فرانسیسی اشاعت
🔎 فیکٹ چیک: بچوں کی کتاب میں واقعی کیا لکھا ہے؟
+
📘 ’اس خاندان کا کھیل‘ (Le Jeu de cette famille)
یہ فرانسیسی کتاب مصنفہ اینی اگوپیان اور مصورہ کلیئر فرانک نے تیار کی جسے فرانسیسی اشاعتی ادارے (Rouergue) نے 2009ء میں شائع کیا تھا۔ مراکشی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کتاب 3 سے 7 برس کی عمر کے کم سن بچوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
🏠 خاندانوں کی مختلف شکلیں
کتاب کا مجموعی موضوع کسی ایک ہی صورت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں بچوں کو یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مختلف حالات کے تحت خاندان کئی طرح کی صورتوں میں موجود ہوسکتے ہیں۔
💔 علیحدگی اور نئی شادیاں
مواد میں ایسے خاندانی حالات کا ذکر شامل ہے جہاں والدین کے درمیان علیحدگی ہوچکی ہو یا دوسری شادی کے نتیجے میں ایک نیا خاندانی ڈھانچہ وجود میں آیا ہو۔
👶 گود لیے گئے بچے اور طبی معاونت
کتاب میں یتیم یا گود لیے گئے بچوں پر مشتمل گھرانوں کے علاوہ ایسے خاندانوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں جہاں طبی معاونت کے ذریعے بچے کی پیدائش ہوئی ہو۔
⚠️ اصل متنازع حصہ
انہی مختلف صورتوں کے درمیان ایک ایسی کہانی اور تصویر بھی شامل ہے جس میں ایک بچے کو ’دو مرد والدین‘ کے ساتھ رہتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو حالیہ تنازع کا مرکزی سبب بنی۔
بچوں کی ایک کتاب، چند متنازع صفحات اور والدین کے سخت اعتراضات۔ مراکش کے دارالحکومت رباط کے ایک نجی اسکول میں شروع ہونے والا معاملہ اب صرف ایک کتاب کے انتخاب تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے بچوں کی تربیت، خاندانی اقدار اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس تنازع کی وجہ ایک ایسی کہانی بنی ہے، جس میں ایک بچے کو ’دو مرد والدین‘ کے ساتھ رہتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بعض والدین کا سوال ہے کہ کیا اس عمر کے بچوں کو خاندان کی مختلف شکلوں سے متعارف کرانے کے لیے ایسے مواد کا انتخاب مناسب ہے؟
یہ متنازع معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب بعض والدین نے اس کے خلاف قانونی کارروائی پر سنجیدہ غور شروع کردیا ہے، جبکہ دوسری
جانب حکام کی جانب سے بھی اسکول سے وضاحت طلب کیے جانے کی اطلاع سامنے آگئی۔
مراکش کے نجی اسکول میں متنازع کتاب پر والدین کا شدید احتجاج
ننھے طلبہ کے لیے ’دو مرد والدین‘ والی کہانی متعارف کرانے پر حکام نے اسکول انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی۔
رباط کے اسکول میں 3 سے 7 سال کے بچوں کو متنازع خاندانی تصورات پڑھانے پر والدین، خاندانی اقدار اور تعلیمی اداروں کی نگرانی سے متعلق سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
📖 متنازع فرانسیسی کتاب اور بچوں کی عمر
3-7سنہ 2009 میں شائع ہونے والی اس کتاب کا ہدف 3 سے 7 سال کے کم عمر بچے ہیں، جس میں علیحدگی اور گود لینے کے علاوہ ایک بچے کو ’دو مرد والدین‘ کے ساتھ رہتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
🏫 سرکاری نصاب نہیں بلکہ ذاتی انتخاب
اطلاعات کے مطابق یہ کتاب مراکش کے سرکاری نصاب کا حصہ نہیں تھی بلکہ مراکشی قوانین کے تحت چلنے والے ایک نجی اسکول کے استاد نے اسے ذاتی طور پر کلاس میں متعارف کرایا تھا۔
⚖️ حکام کا نوٹس اور سابقہ ریکارڈ
202614 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق حکام نے اسکول سے وضاحت طلب کر لی ہے؛ اس سے قبل فروری 2024 میں بھی رباط کے ایک اسکول میں 12 سالہ طلبہ کے نصاب پر ایسا ہی تنازع اٹھا تھا۔
🛡️ خاندانی اقدار اور شفافیت کا سوال
ماہرین کا کہنا ہے کہ کتب کے انتخاب میں بچوں کی عمر اور معاشرتی ماحول کا لحاظ رکھنا ناگزیر ہے، اور اعتماد کی بحالی کے لیے والدین کو تدریسی مواد سے آگاہ رکھنا بنیادی شرط ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس کتاب میں ایسا کیا ہے؟
فرانسیسی زبان کی اس کتاب کا نام Le Jeu de cette famille ہے، جس کا مفہوم ’اس خاندان کا کھیل‘ ہے۔ اسے مصنفہ اینی اگوپیان اور مصورہ کلیئر فرانک نے تیار کیا، جبکہ فرانسیسی اشاعتی ادارے Rouergue نے اسے 2009ء میں شائع کیا تھا۔
مراکش کے ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کتاب 3 سے 7 سال کی عمر کے بچوں کے لیے ہے۔
اس میں خاندانوں کی مختلف صورتوں کو بیان کیا گیا ہے، جن میں والدین کی علیحدگی، دوبارہ شادی کے بعد نئی خاندانی تشکیل، یتیم اور گود لیے گئے بچے، طبی معاونت سے بچے کی پیدائش اور دو مرد والدین کے ساتھ رہنے والا بچہ شامل ہیں۔
رباط، مراکش
👨👩👧 خاندان کی بدلتی تعریف: کتاب نے تنازع کیوں چھیڑ دیا؟
پس منظر ▼
📖 کتاب کا نقطۂ نظر: خاندانی تنوع
کتاب کا ظاہری مقصد کم عمر طلبہ کو یہ بتانا تھا کہ معاشرے میں خاندان ہمیشہ ایک ہی روایتی شکل میں نہیں ہوتے، بلکہ حالات کے مطابق مختلف خاندانی ڈھانچے وجود میں آسکتے ہیں۔
🛑 والدین کا اعتراض: عمر اور اقدار کا سوال
بعض والدین نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی ہے کہ 3 سے 7 سال کے ننھے بچوں کے سامنے ’دو مرد والدین‘ پر مشتمل خاندان کا تصور پیش کرنا ان کی عمر اور مقامی خاندانی اقدار کے لحاظ سے مناسب نہیں۔
🔥 ایک کتاب سے بڑھ کر تربیتی و سماجی بحث
رباط کے نجی اسکول سے اٹھنے والا یہ معاملہ اب محض چند صفحات کے انتخاب تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے مراکش میں بچوں کی ابتدائی ذہن سازی، مذہبی و سماجی روایات اور نجی تعلیمی اداروں کی حدود پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔
یعنی کتاب کا موضوع صرف ایک خاص خاندانی صورت نہیں، بلکہ بچوں کو یہ دکھانا بھی ہے کہ خاندان مختلف حالات اور شکلوں میں موجود ہوسکتے ہیں۔
تاہم خاندان کو پیش کرنے کے اس انداز پر بعض والدین نے سخت اعتراض کیا ہے۔
"للطفل أبوان".. أسرة مثلية في كتاب مدرسي تفجر غضب أولياء الأمور بالرباط #كتاب_مدرسي #الرباط #reels #HH https://t.co/v0DCh672PV
— Hespress هسبريس (@hespress) October 19, 2026
کیا یہ کتاب سرکاری نصاب میں ہے؟
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کتاب اسکول میں پہنچی کیسے۔
’موروکو ورلڈ نیوز‘ کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کتاب سرکاری نصاب کا حصہ نہیں تھی بلکہ ایک استاد نے اسے ذاتی طور پر متعارف کرایا تھا۔
تاہم اس دعوے کی اسکول انتظامیہ سے براہِ راست تصدیق نہیں ہوسکی۔
⚖️ قانونی موڑ: والدین کے اعتراضات پر اب کیا ہوگا؟
▼
🏛️ مراکشی حکام کی جانب سے وضاحت طلب
شائع شدہ اطلاعات کے مطابق مراکشی حکام نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ نجی اسکول سے اس متنازع کتاب کے انتخاب اور استعمال کے حوالے سے باقاعدہ وضاحت طلب کی ہے۔
⚖️ عدالت سے رجوع کرنے پر غور، مگر حتمی تصدیق باقی
موجودہ قانونی پوزیشنبعض معترض والدین نے اسکول کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، تاہم دستیاب معلومات سے فی الحال یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ عدالت میں باضابطہ درخواست جمع ہوئی ہے یا نہیں۔
📂 ماضی کی نظیر: فروری 2024ء کا واقعہ
مراکش میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں؛ فروری 2024ء میں بھی رباط کے ایک بیلجیئن اسکول میں 12 سالہ طلبہ کے نصاب میں ہم جنس پرستی کے موضوع پر ناول شامل کرنے پر اعتراض اٹھا تھا اور تعلیمی حکام نے معائنہ کار بھیجے تھے۔
دوسری جانب مراکشی ویب سائٹ ’الیوم 24‘ کے مطابق متعلقہ ادارہ مراکش کے قوانین کے تحت کام کرنے والا ایک نجی اسکول ہے، نہ کہ فرانسیسی تعلیمی مشن کا حصہ۔
اس فرق کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس سے کتابوں کے انتخاب اور ان کی نگرانی کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کا سوال جڑ جاتا ہے۔
حکام کا نوٹس، اسکول خاموش
14 اکتوبر 2026ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق مراکشی حکام نے اسکول سے کتاب کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔
اس دوران بعض والدین نے مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا، تاہم دستیاب اطلاعات سے اب تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ عدالت میں باقاعدہ درخواست جمع ہوچکی ہے یا نہیں۔
🏫 اسکول کی ذمہ داری: بچوں کو کیا پڑھایا جا رہا ہے؟ ❮
📚 سرکاری نصاب کا حصہ یا استاد کا ذاتی انتخاب؟
موروکو ورلڈ نیوزسامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ کتاب سرکاری نصاب میں شامل نہیں تھی بلکہ ایک استاد نے ذاتی طور پر اسے کلاس میں متعارف کرایا تھا، تاہم اسکول انتظامیہ سے اس بات کی براہِ راست تصدیق نہیں ہوسکی۔
🇲🇦 مراکشی قوانین کے تحت چلنے والا نجی ادارہ
الیوم 24 کی رپورٹمقامی ویب سائٹ کے مطابق متعلقہ اسکول فرانسیسی تعلیمی مشن کا حصہ نہیں بلکہ مراکش کے مقامی قوانین کے تحت کام کرنے والا ایک نجی تعلیمی ادارہ ہے، جس سے سرکاری نگرانی اور جوابدہی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
🤐 اسکول انتظامیہ کی مسلسل خاموشی
مؤقف تاحال غائبحکام کی جانب سے وضاحت طلب کیے جانے اور میڈیا کے سوالات کے باوجود اسکول انتظامیہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ کتاب کس تدریسی مقصد کے تحت استعمال ہوئی۔
🔍 کتابوں کے انتخاب اور نگرانی کا نظام
انتظامی ذمہ داریاس واقعے نے نجی اسکولوں کے اندر اضافی مطالعاتی مواد کی جانچ پڑتال اور اساتذہ کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی کتابوں پر انتظامی نگرانی کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دوسری جانب اسکول انتظامیہ نے بھی صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ مراکش میں اپنی نوعیت کا پہلا تنازع نہیں ہے۔
فروری 2024ء میں رباط کے ایک بیلجیئن اسکول میں ہم جنس پرستی کے موضوع پر مبنی ناول 12 سالہ طلبہ کے نصاب میں شامل کیے جانے پر بھی اعتراضات سامنے آئے تھے۔
السلطات المغربية تسحب كتابا مدرسيا فرنسيا يشجع على المثلية الجنسية #المغرب #كتاب_مدرسي #المثلية_الجنسية https://t.co/4EPy40XFMg
— Hespress هسبريس (@hespress) August 24, 2023
اُس وقت بھی تعلیمی حکام نے اسکول سے وضاحت لینے کے لیے معائنہ کار بھیجے تھے۔
اصل سوال
رباط کا یہ تنازع اب ایک بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بچوں کے لیے کتابوں کا انتخاب کرتے وقت ان کی عمر، تعلیمی ضرورت اور معاشرتی ماحول کو کس حد تک مدنظر رکھا جانا چاہیے؟
🌍 عالمی بحث، مقامی اقدار: بچوں کی تربیت کا اصل سوال کیا ہے؟ ❖
🧒 عمر اور ثقافتی مطابقت کا معیار
یہ تنازع اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ کم سن طلبہ کے لیے کتابیں منتخب کرتے وقت ان کی ذہنی عمر، تعلیمی ضرورت اور مقامی معاشرے کی خاندانی و ثقافتی اقدار کو کس حد تک مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
📖 مکمل متن اور کلاس میں استعمال کا طریقہ
تعلیمی ماہرین کے مطابق کسی بھی کتاب کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے اس کے مکمل متن، تدریسی مقصد اور کمرۂ جماعت میں اسے پڑھائے جانے کے حقیقی طریقۂ کار کو جاننا بھی ضروری ہوتا ہے۔
🤝 والدین کا حقِ آگاہی اور شفافیت
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ والدین کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ ان کے بچوں کو اسکول میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؛ تعلیمی اداروں اور والدین کے درمیان شفاف رابطہ ہی اعتماد کی اصل بنیاد ہے۔
ماہرین کے مطابق والدین کا حق ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ ان کے بچوں کو اسکول میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف کسی کتاب کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے اس کا مکمل متن، تدریسی مقصد اور کلاس میں استعمال کا طریقہ جاننا بھی ضروری ہے۔
فی الحال اسکول کا مؤقف سامنے نہ آنے اور کتاب کے استعمال کی مکمل تفصیلات واضح نہ ہونے کے باعث کئی سوالات جواب طلب ہیں۔
تاہم یہ تنازع واضح کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور والدین سے رابطہ محض رسمی تقاضے نہیں، بلکہ اعتماد قائم رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔