TrendX کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ ’سعودی ڈیجیٹلائزیشن 2026ء‘ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق مملکت نے کمیونی کیشن اور ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ انڈیکس میں دنیا میں پہلا، حکومتوں کی مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری کے اشاریے میں بھی پہلا، جبکہ ڈیجیٹل گورنمنٹ میچورٹی انڈیکس میں دوسرا مقام حاصل کیا ہے۔
سعودی عرب میں سرکاری الیکٹرانک خدمات (ای سروسز) کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور یہ 2024ء میں 2,416 سے بڑھ کر
2026ء میں 5,220 تک پہنچ گئی ہیں، جن میں بلدیات اور ہاؤسنگ کا شعبہ سب سے آگے رہا، جہاں 763 ڈیجیٹل خدمات فراہم کی گئیں۔ اسی طرح شعبہ زراعت 608 اور شعبہ تعلیم 501 الیکٹرانک خدمات کے ساتھ نمایاں رہا۔
علاوہ ازیں صحت کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل سہولیات کا دائرہ وسیع ہوا، جہاں ’صحتی‘ ایپ کے ذریعے 31 ملین طبی اپوائنٹمنٹس بُک کی گئیں، جبکہ 142 ملین الیکٹرانک طبی نسخے جاری کیے گئے، جس سے مریضوں کو علاج تک آسان اور تیز رسائی ممکن ہوئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عدالتی شعبے میں بھی ڈیجیٹل نظام نے اہم کردار ادا کیا، جہاں مجموعی طور پر 30 لاکھ عدالتی سماعتیں ہوئیں، جن میں سے 26 لاکھ 70 ہزار سماعتیں آن لائن منعقد کی گئیں، جو کل سماعتوں کا 89 فیصد بنتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ’مدرستی‘ پلیٹ فارم سے 63 لاکھ طلبہ و طالبات نے استفادہ کیا، اس دوران 900.9 ملین ورچوئل کلاسز اور 4.7 ارب ڈیجیٹل امتحانات ریکارڈ کیے گئے، جو ڈیجیٹل تعلیم کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تمام پیش رفت سعودی عرب کی ڈیجیٹل انقلاب کے لیے بنائی گئی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری خدمات کو جدید بنانا، شہریوں اور رہائشیوں کے لیے سہولت بڑھانا اور وژن 2030 کے اہداف کے تحت ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔