⚡
فیکٹ باکس: چین کی فوجی طاقت کے 7 حیران کن حقائق
1۔ بحری جہازوں کی تعداد میں دنیا کا سب سے بڑا بیڑا
پینٹاگون کی رپورٹس کے مطابق چینی بحریہ کے پاس جنگی اور معاون جہازوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جو مغربی بحرالکاہل میں بیجنگ کی بحری ناکہ بندی کی صلاحیت کو غیر معمولی حد تک بڑھاتی ہے۔
⏳ 2۔ 1979ء کے بعد براہِ راست جنگ کا فقدان
چین نے ویتنام کے خلاف 1979ء کی لڑائی کے بعد کوئی مکمل جنگ نہیں لڑی، جس کی وجہ سے فوج کے پاس حقیقی معرکہ آرائی کے تجربے کی کمی سب سے بڑا سوالیہ نشان سمجھی جاتی ہے۔
🚀 3۔ ہائپرسانک میزائلوں میں تکنیکی برتری
چین نے آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز پرواز کرنے والے اور فضائی دفاعی شیلڈز کو دھوکہ دینے والے ہائپرسانک گلائیڈ میزائل فیلڈ کر رکھے ہیں جو امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لیے خطرہ ہیں۔
👥 4۔ روسی فوجیوں کی جدید ڈرون تربیت
انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق چین نے 2025ء کے اواخر میں 200 روسی فوجیوں کو ڈرونز اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی جدید ٹریننگ فراہم کی تاکہ یوکرین جنگ کا عملی ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔
🤫 5۔ آبدوزوں کی آواز چھپانے کا چیلنج
بیجنگ کے پاس ایٹمی آبدوزیں موجود ہیں مگر امریکی سونار گرڈز کے مقابلے میں ان کی آواز (Acoustic Stealth) کم کرنے کے لیے چین کو روسی 'اکولا' و 'یاسن' کلاس ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔
🌊 6۔ کیسپین سی مونسٹر پر تحقیق
سوویت دور کے ایکرانوپلان (پانی کی سطح سے چند میٹر اوپر اڑنے والے دیوہیکل کرافٹ) کے ڈیزائن پر چینی ماہرین کام کر رہے ہیں تاکہ فوجیوں کی انتہائی تیز رفتار نقل و حمل ممکن ہو۔
🛡️ 7۔ تائیوان کے گرد مستقل کوسٹ گارڈ گشت
چین نے تائیوان کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر فضائی و بحری موجودگی اتنی بڑھا دی ہے کہ خطے میں بغیر کسی باضابطہ اعلان کے جزوی ناکہ بندی کی مشقیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔
دنیا ابھی روس اور یوکرین جنگ کے انجام کی منتظر ہے، مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نئی صورتیں اختیار کرتے ہوئے مسلسل بڑھ رہی ہے، یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی دوبارہ شدت پکڑ رہی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پرانی دشمنی کسی بھی وقت نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
اسی بے چین عالمی منظرنامے میں چین خاموشی سے اپنی فوجی طاقت بڑھانے اور جدید جنگ کے طریقے سیکھنے میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ چین کے پاس کتنے میزائل، جنگی جہاز یا آبدوزیں ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بیجنگ یوکرین کی جنگ سے ایسے سبق حاصل کر رہا ہے جو مستقبل میں تائیوان کے دفاع اور امریکی فوجی برتری کو چیلنج کر سکتے ہیں؟
چین کا ہدف ہتھیار نہیں، جدید جنگی حربے
چین کی فوج نے 1979ء کے بعد کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی۔ اس کے باوجود اس نے گزشتہ برسوں میں میزائلوں، جنگی طیاروں، بحری جہازوں، ڈرونز اور خلائی ٹیکنالوجی میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔
عالمی تنازعات اور بیجنگ: کیا اگلا میدانِ جنگ چین ہوگا؟
یوکرین تنازع سے جدید جنگی اسباق، تائیوان پر بڑھتا دباؤ اور بحری و ہائپرسانک برتری کی خاموش دوڑ
فوجی عدم شرکت کا دور ⏳
چین نے 1979 کے بعد کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی، اس لیے وہ حقیقی جنگی تجربے کی کمی جدید الیکٹرانک ہتھیاروں اور بیرونی تربیت سے پوری کر رہا ہے۔
روسی اہلکاروں کی عسکری تربیت 🪖
بیجنگ نے روسی فوجیوں کو ڈرونز اور جدید سسٹمز کی تربیت دی تاکہ یوکرین کے محاذ سے حاصل ہونے والے عملی جنگی اسباق کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
تائیوان ناکہ بندی اور امریکی منصوبہ 🛡️
امریکہ اور تائیوان نے خودکار کشتیوں اور بارودی سرنگوں کے دفاعی جال کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ چینی بحری محاصرے کو ناکام بنایا جا سکے۔
جدید بحری و ہائپرسانک برتری 🚀
دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑے کے ساتھ بیجنگ روسی آبدوز سازی اور جدید تیز رفتار ہتھیاروں کے ملاپ سے برتری قائم کرنے میں مصروف ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
امریکی محکمہ دفاع کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق چین کا بحری بیڑہ تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ہے، جبکہ اس کی دفاعی صنعت جدید میزائل اور ہائپرسانک ہتھیار بھی تیار کر رہی ہے۔
تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق تعداد اور ٹیکنالوجی کی برتری لازماً ہر جنگ میں کامیابی کی ضمانت نہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق چین اپنی فضائی، بحری، میزائل اور جوہری صلاحیتوں کو مسلسل جدید تر بنا رہا ہے۔
بمقابلہ
چین بمقابلہ امریکا: جنگ ہوئی تو کس کا پلڑا بھاری ہوگا؟
موازنہ
🚩 چین: جغرافیائی نزدیکی اور صنعتی طاقت
چین اپنے ہوم گراؤنڈ پر لڑے گا جہاں خشکی پر نصب ہزاروں بیلسٹک میزائل، وسیع کوسٹل دفاع اور بحری جہاز سازی کی تیز رفتار فیکٹریاں اسے قریبی سمندروں میں رسد و تیاری کی زبردست برتری دیتی ہیں۔
⚓ امریکا: آپریشنل تجربہ اور عالمی اتحاد
امریکی فوج کے پاس دہائیوں کی جنگی مہارت، جدید ترین ایٹمی حملہ آور آبدوزیں، اسٹیلتھ بمبار اور جاپان، آسٹریلیا و فلپائن کے اتحادی اڈوں کا مضبوط جال ہے جو سمندری محاصرہ توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرین کی خندقوں سے بیجنگ تک
یوکرین کی جنگ نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اب میدانِ جنگ میں صرف ٹینک اور بڑے میزائل فیصلہ کن نہیں رہے، بلکہ نسبتاً کم قیمت ڈرون دشمن کے فوجیوں، توپوں، رسدی راستوں اور دفاعی نظاموں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
جدید دور میں الیکٹرانک مداخلت، خودکار ہتھیار اور مسلسل نگرانی بھی جنگ کا رخ بدل رہے ہیں۔
یورپی انٹیلی جنس ذرائع اور حاصل شدہ دستاویزات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے 2025ء کے اواخر میں تقریباً 200 روسی فوجیوں کو تربیت دی تھی۔
ان کی تربیت میں ڈرونز، الیکٹرانک جنگ اور دیگر فوجی مہارتیں شامل تھیں۔ ان میں سے بعض اہلکار بعد میں یوکرین کے محاذ پر واپس گئے۔
یہی وجہ ہے کہ چین اس دوران روس کے جنگی تجربات اور جدید فوجی ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
🛡️
تائیوان پر جنگ: چین کے 5 بڑے چیلنجز کیا ہیں؟
+
1۔ 160 کلومیٹر چوڑی تائیوان اسٹریٹ کا ایمفیبیئس معرکہ
کھلے سمندر کو عبور کر کے لاکھوں فوجیوں اور بھاری ٹینکوں کو تائیوان کے ساحلوں پر اتارنا تاریخ کا سب سے پیچیدہ بحری آپریشن ہوگا، جہاں خراب موسم اور طوفانی لہریں حملہ آور فوج کو شدید کمزور کر سکتی ہیں۔
💥 2۔ 'ہیل اسکیپ' اور خودکار ڈرونز
امریکی و تائیوانی دفاعی حکمت عملی کے تحت تائیوان اسٹریٹ کو ہزاروں بغیر پائلٹ کشتیوں، ڈرونز اور بحری بارودی سرنگوں سے بھر دیا جائے گا تاکہ چینی جہاز ساحل تک نہ پہنچ سکیں۔
🚢 3۔ رسد اور تیل کے بحری راستوں کی ناکہ بندی
چین اپنی توانائی کا 70 فیصد سے زائد حصہ بحری راستوں خصوصاً آبنائے ملاکا سے درآمد کرتا ہے، جس پر جنگ کی صورت میں امریکی بحریہ باآسانی اقتصادی ناکہ بندی کر سکتی ہے۔
⛰️ 4۔ تائیوان کا قدرتی پہاڑی قلعہ
تائیوان کی سرزمین دشوار گزار پہاڑوں، زیرِ زمین بنکرز اور مضبوط دفاعی سرنگوں پر مشتمل ہے جہاں اترنے کے بعد بھی گوریلا مزاحمت اور گھمسان کی شہری لڑائی کا سامنا ہوگا۔
📉 5۔ معاشی پابندیاں اور سیمی کنڈکٹرز
تائیوان دنیا کی اہم ترین چپس (TSMC) تیار کرتا ہے؛ جنگ کی صورت میں عالمی سپلائی چین تباہ ہوگی اور مغربی ممالک بیجنگ پر تاریخ کی سخت ترین مالیاتی پابندیاں لگائیں گے۔
وہ جزیرہ جہاں بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان اپنی الگ حکومت اور دفاعی نظام رکھتا ہے۔
بیجنگ کے لیے اس جزیرے کی اہمیت محض سیاسی نہیں، بلکہ اس کا تعلق مغربی بحرالکاہل میں فوجی رسائی، بحری راستوں اور امریکہ کے اثرورسوخ سے بھی ہے۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق تائیوان کے قریب چینی فوجی طیاروں کی سرگرمیوں اور جزیرے کے مشرق میں چینی کوسٹ گارڈ کی گشت پر امریکی حکام نے تشویش ظاہر کی ہے۔
The United States approved $11.1 billion in arms sales to Taiwan, the largest ever US weapons package for the island which is under increasing military pressure from China https://t.co/5tmOAmiW60 https://t.co/ULpMFLuxRj
— Reuters (@Reuters) December 18, 2025
تائیوان کو خدشہ ہے کہ بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل میں بحری ناکہ بندی کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
امریکہ اور تائیوان کی دفاعی منصوبہ بندی میں ڈرونز، سمندری بارودی سرنگوں اور متحرک میزائل نظاموں کو اہمیت حاصل ہے۔
’ہیل اسکیپ‘ نامی تصور کے تحت بغیر پائلٹ کشتیاں، فضائی ڈرونز اور خودکار زیرِ آب نظام چینی فوج کے ممکنہ حملے کو مشکل بنا سکتے ہیں۔
اس کے جواب میں چین کو ایسے ہتھیاروں کا مقابلہ اور اپنی فوج کو محفوظ رکھنے کے طریقے سیکھنے ہوں گے۔
روس چین کو کیا سکھا رہا ہے؟ جنگی تعاون کے پوشیدہ پہلو
حقائق
یوکرین کے محاذ سے الیکٹرانک وارفیئر کے عملی اسباق
روس یوکرین میں امریکی ساختہ گائیڈڈ ہتھیاروں اور جی پی ایس سگنلز کو جیم کرنے کا طویل عملی تجربہ رکھتا ہے، جس کا حساس ڈیٹا بیجنگ کے ساتھ شیئر کر کے چینی جیمنگ سسٹمز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
شور چھپانے والی ایٹمی آبدوز ٹیکنالوجی (Acoustics)
روسی 'اکولا' اور 'یاسن' کلاس آبدوزوں کے زیرِ آب ساؤنڈ پروفنگ ڈیزائن اور جدید ری ایکٹرز سے متعلق تکنیکی معلومات بیجنگ کے لیے امریکی بحریہ کی نگرانی کو ناکارہ بنانے میں سب سے اہم شراکت داری ہے۔
مغربی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کا مشترکہ معاشی ماڈل
ماسکو اور بیجنگ متبادل بینکنگ چینلز، مقامی کرنسیوں میں تجارت اور توانائی کی زمینی پائپ لائنز کے ذریعے ایسے محفوظ تجارتی راستے استوار کر رہے ہیں جو جنگ کے دوران مغربی بائیکاٹ سے محفوظ رہ سکیں۔
ہائپرسانک میزائل، ڈرونز اور آبدوزوں کی دوڑ
چین کی فوجی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کی وسیع دفاعی صنعت ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق چین مختلف اقسام کے بیلسٹک اور کروز میزائل تیار کرتا ہے، جبکہ ہائپرسانک ہتھیاروں کے شعبے میں بھی اس کی صلاحیتیں نمایاں ہیں۔
چین بڑے بحری جہاز، آبدوزیں، جنگی طیارے اور جدید بغیر پائلٹ نظام بنانے کی صلاحیت بڑھا رہا ہے، تاہم وہ ہر شعبے میں خودکفیل نہیں ہے۔
آبدوزوں کے شور کو کم کرنا، جدید انجن، زیرِ آب نگرانی اور طویل عرصے تک خفیہ کارروائی کرنا ایسے میدان ہیں جہاں تجربہ اور مسلسل تحقیق انتہائی اہم ہیں۔
Chinese navy says US ship near Sabina Shoal jeopardised maritime security https://t.co/UBH0Hwodfx https://t.co/UBH0Hwodfx
— Reuters (@Reuters) October 20, 2026
روس کے پاس کئی دہائیوں کا آبدوز سازی کا تجربہ ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون چین کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں روسی ’اکولا‘ اور ’یاسن‘ کلاس آبدوزیں اہم ہیں۔ ان کے ڈیزائن، شور چھپانے کی صلاحیت اور زیرِ آب کارروائیوں سے متعلق تجربات چین کی دلچسپی کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان پر ممکنہ اثرات: چین امریکا کشیدگی ہمارے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
⚖️ کیمپ سیاست اور سفارتی توازن
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تصادم کی صورت میں پاکستان پر کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کا شدید دباؤ آئے گا، جبکہ اسلام آباد دونوں اطراف سے تجارتی و سیکیورٹی تعلقات برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔
🛡️ بھارتی عسکری پوزیشننگ اور دفاع
چین پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکا کی جانب سے بھارت کو بحرِ ہند اور کواڈ (QUAD) میں مرکزی کردار ملنے سے جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک روایتی و جوہری توازن میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
⚓ گوادر اور سی پیک کی غیر معمولی اہمیت
اگر آبنائے ملاکا پر خطرات بڑھے تو چین کے لیے خلیجی توانائی حاصل کرنے کی خاطر پاکستان کا گوادر پورٹ اور سی پیک روٹ ناگزیر متبادل لائف لائن بن کر ابھرے گا۔
📈 معاشی و برآمدی چیلنجز
امریکا پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے جبکہ چین انفراسٹرکچر اور قرضوں کی ری فنانسنگ کا مرکز؛ کشیدگی کے نتیجے میں دونوں اقتصادی چینلز پر منفی اثرات کا خطرہ موجود رہے گا۔
حتمی تجزیہ: پاکستان کا مفاد بڑی طاقتوں کے درمیان ثالثی اور تناؤ میں کمی میں ہے، کیونکہ بلاک بندی سے ترقیاتی منصوبے سست اور خطے کے سلامتی چیلنجز مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
روس کا Caspian Sea Monster
سوویت دور میں تیار کیا گیا ’ایکرانوپلان‘ طیارے اور بحری جہاز کا امتزاج تھا، جو پانی کی سطح سے چند میٹر اوپر تیزی سے سفر کر سکتا تھا۔
اس کی غیر معمولی ساخت اور کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت نے اسے عسکری تاریخ کا منفرد منصوبہ بنا دیا۔
Houthis show 'expulsion of Saudi enemy gatherings' from Jabal Han, west of Taiz city in Yemen https://t.co/w3c782dC9l
— RT (@RT_com) October 20, 2026
اگر چین اس نوعیت کی ٹیکنالوجی اور متعلقہ روسی ماہرین سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتا ہے تو مستقبل میں تیز رفتار فوجی نقل و حمل کے نئے امکانات سامنے آ سکتے ہیں۔
لیکن فی الحال اسے چین کے پاس موجود عملی ہتھیار قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ایک ممکنہ تکنیکی راستہ ہے، ثابت شدہ جنگی صلاحیت نہیں۔
🌍
اگلا بڑا محاذ کہاں؟ تائیوان، مشرقِ وسطیٰ یا جنوبی ایشیا؟
جائزہ
🏝️ تائیوان: عالمی سپر پاورز کا براہِ راست ٹکراؤ
تائیوان پر کشیدگی سب سے زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے کیونکہ یہاں دو بڑی ایٹمی طاقتیں (چین اور امریکا) مدمقابل ہوں گی، جس کے اثرات پوری عالمی معیشت اور چپ انڈسٹری پر پڑیں گے۔
⛽ مشرقِ وسطیٰ: ہرمز اور باب المندب کی بندش
ایران، امریکا کشیدگی اور یمن میں حوثی سرگرمیاں عالمی توانائی کے راستوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، جہاں کسی بھی اشتعال انگیزی سے تیل 120 ڈالر فی بیرل عبور کر سکتا ہے۔
⚡ جنوبی ایشیا: پاک بھارت ایٹمی ڈیٹرنس
کشمیر تنازع اور دہشت گردی کے الزامات کے باعث روایتی خطرہ موجود رہتا ہے، مگر دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی توازن نے اب تک بڑی مکمل جنگ کے خطرے کو روکے رکھا ہے۔
🧭 حتمی نتیجہ: بیک وقت کثیر جہتی تنازعات
دنیا کسی ایک معرکے کے بجائے متعدد ہائبرڈ محاذوں کے گھیرے میں ہے، جہاں ڈرونز، سائبر حملے اور معاشی ناکہ بندیاں روایتی میدانِ جنگ سے زیادہ سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔
خطرات: مشرقِ وسطیٰ تا جنوبی ایشیا
عالمی کشیدگی کی تصویر صرف تائیوان تک محدود نہیں، بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان 2026ء میں جنگ اور بعد ازاں جنگ بندی کی کوششوں کے باوجود جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز کے معاملات حل طلب ہیں۔
پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اُدھر یمن میں بھی حالات خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں۔
اکتوبر 2026ء میں حوثیوں کے حملوں اور سعودی کارروائیوں کے بعد تنازع میں شدت آئی ہے، جبکہ آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر کے تجارتی راستوں کو خطرات لاحق ہیں۔
🔴 BREAKING: The Saudi-led coalition in Yemen intercepted and destroyed a drone over Saudi Arabia’s Riyadh region, coalition spokesman Major General Turki al-Malki says in a post on X. https://t.co/TR7IoGG8CB
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 20, 2026
پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جوہری ہتھیاروں کی موجودگی، کشمیر اور سرحدی تنازعات کے باعث کسی بحران کے بڑے تصادم میں بدلنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کو افغانستان سے سرحدی دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات میں پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال ہونے کے خطرات لاحق ہیں۔
تاہم مبصرین کے مطابق ہر کشیدگی کو فوری جنگ قرار دینا درست نہیں، بلکہ سفارت کاری، جنگ بندی اور مذاکرات بھی عالمی سیاست ہی کا حصہ ہیں۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ چین کی جنگی تیاریوں کے 4 ممکنہ نتائج
»
🚢 1۔ مکمل ناکہ بندی کی حکمت عملی (Quarantine)
براہِ راست خونریز زمینی حملے کے بجائے چین تائیوان کی بندرگاہوں اور فضائی راستوں کی خاموش ناکہ بندی کر سکتا ہے تاکہ جزیرے کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔
🛡️ 2۔ بغیر جنگ کے ڈیٹرنس کا قیام
ہائپرسانک میزائلوں اور جدید ڈرونز کے مظاہرے سے امریکا کو اس حد تک دباؤ میں لانا کہ واشنگٹن تائیوان کی فوجی مدد کو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا سمجھ کر دستبردار ہو جائے۔
💻 3۔ ہائبرڈ و سائبر وارفیئر کا حملہ
تائیوان کے بجلی کے گرڈز، انٹرنیٹ کیبلز اور مواصلاتی نظام کو سائبر حملوں سے مفلوج کر کے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا کنٹرول بغیر فائرنگ کیے توڑا جا سکتا ہے۔
🤝 4۔ طویل مدتی سفارتی اور اقتصادی دباؤ
امریکی انتخابات اور یوکرین بحران کی الجھنوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین عالمی معیشت میں اپنا وزن بڑھائے گا تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ تائیوان کا انضمام پرامن طریقے سے ممکن ہو۔
چین کس جنگ کی تیاری کررہا ہے؟
چین کی حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ صرف ہتھیار جمع نہیں کر رہا، بلکہ جنگ کے بدلتے طریقوں کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
یوکرین نے اسے ڈرونز، الیکٹرانک جنگ، رسد کے تحفظ اور جدید میزائلوں سے نمٹنے کے عملی اسباق فراہم کیے ہیں، جبکہ روس کے ساتھ تعاون اسے بعض فوجی تجربات تک رسائی دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تائیوان پر حملہ آسان نہیں ہوگا۔ سمندر عبور کرنا، رسد برقرار رکھنا، فضائی اور بحری مزاحمت کا سامنا کرنا اور امریکی مداخلت کے امکانات کو مدنظر رکھنا چین کے لیے بڑے چیلنج ہوں گے۔
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ کا فیصلہ صرف فوجیوں کی تعداد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، معلومات، رفتار اور حکمت عملی بھی کرتی ہے۔
چین اس نئی دوڑ میں طاقتور حریف بن کر ابھر رہا ہے، مگر اصل امتحان اس وقت ہوگا جب اس کی تیاریوں کو حقیقی میدانِ جنگ میں آزمایا جائے گا۔