل اور شاہ سعود بن عبدالعزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ سائنسز کے صدر ڈاکٹر بندر القناوی نے اجلاس کو ایک عملی پلیٹ فارم قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اتحاد کینسر کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے والے جدید علاج (امیونو تھراپی) اور ٹیومر کی تشخیص کے جدید طریقہ کار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد صرف اکیڈمک گفتگو نہیں بلکہ قومی بائیو ٹیکنالوجی حکمت عملی کے مطابق مستقبل کے طبی پروگرامز اور ویکسینز تیار کرنا ہے۔

شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر ماجد الفیاض نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اتحاد ’پریسیشن میڈیسن‘ (علاج کا درست ترین طریقہ) اور مخصوص علاج کی طرف ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایسے علاج تیار ہوں گے جو زیادہ مؤثر اور ٹارگٹڈ ہوں گے۔

علاوہ ازیں اجلاس کے سائنسی پروگرام میں کینسر کے جدید علاج، بائیو ادویات کی تیاری، تشخیص کی جدید ٹیکنالوجی اور طبی تجربات (کلینیکل ٹرائلز) پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں نامور ڈاکٹروں اور محققین نے شرکت کی۔

یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان تحقیقی اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی عالمی پوزیشن مستحکم ہو۔

اس تعاون کا بنیادی ہدف سعودی عرب کی قومی بائیو ٹیکنالوجی حکمت عملی کے مقاصد کو حاصل کرنا اور ایک ایسی معیشت کی بنیاد رکھنا ہے جو مکمل طور پر اختراع اور علم پر مبنی ہو۔ اس شراکت داری سے نہ صرف طبی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ جدید ادویات کی مقامی سطح پر تیاری کی راہ بھی ہموار ہوگی۔