خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی ہدایت پر آج جمعرات کو حرمین شریفین سمیت ملک بھر کی مساجد میں نماز استسقا پڑھی گئی ہے۔
نمازی صبح سویرے ہی مختلف شہروں میں قائم کردہ عیدگاہوں اور مساجد کا رخ کرنے لگے جہاں نمازِ استسقا کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے منظم انتظام اور نمازیوں کے استقبال کے لیے سہولیات فراہم کی گئیں۔
مزید پڑھیں
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حرمین شریفین سمیت تمام مساجد میں باران رحمت کے نزول کے لیے دعائیں کی گئیں اور خطبہ دیا گیا۔
مسجد الحرام میں نائب گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ سعود بن مشعل بن عبد العزیز کے علاوہ بڑی تعداد میں نمازیوں نے نمازِ استسقاء ادا کی جبکہ امامت و خطابت کے فرائض شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عواد الجہنی نے انجام دیے۔
شیخ عبد اللہ بن عواد الجہنی نے اپنے خطبے میں مسلمانوں کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کی تلقین کی اور اس بات پر زور دیا کہ تقویٰ اللہ کے عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے گناہوں اور معاصی سے خبردار کیا اور کہا کہ ان کے اثرات فرد اور معاشرے دونوں کی زندگی پر نہایت گہرے ہوتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گناہ امراض اور بیماریوں کے پھیلاؤ، دلوں میں تفرقہ، اجتماعیت کے بکھرنے، عزت و قوت کے زوال اور دشمنوں کے تسلط کا سبب بنتے ہیں، نیز یہ بارش کے رک جانے کے اسباب میں سے بھی ہیں۔
انہوں نے سچی توبہ، کثرتِ استغفار اور اللہ کی طرف رجوع کی دعوت دی۔
نماز استسقا کا دوسرا بڑا اجتماع مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف میں ہوا جہاں نمازِ استسقاء ادا کرنے میں گورنر مدینہ منورہ شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبد العزیز پیش پیش تھے۔
نماز کی امامت و خطابت شیخ عبدالباری الثبیٹی نے کی۔
انہوں نے اپنے خطبے میں مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کی اور کہا کہ تقویٰ ایامِ زندگی کا زادِ راہ، مصائب میں حفاظت اور کشادگی کا سبب ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب قحط طویل ہو جائے اور لوگ آسمان سے زندگی بخش ایک قطرہ کے منتظر ہوں تو اہلِ ایمان کو یاد آتا ہے کہ ان کا رزق صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور بارش کے خزانے اسی کے اختیار میں ہیں۔
اسی طرح ریاض شہر میں سب سے بڑا اجتماع جامع امام ترکی بن عبد اللہ میں ہوا جہاں گورنر ریاض شہزادہ فیصل بن بندر بن عبد العزیز نے بھی شرکت کی۔
نماز استسقا جدہ، جازان، قصیم، مشرقی ریجن، الجوف، الاحسا، دمام اور الخبر کے علاوہ تمام شہروں میں بھی ادا کی گئی۔