اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

العُلا میں عربی تیندوے کی افزائش و تحفظ کا پروگرام ، اُمید کا سفر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

سعودی عرب کی تاریخی وادی العُلا کا عربی تیندوے سے تعلق محض ماحولیاتی نہیں ہے بلکہ تہذیبی اور تاریخی سطح کا بھی ہے۔

ہزاروں سال پرانی چٹانی نقوش اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ نایاب جانور کبھی اس خطے کی قدرتی اور ثقافتی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ آج یہی خطہ جدید سائنسی اقدامات کے ذریعے اس معدومی کے خطرے سے دوچار مخلوق کو بچانے کی عالمی جدوجہد کی قیادت کر رہا ہے۔

نایاب ترین جانوروں میں شامل عربی تیندوا

عربی تیندوے (Arabian Leopard) کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے شدید خطرے سے دوچار انواع میں شامل کیا ہے۔

اس کی آبادی میں کمی کی بڑی وجوہات میں شہری پھیلاؤ، زرعی سرگرمیوں میں اضافہ، بے تحاشا چرائی، غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی اسمگلنگ شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل اس کے قدرتی مسکن کو محدود کرتے گئے، جس کے نتیجے میں اس کی بقا خطرے میں پڑ گئی۔

alula tigers 2
(فوٹو: واس)

رائل کمیشن برائے العُلا

اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے رائل کمیشن برائے گورنریٹ العُلا عربی تیندوے کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور سائنسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف اس جانور کی افزائش بلکہ اس کے قدرتی مسکن کی بحالی اور ماحولیاتی توازن کی بحالی بھی ہے۔

العُلا میں قائم یہ مرکز اس وقت دنیا کا واحد فعال ادارہ ہے جو خاص طور پر عربی تیندوے کی افزائش کے لیے مختص ہے۔

سن 2020ء میں اپنے قیام کے بعد اس مرکز نے بین الاقوامی معیار کے مطابق مختلف پروگرامز شروع کیے، جن کے نتیجے میں قید ماحول میں تیندووں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

alula tigers 4
(فوٹو: واس)

2024ء کی تاریخی کامیابی

دسمبر 2024ء میں عربی تیندوے کی تیسری مستند ولادت کا اعلان کیا گیا، جو گزشتہ 30 برس میں ایک اہم پیش رفت تھی۔

یہ پہلی بار تھا کہ سعودی عرب میں زیرِ نگرانی افزائشی پروگرام کے تحت ’ورد‘ اور ’باهر‘ نامی تیندووں کے ہاں جون 2024ء میں 3 بچوں، 2 نر اور ایک مادہ کی پیدائش ہوئی۔ یہ کامیابی اس سائنسی طریقۂ کار کی مؤثریت کا ثبوت ہے جو العُلا میں اپنایا جا رہا ہے۔

اُمید کی نئی کرن

العُلا میں جنگلی حیات کی بحالی کا منصوبہ محض افزائش تک محدود نہیں۔ اس کے تحت قدرتی چراگاہوں اور نباتاتی غلاف کی بحالی، قدرتی شکار کی اقسام کی افزائش کے ساتھ ساتھ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان متوازن بقائے باہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ان اقدامات کا مقصد ایک ایسی مربوط ماحولیاتی نظام کی تشکیل ہے جس میں عربی تیندوا دوبارہ اپنے قدرتی مسکن میں پنپ سکے۔

عربی تیندوے کا عالمی دن اور ’رحلة أمل‘ مہم

ہر سال 10 فروری کو منایا جانے والا عربی تیندوے کا عالمی دن اس نایاب نوع کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

اسی مناسبت سے رائل کمیشن نے ’رحلة أمل‘ (امید کا سفر) کے عنوان سے ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد مقامی کمیونٹی کو اس تحفظی مشن کا حصہ بنانا ہے۔

alula tigers 3
(فوٹو: واس)

کمیونٹی کی شمولیت اور عالمی شراکت

’رحلة أمل‘ مہم کے تحت متعدد عملی اقدامات کیے گئے، جن میں:
• ’دروب النمر العربي‘ پروگرام، جو کلب العُلا کے تعاون سے منعقد ہوا۔
• عوامی آگاہی سیشنز، جن میں افراد کو ماحولیاتی توازن میں اپنے کردار سے آگاہ کیا گیا۔
• بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری شامل ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر عربی تیندوے کے تحفظ کے لیے مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دینا ہے۔

رائل کمیشن برائے العُلا ان اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ عربی تیندوا محض ایک جانور نہیں بلکہ خطے کے حیاتیاتی تنوع کی علامت ہے۔ یہ وژن صرف ایک نوع کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کی بحالی اور انسان و فطرت کے درمیان ہم آہنگ تعلق کی تعمیر پر مبنی ہے۔

العُلا آج ایک ایسا ماڈل پیش کر رہا ہے جہاں ہزاروں سال پرانا ثقافتی ورثہ جدید ماحولیاتی سائنس سے جڑ کر مستقبل کی حفاظت کر رہا ہے۔

’رحلة أمل‘ اور افزائشی پروگرام اس بات کی مثال ہیں کہ اگر عزم، تحقیق اور کمیونٹی کی شمولیت یکجا ہو جائیں تو معدومی کے دہانے پر کھڑی انواع کو بھی نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ العُلا نہ صرف ماضی کی داستان سناتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور متوازن ماحول کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔