شمالی سوڈان کا صحرائے بیوضہ طویل عرصے تک ایک ویران اور نظر انداز خطہ سمجھا جاتا رہا ہے مگر اب یہی علاقہ ممکنہ طور پر قومی معیشت کا نیا ستون بننے جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق حالیہ ارضیاتی سروے اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے یہاں لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements) کی موجودگی کے امکانات پر سنجیدہ توجہ دی جا رہی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہی معدنیات آج کی دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں، اسمارٹ فونز اور قابلِ تجدید توانائی کے نظاموں کا بنیادی جزو ہیں۔
اگر یہ ذخائر تصدیق شدہ مقدار میں دریافت ہو جاتے ہیں تو یہ سوڈان کے لیے سالانہ اربوں ڈالر کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور ملک کو عالمی توانائی و ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل کر سکتے ہیں۔
اسٹریٹیجک معدنیات
سوڈان کے وزیرِ معدنیات نور الدائم طہ نے اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ ملک اب اسٹریٹیجک معدنیات اور صاف توانائی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہائیوں تک سونے پر انحصار کرنے کے بعد اب عالمی معیشت کا محور صنعتی اور اسٹریٹیجک معدنیات بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ریموٹ سینسنگ پراجیکٹ سونے کے ساتھ ساتھ لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب ارضی عناصر کی تلاش پر مرکوز ہے، جبکہ سوڈان کے پاس ایسے مضبوط اشارے موجود ہیں جو اسے عالمی معدنی معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
کیا سونا اب ترجیح نہیں رہا؟
نور الدائم طہ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا سونے سے آگے بڑھ کر صنعتی اور توانائی سے متعلق معدنیات کی طرف جا چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معدنیات اب سیاسی اور معاشی اتحادوں کا محور بن چکی ہیں۔ سوڈان کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ اس بدلتے منظرنامے میں اپنی جگہ بنائے۔ انہوں نے جیولوجیکل ریسرچ اتھارٹی کو معدنی شعبے کا ’دل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی تحقیق کے بغیر سرمایہ کاری قومی وسائل کے ضیاع کے مترادف ہو گی۔
جیولوجیکل ریسرچ اتھارٹی کا کردار
برسوں سے نظر انداز کیے جانے کے بعد متعلقہ وزارت نے اب جامع جیولوجیکل سروے کے لیے بڑا بجٹ مختص کیا ہے۔ اس حوالے سے اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور ماہرِ ارضیات احمد ہارون التوم نے بتایا کہ ایک مکمل جیولوجیکل اور جیوکیمیکل نقشہ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ معدنی ذخائر کی درست نشاندہی اور مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف قومی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ آئندہ تعمیرِ نو کے مرحلے میں بھی بنیادی کردار ادا کرے گا۔
معاشی تبدیلی
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم سوڈان کے لیے ایک اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے، کیونکہ اب مقابلہ صرف سونے کے ذخائر تک محدود نہیں بلکہ اس دوڑ کا مرکز وہ معدنیات ہیں جو مستقبل کی توانائی اور صنعت کا تعین کریں گی۔
عالمی سطح پر لیتھیم اور کوبالٹ کے لیے بڑھتی طلب کے تناظر میں بیوضہ کو عالمی سپلائی چین کا ممکنہ حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے سوڈان علاقائی سطح پر قابلِ تجدید توانائی اور صاف ٹیکنالوجی کا مرکز بن سکتا ہے۔
صحرائے بیوضہ کی جغرافیائی اہمیت
بیوضہ شمالی سوڈان میں واقع ہے اور خرطوم کے شمال میں تقریباً 200 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر شروع ہوتا ہے۔ یہ علاقہ دریائے نیل کے مغرب میں المناصیر اور المربعات کے درمیان پھیلا ہوا ہے اور مغرب کی جانب الدبہ کے علاقوں تک جاتا ہے۔
تقریباً 100 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط یہ صحرا تین اطراف سے دریائے نیل کے خم سے گھرا ہوا ہے اور وادی ابو دوم اور وادی المقدم اسے تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے مشرقی حصے میں آتش فشانی میدان ہے جبکہ مغرب میں ریتلے میدانوں کے درمیان سیاہ چٹانی ابھار پائے جاتے ہیں، جو اسے ارضیاتی طور پر غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
تاریخی ورثہ
صحرائے بیوضہ کی اہمیت صرف معدنی ذخائر تک محدود نہیں۔ جون میں پولینڈ کے محققین نے یہاں ایک قدیم نمکین جھیل دریافت کی، جہاں سے نطرون نامی نایاب معدنی مادہ حاصل کیا گیا۔
نطرون، جو سوڈیم کاربونیٹ کی ایک قسم ہے، قدیم دور میں حنوط سازی اور شیشہ و سیرامک کی تیاری میں استعمال ہوتا تھا۔
یہ دریافت مصر کے وادی نطرون جیسے تاریخی مراکز سے تعلقات کو ازسرِ نو جانچنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ اس سے قدیم تجارتی راستوں کی نئی تفہیم سامنے آ سکتی ہے۔
1200 سے زائد آثارِ قدیمہ
پولینڈ کے نیشنل سائنس سینٹر کے منصوبے کے تحت محققین نے برسوں کی محنت کے بعد بیوضہ میں 1200 سے زیادہ نئے آثارِ قدیمہ کے مقامات کی نشاندہی کی، جن میں سے 400 سے زائد اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔
فوسل اور آثار قدیمہ کی دریافتوں سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ یہ علاقہ ہزاروں برس تک آباد رہا۔
فیصلہ کن موڑ
سوڈان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بیوضہ کے معدنی اور تاریخی ذخائر کو سائنسی حکمتِ عملی، شفاف گورننس اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ بروئے کار لایا گیا تو یہ اقتصادی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتا ہے۔
بصورتِ دیگر غفلت اور تاخیر اس موقع کو ضائع کر سکتی ہے اور یہ صحرا عالمی اسٹریٹیجک معدنی نقشے سے باہر رہ جائے گا۔
ماہرین کے طمابق بیوضہ محض ایک صحرا نہیں بلکہ ایک ممکنہ معاشی اور تاریخی خزانہ ہے۔ لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب ارضی عناصر کی عالمی دوڑ میں اگر سوڈان دانشمندی سے قدم بڑھاتا ہے تو یہ خطہ مستقبل میں اربوں ڈالر کی آمدنی اور علاقائی اثر و رسوخ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔