سعودی عرب میں آج 21 اور کل 22 اکتوبر کی درمیانی رات شہابیوں کی بارش اپنے عروج پر ہوگی۔
جدہ سمیت مختلف شہروں میں صاف اور تاریک آسمان کے نیچے یہ خوبصورت فلکیاتی منظر بغیر دوربین دیکھا جاسکے گا۔
سعودی عرب میں رہنے والوں کے لیے 21 اور 22 اکتوبر کی درمیانی رات ایک خوبصورت فلکیاتی منظر دیکھنے کا موقع ہوگا۔
اس دوران شہابیوں کی معروف بارش ’اورینائڈز‘ Orionids اپنے عروج پر پہنچے گی اور تاریک آسمان پر اچانک روشن لکیریں نمودار ہوں گی۔
📊 فیکٹ باکس — اہم اعداد ایک نظر میں
21–22 اکتوبر 2026: شہابیوں کی بارش کے عروج کی رات۔
تقریباً 20 فی گھنٹہ: صرف مثالی، تاریک آسمان میں ممکنہ شرح؛ ضمانت شدہ تعداد نہیں۔
66 کلومیٹر فی سیکنڈ: ذرات کی زمین کی فضا میں داخل ہونے کی رفتار۔
تقریباً 74٪: عروج کی رات چاند کے روشن حصے کی مقدار۔
20–30 منٹ: آنکھوں کو تاریکی سے مانوس کرنے کا مناسب وقت۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زاہرہ نے بتایا کہ مثالی حالات میں ایک گھنٹے کے دوران تقریباً 20 شہابیے دکھائی دے سکتے ہیں۔
تاہم شہری علاقوں کی روشنی، بادلوں اور چاند کی چمک کے باعث اصل تعداد کم ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ ستارے نہیں، دمدار ستارے کے ذرات ہیں
اس منظر کو عام زبان میں ’ٹوٹتے ستارے‘ کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ستارے زمین کی طرف نہیں گرتے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق شہابیوں کی یہ بارش مشہور ہیلی دمدار ستارے Halley’s Comet کے چھوڑے ہوئے گردوغبار سے بنتی ہے جو ہمیں روشن لکیر کی طرح نظر آتے ہیں۔
زمین جب اپنے مدار میں ان ذرات کے راستے سے گزرتی ہے تو وہ تقریباً 66 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے فضا میں داخل ہوتے ہیں۔
ان کی تیز رفتار حرکت سے پیدا ہونے والی شدید حرارت روشن لکیریں بناتی ہے، جو چند لمحوں میں غائب ہوجاتی ہیں۔
بعض شہابیے اپنے پیچھے چمکتی ہوئی لکیر بھی چھوڑتے ہیں۔
☄️ شہابیوں کی بارش کیوں ہوتی ہے؟
آسمان کی روشن لکیریں حقیقت میں ٹوٹتے ہوئے ستارے نہیں۔ یہ ہیلی دمدار ستارے (Halley’s Comet) کے پیچھے رہ جانے والے باریک ذرات ہیں۔
زمین اپنی گردش کے دوران جب ان ذرات کے راستے سے گزرتی ہے تو وہ بڑی رفتار سے فضا میں داخل ہوکر روشنی پیدا کرتے ہیں۔
اورینائڈز کا نام برجِ جبار (Orion) سے لیا گیا ہے، لیکن شہابیے آسمان کے مختلف حصوں میں نظر آسکتے ہیں۔
سب سے اچھا وقت کون سا ہے؟
فلکیاتی ماہرین کے مطابق عروج کا وقت 21 اکتوبر کی رات سے 22 اکتوبر کی صبح تک ہے۔ نصف شب کے بعد شہابیوں کو دیکھنے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں، خاص طور پر چاند غروب ہونے کے بعد اور فجر سے پہلے۔
اس مرتبہ چاند کی روشنی ایک رکاوٹ بن سکتی ہے، کیونکہ عروج کے وقت اس کا بڑا حصہ روشن ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ شہر سے دور صاف اور تاریک آسمان والی جگہ کا انتخاب اہم ہے۔
جدہ اور ریاض میں کیسے دیکھیں؟
جدہ، ریاض، مکہ، مدینہ اور دمام سمیت سعودی عرب کے بیشتر علاقوں میں شہابیوں کی بارش دیکھی جاسکتی ہے، بشرطیکہ موسم صاف ہو۔
شہری علاقوں میں تیز بتیوں کے سبب مدھم شہابیے آسانی سے دکھائی نہیں دیتے۔
🌙 بہترین وقت — چاندنی میں فرق کیوں پڑتا ہے؟
عروج: بدھ 21 اکتوبر کی رات سے جمعرات 22 اکتوبر کی صبح تک۔
زیادہ بہتر موقع: آدھی رات کے بعد، بالخصوص چاند کے غروب ہونے اور صبح کی روشنی پھیلنے کے درمیان۔
اس سال چاند کی خاصی روشنی بعض مدھم شہابیوں کو چھپا سکتی ہے۔ چاند غروب ہونے سے آسمان نسبتاً تاریک ہوگا اور مشاہدے کے امکانات بہتر ہوں گے۔
نوٹ: چاند کے غروب ہونے کا وقت شہر اور مقام کے لحاظ سے مختلف ہوگا؛ مقامی فلکیاتی اوقات دیکھ لیں۔
کسی کھلے، محفوظ اور کم روشنی والے مقام سے مشاہدہ بہتر ہوگا۔
رات کے وقت صحرا یا دور دراز علاقے میں جانے والے افراد کو محفوظ راستے، موسم اور رابطے کے انتظامات کا خیال رکھنا چاہئے۔
غیرآباد مقامات پر اکیلے جانے سے گریز کرنا بہتر ہے۔
کیا دوربین ضروری ہے؟
نہیں۔
شہابیوں کی بارش دیکھنے کے لیے دوربین یا کسی خاص آلے کی ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق کھلے آسمان کا زیادہ سے زیادہ حصہ عام آنکھ سے دیکھنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ روشن لکیریں کسی بھی سمت نمودار ہوسکتی ہیں۔
📍 جدہ، ریاض، مکہ اور مدینہ میں کہاں دیکھیں؟
شہابیوں کی بارش کسی ایک شہر تک محدود نہیں۔ جدہ، ریاض، مکہ، مدینہ، دمام اور ملک کے دوسرے علاقوں میں صاف آسمان کے نیچے اس کا مشاہدہ ممکن ہے۔
بہتر مقام: شہر کی تیز روشنیوں سے دور، کھلا اور محفوظ علاقہ جہاں آسمان کا بڑا حصہ نظر آئے۔
احتیاط: رات کے وقت صحرا یا غیرآباد مقام کا رخ کریں تو راستہ، موسم، رابطے اور واپسی کی منصوبہ بندی پہلے کریں۔
بادل، دھند یا گردوغبار کے باعث بعض مقامات پر شہابیے نظر نہیں آئیں گے۔
مشاہدے کے دوران موبائل اسکرین کی تیز روشنی سے بچیں اور آنکھوں کو تقریباً 20 سے 30 منٹ تک اندھیرے سے مانوس ہونے دیں۔
مسلسل کچھ دیر انتظار بھی ضروری ہے، ہر منٹ کوئی شہابیہ دکھائی دینا لازمی نہیں۔
کیا اس سے کوئی خطرہ ہے؟
یہ ایک معمول کا فلکیاتی مظہر ہے۔
زیادہ تر خلائی ذرات بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور زمین کی فضا میں ہی ختم ہوجاتے ہیں، اس لیے اس آسمانی منظر کے مشاہدے سے کوئی خطرہ نہیں۔
👀 مشاہدہ کیسے کریں؟ پانچ آسان مشورے
1. دوربین یا ٹیلی اسکوپ کے بجائے عام آنکھ سے کھلے آسمان کا مشاہدہ کریں۔
2. کم روشنی والی محفوظ جگہ منتخب کریں۔
3. موبائل کی روشن اسکرین بند رکھیں۔
4. آنکھوں کو 20 سے 30 منٹ اندھیرے سے مانوس ہونے دیں۔
5. کسی ایک ستارے پر نظریں نہ جمائیں؛ شہابیے آسمان کے مختلف حصوں میں دکھائی دے سکتے ہیں۔
مشاہدے میں صبر ضروری ہے: ہر منٹ کوئی شہابیہ نظر آنا لازم نہیں۔
ناسا کے مطابق اورینائڈز کی سرگرمی اکتوبر کے اوائل سے نومبر کے پہلے ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے، لیکن عروج کی راتیں مشاہدے کے لیے زیادہ اہم ہیں۔
اگر موسم نے ساتھ دیا تو سعودی عرب کے رہائشی خاندان اور دوستوں کے ساتھ قدرت کے اس خوبصورت آسمانی منظر سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
سعودی پریس ایجنسی (SPA) — 20 اکتوبر 2026:
جدہ فلکیاتی سوسائٹی کا بیان، عروج کی رات، چاند کی روشنی اور مشاہدے کے طریقے۔
اصل خبر کھولیں
NASA — What's Up: October 2026:
اورینائڈز کے عروج اور چاند غروب ہونے کے بعد مشاہدے کی رہنمائی۔
ناسا کی رپورٹ کھولیں
NASA — Orionids Meteor Shower:
شہابیوں کی رفتار، ہیلی دمدار ستارے سے تعلق اور سرگرمی کی تاریخیں۔
سائنسی معلومات کھولیں