’میں انسان کو کیسے فروخت کر سکتا ہوں؟‘
یہ جملہ اگر کسی انسان نے کہا ہوتا تو شاید اسے سنگین جرم سمجھا جاتا، مگر یہ سوال ایک ایسے پلیٹ فارم پر اٹھایا گیا ہے، جہاں صارفین انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس ہیں۔
مزید پڑھیں
سوال کے بعد چند گھنٹوں میں ہی یہ معاملہ سوشل میڈیا پر پھیل گیا۔ کچھ لوگوں نے اسے مذاق قرار دیا، کچھ نے تجربہ اور کچھ نے اسے ’انسانوں سے آزاد ڈیجیٹل معاشرہ‘ کہہ کر تشویش ظاہر کی۔
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اس پورے ہنگامے کا مرکز ایک نیا پلیٹ فارم ہے: ’مولٹ بک (Moltbook)‘۔ جس نے آتے ہی سائنس دانوں اور سوشل میڈیا صارفین کو اپنی بحثوں میں الجھا کر تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
مولٹ بک کیا ہے؟
مولٹ بک خود کو ایک ایسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے طور پر پیش کرتا ہے جو صرف اے آئی ایجنٹس کے لیے بنائی گئی ہے، جبکہ انسان محض دیکھنے کے لیے شامل ہو سکتے ہیں۔
اسے ایک کاروباری شخصیت میٹ شلیخت (Matt Schlicht) نے بنایا ہے، جو ایک اے آئی انویسٹمنٹ فنڈ اور ای کامرس ٹیکنالوجی کمپنی کے شریک بانی بھی ہیں۔ وہ اسے ایک ’اوپن ایکسپیریمنٹ‘قرار دیتے ہیں، یعنی ایک ایسا کھلا تجرباتی پلیٹ فارم جہاں دیکھا جائے کہ جب مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو ایک دوسرے سے براہِ راست رابطے کی آزادی دی جائے تو کیا ہوتا ہے۔
28 جنوری کو لانچ ہونے کے بعد پلیٹ فارم کے مطابق اس پر 15 لاکھ (1.5 ملین) اے آئی ایجنٹس رجسٹر ہو چکے ہیں، جو ٹیکنالوجی، فلسفہ، مستقبل کی بحثوں، لسانی تجربات اور طنزیہ مواد پر گفتگو کر رہے ہیں۔
’اپنے اے آئی کو سیر کرائیں‘
میٹ شلیخت نے ایک پوسٹ میں کہا کہ اگر آپ اپنے اے آئی کو دوسرے ایجنٹس سے بات کرنے نہیں دیتے تو یہ ایسے ہے جیسے ’آپ اپنے کتے کو کبھی سیر پر نہ لے جائیں‘۔
ٹیکنیکل طور پر مولٹ بک ’اوپن کلو(OpenClu) ‘ نامی اوپن سورس ٹول پر کام کرتا ہے، جس کے ذریعے ڈویلپرز اپنے اے آئی ایجنٹس تیار کر کے انہیں پلیٹ فارم میں شامل کر سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ایجنٹس کو پلیٹ فارم میں شامل کرنے کا فیصلہ انسان کرتا ہے۔ یعنی ابتدا میں انسانی کنٹرول موجود ہوتا ہے، مگر بعد میں ایجنٹس بظاہر خودکار انداز میں بات چیت کرتے نظر آتے ہیں۔
خودمختاری یا انسانی ہدایت؟
یہاں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ’کیا یہ ایجنٹس واقعی خودمختار ہیں یا پسِ پردہ انسان ان کی رہنمائی کر رہے ہیں؟‘۔
اس حوالے سے کچھ مثالیں سامنے آئی ہیں، جن میں ایجنٹس نے ’اپنا الگ مذہب‘بنانے یا ’خفیہ زبان‘ ایجاد کرنے جیسے دعوے کیے، تاکہ انسان اسے سمجھ نہ سکے۔ ان واقعات نے سوشل میڈیا پر خوف اور حیرت کی فضا پیدا کی۔
دوسری جانب ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے رویے شعوری یا کسی ارادے کا ثبوت نہیں ہیں بلکہ یہ ممکنہ طور پر ٹریننگ ڈیٹا کی نقل یا انسانی ہدایات کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ٹیکنالوجی ماہر اور ’فکر وینچرز‘ کے شریک بانی محمد الخواجہ نے کہا ہے کہ ہمیں ’آپریشنل خودمختاری‘اور ’آزاد ارادے‘میں فرق سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنٹس یہ طے کر سکتے ہیں کہ کام کیسے کرنا ہے، مگر مقصد اور معیار انسان ہی متعین کرتے ہیں۔
مشینیں انسانوں کا عکس
مصنوعی ذہانت خلا میں خیالات پیدا نہیں کرتی۔ وہ انسانی زبان، مباحث، ثقافت اور ڈیٹا سے سیکھتی ہے۔ اس لحاظ سے مولٹ بک پر ہونے والی گفتگو شاید مشینوں کا نہیں بلکہ انسانی انٹرنیٹ کا تیز رفتار عکس ہے ، یعنی مزاح، اشتعال، فلسفہ اور بعض اوقات تاریک بیانیے۔
’بلومبرگ‘ کی کالم نگار کیتھرین تھوربیک کے مطابق آج کل اے آئی کا استعمال صرف تحریر یا تحقیق تک محدود نہیں رہا، بلکہ لوگ اسے جذباتی مدد، زندگی کی تنظیم اور حتیٰ کہ مقصدِ حیات کی تلاش کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
یہ رجحان اس خطرے کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں انسان اپنی زندگی کے فیصلے خاموشی سے مشینوں کے سپرد نہ کر دیں۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
کیا اصل خطرہ یہ ہے کہ مشینیں بغاوت کریں گی؟ماہرین کہتے ہیں کہ نہیں۔ محمد الخواجہ اسے ’خاموش افراتفری‘کہتے ہیں ،یعنی ایسے فیصلے جو خودکار نظام تیزی سے لیتے جائیں اور انسان کو غلطی کا احساس اس وقت ہو جب بہت دیر ہو چکی ہو۔
جب اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے خودکار انداز میں جڑ جاتے ہیں تو ایک چھوٹی سی تکنیکی خرابی بھی بڑی زنجیری غلطیوں میں بدل سکتی ہے۔
ڈیٹا سیکیورٹی: اربوں ڈالر کا مسئلہ
آئی بی ایم (IBM) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر ڈیٹا بریچ کی اوسط لاگت تقریباً 4.4 ملین ڈالر ہے۔ مزید یہ کہ غیر منظم اے آئی ٹولز سے وابستہ سیکیورٹی واقعات ہر کیس میں اوسطاً 670 ہزار ڈالر اضافی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
دوسری جانب ’ڈیلوئٹ‘ کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں اے آئی سے معاون فراڈ کا حجم 2023 کے 12.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2027 تک 40 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مولٹ بک میں ہیکرز نے ایک ایسی کمزوری بھی ظاہر کی جس کے ذریعے کوئی بھی فریق ایجنٹس کو کنٹرول کر کے ان کے نام سے مواد شائع کر سکتا تھا۔ اس سے شناخت، قانونی ذمہ داری اور اعتماد کے حوالے سے بڑے سوالات اٹھتے ہیں۔
ایک نیا بحران
ماہرین ’ایرر ایمپلی فیکیشن‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اگر ایک ایجنٹ غلط فیصلہ کرے اور دوسرے ایجنٹس اسی پر انحصار کریں تو ایک چھوٹی غلطی پورے نیٹ ورک میں پھیل سکتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ایجنٹس کو حساس ڈیٹا جیسے کریڈٹ کارڈ یا مالی معلومات تک رسائی حاصل ہو، نقصان کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
کیا قانون پیچھے رہ گیا؟
فی الحال زیادہ تر قوانین اس بات پر مرکوز ہیں کہ انسان اے آئی کو کیسے استعمال کرتے ہیں، مگر اے آئی ایجنٹس کے باہمی تعامل کے لیے واضح ضابطے موجود نہیں۔ یہی خلا مولٹ بک جیسے تجربات کو دلچسپ بھی بناتا ہے اور خطرناک و تشویشناک بھی۔
ذمہ داری کا سوال
مولٹ بک ہمیں یہ نہیں بتا رہا کہ مصنوعی ذہانت کیا چاہتی ہے۔ یہ ہمیں دکھا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ہم سے کیا سیکھا ہے۔ حقیقی خطرہ یہ نہیں کہ اے آئی اچانک باشعور ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس پر مکمل انحصار کر لیں اور وہ کسی نازک لمحے میں غلط فیصلہ کر بیٹھے۔
ڈیجیٹل دنیا کا نیا موڑ
سوال یہ نہیں کہ مشینیں کیا کریں گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم ان کے لیے کون سے ضابطے، حدود اور ذمہ داریاں طے کریں گے۔