⚡
فیکٹ باکس: بغیر کلک کیے ہیکنگ کا پورا کھیل
زیرو کلک ٹیکنالوجی کیا ہے؟
یہ ایسا سائبر حملہ ہے جس میں صارف کو کسی لنک کو چھونے یا فائل اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف ڈیوائس پر اشتہار کا لوڈ ہونا ہی وائرس یا اسپائی ویئر کے داخلے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
مبینہ اسپائی ویئر اور شراکت دار
سٹیزن لیب کے مطابق اسرائیلی اشتہاری کمپنی 'ڈسکور ٹیک' کے نظام کو تجارتی جاسوسی سافٹ ویئر 'کینڈیرو' کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جانے کے شواہد ملے ہیں، تاہم حتمی حملہ آور کا تعین تاحال مکمل نہیں۔
حملے کا وسیع پھیلاؤ
یہ اشتہاری جال 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور 75 ہزار ایپس پر پھیلا ہوا تھا۔ ان اشتہارات کی رسائی اقوام متحدہ، نیٹو اور بڑی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے داخلی نیٹ ورکس تک دیکھی گئی۔
عالمی پلیٹ فارمز کا ردعمل
تحقیق منظرِ عام پر آتے ہی گوگل نے متعلقہ اشتہاری کمپنی کو اپنے ایڈ ایکسچینج سے نکال باہر کیا، جبکہ آئی اے بی یورپ سمیت دیگر مجاز اداروں نے بھی اس کے اکاؤنٹس اور تجارتی رسائی معطل کردی ہے۔
انٹرنیٹ پر کوئی اشتہار دیکھنا بظاہر معمول کی بات ہے، لیکن اگر یہی اشتہار کسی ہیکر کے لیے آپ کے موبائل یا کمپیوٹر تک پہنچنے کا راستہ بن جائے تو؟
مزید پڑھیں
ایک نئی سائبر سیکیورٹی تحقیق نے آن لائن اشتہارات کے ایسے ممکنہ غلط استعمال کا انکشاف کیا ہے، جس میں صارف کو کسی لنک پر کلک کرنے یا فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔
اشتہار سے جاسوسی تک سفر
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے وابستہ تحقیقی ادارے سٹیزن لیب اور امریکی کمپنی کنفیئنٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اشتہاری
کمپنی ڈسکور ٹیک کے نظام کو مبینہ طور پر جاسوسی سافٹ ویئر کے ہدف بنائے گئے آلات تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
آن لائن اشتہارات سے جاسوسی: بغیر کلک سائبر حملہ
صارف کے کسی عمل کے بغیر آلات میں خفیہ نقب زنی اور حساس اداروں تک ہیکنگ کے نئے سائنسی انکشافات
بغیر کلک جاسوسی حملہ 🛡️
تحقیق کے مطابق پہلی بار تجارتی اشتہاری نیٹ ورک کو کسی فائل یا لنک پر کلک کیے بغیر فون ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
متاثرہ ویب سائٹس کا دائرہ 🌐
مشکوک اشتہارات ایک لاکھ سے زائد انٹرنیٹ پورٹلز تک پہنچے جن میں سرکاری اداروں اور اقوام متحدہ کے نیٹ ورکس بھی شامل تھے۔
موبائل ایپلی کیشنز کا گھیراؤ 📱
ہزاروں موبائل ایپس کے اشتہاری نظام کے ذریعے صارفین کی لوکیشن اور موبائل شناختی ڈیٹا کو خفیہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
گوگل کا تادیبی ایکشن 🚫
شواہد سامنے آنے پر گوگل اور یورپی اشتہاری اداروں نے ملوث اسرائیلی کمپنی کے اشتہارات کو اپنے پلیٹ فارمز سے فوری بلاک کر دیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
تحقیق میں اس سرگرمی کا تعلق اسرائیلی کمپنی کینڈیرو کے تیار کردہ جاسوسی سافٹ ویئر سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ میں اسے صفر کلک حملے (Zero-click) کے ذریعے تجارتی جاسوسی سافٹ ویئر پہنچانے کی پہلی عوامی طور پر دستاویزی مثال قرار دیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہر حملے کے پیچھے موجود حتمی فریق کی شناخت ثابت نہیں ہوتی۔
سائبر الرٹ
اہم نکات: اشتہار کب جاسوسی کا ہتھیار بن جاتا ہے؟
+
بنیادی میکانزم: ریئل ٹائم بولی کا غلط استعمال
جب کوئی صفحہ کھلتا ہے تو ملٹی پل ایڈ ایکسچینجز پر ملی سیکنڈز میں ڈیجیٹل بولی لگتی ہے۔ اس دوران صارف کا IP ایڈریس، ڈیوائس کا ماڈل اور براؤزر کی خامیاں ناپی جاتی ہیں، جس سے حملہ آور کو مخصوص ہدف کو بدنیتی پر مبنی کوڈ بھیجنے کا راستہ مل جاتا ہے۔
🔍 شناخت اور ہدف کا تعین
یہ حملہ ہر فرد کے لیے نہیں بلکہ مخصوص IP ایڈریسز، صحافیوں اور سرکاری اداروں کے نیٹ ورکس کو چھانٹنے کے بعد صرف طے شدہ نشانے پر حملہ آور کوڈ بھیجتا ہے۔
🛡️ سسٹم کا اندرونی نقص
سافٹ ویئر میں موجود نامعلوم سیکیورٹی کمزوریوں کو استعمال کرکے سیکیورٹی پروٹیکشن کو بائی پاس کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے روایتی اینٹی وائرس بھی بروقت خبردار نہیں کر پاتے۔
لاکھوں صارفین کا ڈیٹا نشانے پر
آن لائن دنیا میں ہر لمحے صارفین کی دلچسپیوں کے مطابق اشتہارات دکھانے کے لیے ڈیجیٹل نیلامی ہوتی ہے۔
اس عمل میں آئی پی ایڈریس، موبائل کی اشتہاری شناخت اور دیگر تکنیکی معلومات استعمال ہو سکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہارات 1 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ویب سائٹس اور 75 ہزار ایپس تک پہنچے۔
🚨NEW INVESTIGATION: zero-click mercenary spyware hacking via targeted ads. A normal-looking ad loads. If you're a target, you're infected. No click needed. To protect yourself, block ads now. First time it's been confirmed in the wild. We call it #AdFection. Candiru spyware infections at @AJEnglish. 45+ devices infected. Same ad pipeline operated by Israeli company Discover-Tech reached NATO, European Parliament, dozens of gov networks & critical infrastructure incl US nuclear giant Westinghouse. Confiant, which worked with us, found signs ads were displayed at US @DeptofWar, IAEA & ICC. Investigation ongoing 1/ READ our report by @billmarczak @WolfieChristl, me Astrid Perry, Siena Anstis & Ron Deibert : https://t.co/kU2kFMTqjY Confiant's blog: https://t.co/pX8CWAKxTi
— John Scott-Railton (@jsrailton) October 15, 2026
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ سرگرمی صرف عام صارفین تک محدود نہیں تھی۔
محققین نے اقوام متحدہ، نیٹو، بعض سرکاری اداروں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے منسلک نیٹ ورکس میں بھی ایسے اشتہارات کی موجودگی کی نشاندہی بھی کی ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہے کہ اشتہارات دکھائی دینے اور یقینی طور پر کسی آلے کے ہیک ہونے میں فرق ہے۔ حالیہ تحقیق میں جاسوسی کا ذکر ہے، مگر ہر صارف کو نشانہ بنائے جانے کا ثبوت موجود نہیں۔
پاکستان پر اثرات: کیا آپ کا موبائل بھی خطرے میں ہے؟
📱 عام پاکستانی صارف کی صورتِ حال
عام صارفین کے اندھا دھند فون ہیک ہونے کا خطرہ انتہائی کم ہے کیونکہ کمرشل اسپائی ویئر مہنگے ہوتے ہیں اور مخصوص افراد کو ہی نشانہ بناتے ہیں؛ البتہ ایڈز کے ذریعے لوکیشن اور ڈیٹا کی لیکیج ہر ڈیوائس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
🎯 حساس شعبہ جات کے لیے خطرہ
پاکستانی صحافی، دفاعی و سفارتی اہلکار اور سرکاری اداروں سے منسلک افراد کو زیرو کلک مہمات سے مستقل خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر ان کے آلات کا آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ نہ ہو۔
بچاؤ کا عملی مشورہ: اینڈرائیڈ یا آئی فون کے تمام سیکیورٹی پیچز فوری انسٹال کریں، براؤزر میں ٹریکنگ پروٹیکشن فعال رکھیں اور مشکوک و غیر مصدقہ ایپس کو فوری ڈیلیٹ کریں۔
گوگل نے کیا قدم اٹھایا؟
یہ تحقیق سامنے آنے کے بعد گوگل نے ڈسکور ٹیک کو اپنے اشتہاری نظام سے نکال دیا ہے۔
اشتہاری صنعت کی یورپی تنظیم آئی اے بی یورپ نے بھی کمپنی کو اپنی منظور شدہ اداروں کی فہرست سے خارج کردیا، جبکہ دیگر اشتہاری پلیٹ فارمز نے بھی اس کی رسائی محدود یا معطل کی۔
یہ کارروائیاں اس لیے اہم ہیں کہ عام صارف کسی اشتہار کو دیکھ کر اس کے پیچھے موجود تکنیکی نظام یا کمپنیوں کی جانچ نہیں کر سکتا، جبکہ بظاہر معمول کے اشتہار کے ذریعے بھی نگرانی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
🌍
عالمی منظرنامہ: اشتہارات سے سائبر جاسوسی تک کا نیٹ ورک
▼
تحقیقی اداروں کا انکشاف
کینیڈا کی سٹیزن لیب اور کنفیئنٹ نے دستاویزی ثبوت دیے کہ تجارتی اشتہاری نیٹ ورکس کس طرح حساس ریاستی تنصیبات تک ہیکنگ ٹولز لے جانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
عالمی اداروں کے نیٹ ورکس میں موجودگی
اقوام متحدہ اور نیٹو جیسے بڑے سیکیورٹی و سفارتی اتحادوں کے نیٹ ورکس میں بھی ایسے اشتہارات کی نشاندہی ہوئی ہے، جس نے بین الاقوامی سیکیورٹی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تجارتی جاسوسی کی بلیک مارکیٹ
پیگاسس کے بعد اب مختلف نجی کمپنیاں ایسے جدید طریقے مارکیٹ کر رہی ہیں جن میں باقاعدہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور اشتہاری منڈی کو ریاستوں اور خریداروں کے لیے ہتھیار بنایا جاتا ہے۔
پاکستانی صارفین اپنے موبائل کیسے محفوظ رکھیں؟
صفر کلک حملوں سے مکمل تحفظ کا کوئی آسان نسخہ موجود نہیں ہے، تاہم چند احتیاطی طریقے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔
We show that Discover-Tech ads were shown on devices in national-security-sensitive networks around the world. Numerous ministries of defense, armed forces, cyber agencies, IGOs, multilateral security orgs, including NATO, the UN, and critical infrastructure https://t.co/tketK6AG4z
— profdeibert (@RonDeibert) October 15, 2026
اس کے لیے صارفین کو چاہیے کہ موبائل اور کمپیوٹر کا آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ رکھیں، غیر ضروری ایپلی کیشنز ہٹا دیں، اشتہاری نگرانی محدود کریں اور قابل اعتماد سیکیورٹی ٹولز استعمال کریں۔
صحافیوں، سرکاری اہلکاروں اور حساس معلومات رکھنے والے افراد کو اپنے آلات کی سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
🔭
اب آگے کیا ہوگا؟ ڈیجیٹل اشتہارات پر شکنجہ کتنا سخت ہوگا؟
»
بنیادی تبدیلی: ایڈ ٹیک کمپنیوں کی احتسابی جانچ
تحقیق سامنے آنے کے بعد یورپی یونین، ریگولیٹری باڈیز اور بگ ٹیک کمپنیوں کی جانب سے تھرڈ پارٹی اشتہاری نیٹ ورکس پر کنٹرولز مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے تاکہ نامعلوم بروکرز ڈیٹا نیلامی کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔
⚖️ سخت ضوابط اور جانچ پڑتال
ڈیجیٹل اشتہاری پلیٹ فارمز کو اپنی سیکیورٹی تصدیق کو لازمی بنانا پڑے گا، اور صرف سرٹیفائیڈ بروکرز کو ہی نیلامی سسٹم میں شرکت کی اجازت مل سکے گی۔
🔒 براؤزر پروٹیکشن میں انقلابی تبدیلیاں
گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ کی جانب سے براؤزرز میں ریئل ٹائم رینڈرنگ پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں تاکہ کسی اشتہار کا سکرپٹ بغیر کلک آلے تک نہ پہنچ سکے۔
مشکوک سرگرمی کی صورت میں ماہرین سے آلے کی جانچ کرانا ضروری ہے، کیونکہ جاسوسی سافٹ ویئر بعض اوقات صارف کو واضح علامات دکھائے بغیر بھی کام کر سکتا ہے۔
یاد رکھیں کہ اصل خطرہ صرف اشتہار نہیں، بلکہ وہ پورا نظام ہے جو صارف کی شناخت اور اس کے آلے تک رسائی کو ممکن بناتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حال ہی میں بڑے اداروں کے آلات کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ بھی اسی بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ صرف صارف کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اشتہاری کمپنیوں، ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور نگران اداروں کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔