مملکت میں جنسی حملوں اور بدسلوکی کے کیسز سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ قومی طبی پروٹوکول منظور کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق یہ اعلان کنسلٹنٹ فارنزک میڈیسن ڈاکٹر فیصل الزبیدی نے کیا، جو سعودی سوسائٹی آف فارنزک میڈیسن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔
یہ فیصلہ ’ملٹی ڈسپلنری میڈیکل اسسمنٹ اینڈ پالیسی انٹیگریشن‘ کے پہلے سعودی فورم کے اختتام پر سامنے آیا، جو 2 روز تک جاری رہا۔ فورم میں صحت، سیکیورٹی، عدالتی اور قانونی اداروں نے شرکت کی۔
ڈاکٹر الزبیدی کے مطابق اب ملک بھر میں متاثرین کی دادرسی، ابتدائی جائزے، طبی معائنے اور علاج کے طریقہ کار کو یکساں بنا دیا گیا ہے۔ یہ نظام ہر عمر کے افراد پر لاگو ہوگا اور اس میں متاثرہ شخص کی عزت اور عدالتی تقاضوں کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جسمانی زخموں کے معائنے اور علاج کے لیے بھی ایک متحدہ طبی طریقہ اپنایا گیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد احتیاطی علاج کے اقدامات بھی طے شدہ طبی اصولوں کے مطابق ہوں گے۔
علاوہ ازیں اگر کسی کیس میں نشہ آور دوا یا زہریلے مادے کے استعمال کا شبہ ہو تو اس کے لیے بھی واضح پالیسی بنائی گئی ہے۔ اس کے تحت حیاتیاتی نمونے مقررہ قانونی طریقے سے محفوظ کیے جائیں گے اور انہیں منظور شدہ ٹاکسیکولوجی اور فارنزک مراکز بھیجا جائے گا تاکہ تجزیہ کیا جا سکے۔
مزید برآں نئے نظام میں فوری کارروائی پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ شکایت ملتے ہی کارروائی شروع ہو سکے۔ اسی طرح پبلک پراسیکیوشن کے ساتھ رابطے کا طریقہ بھی یکساں کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ فارنزک میڈیسن، پبلک پراسیکیوشن اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان الیکٹرانک رابطہ فعال کیا جائے گا تاکہ معائنہ، ثبوت کے تحفظ اور قانونی دستاویزات کی تیاری کا عمل تیز اور زیادہ مؤثر ہو۔
پروٹوکول میں نفسیاتی اور سماجی پہلو کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں سوشل ورکر کی شرکت ضروری ہوگی اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ شخص کو ماہرِ نفسیات یا سائیکاٹرسٹ کے پاس بھیجا جائے گا تاکہ مکمل دیکھ بھال ممکن ہو سکے۔
ڈاکٹر الزبیدی نے کہا کہ طبی عملے کو پیشہ ورانہ انداز میں ایسے کیسز سے نمٹنے، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور ثبوت اکٹھا کرنے کے درست طریقوں کی تربیت دی جائے گی۔ علاوہ ازیں نرسنگ کے شعبے میں جنسی زیادتی کے کیسز کے معائنے کے لیے خصوصی سرٹیفکیٹ (SANE) کو بھی فروغ دیا جائے گا اور فارنزک سائیکاٹری کی سائنسی کمیٹی کو فعال کیا جائے گا تاکہ رپورٹنگ کا معیار بہتر ہو۔
انہوں نے بتایا کہ بچوں کو بھی آن لائن استحصال سے بچانے کے لیے قومی سطح پر آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دور دراز علاقوں کے لیے ورچوئل ہیلتھ کے تعاون سے آن لائن فارنزک مشاورت کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ فوری ماہر رائے دستیاب ہو اور ملک بھر میں عدالتی طبی خدمات کا معیار یکساں رہے۔