حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد تخلیق کرنے والوں کی جانب سے اپنی تخلیقات کی نقل، رد و بدل اور بغیر اجازت دوبارہ شائع کیے جانے کے خلاف شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
عکاظ اخبار کے مطابق کئی کرئیٹرز نے گفتگو میں بتایا کہ ان کے ذاتی آرکائیو میں موجود تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے تخلیقی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
دانشورانہ ملکیت (Intellectual property) کی ماہر وکیل اور تجارتی ثالث ڈاکٹر رباب المعیبی کے مطابق کسی بھی تخلیقی کام کو مالک کی
اجازت کے بغیر نقل کرنا، اس میں تبدیلی کرنا، شائع کرنا یا کسی اور کو فراہم کرنا صریح خلاف ورزی ہے، خواہ یہ کام روایتی طریقے سے ہو یا جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے، کیونکہ اصل معاملہ حقوق کی پامالی ہے نہ کہ استعمال ہونے والا ذریعہ۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی کام میں بنیادی تبدیلی کرنا، اسے کسی اور کے نام سے منسوب کرنا یا بغیر اجازت تجارتی استعمال میں لانا ایسے اقدامات ہیں جو قانونی تحفظ کو ختم کر دیتے ہیں اور ان پر جوابدہی لازم ہوتی ہے۔
المعیبی نے مزید بتایا کہ عام خلاف ورزیوں میں مصنوعی ذہانت سے تصاویر میں تبدیلی، محفوظ ویڈیوز کی دوبارہ ایڈیٹنگ، کسی فنکار یا ڈیزائنر کے انداز کی نقل، چہروں کی ویڈیوز میں غیر قانونی شمولیت اور مشہور شخصیات کی آواز یا چہرے کو اشتہارات میں استعمال کرنا شامل ہے۔
قانونی ماہر نے مزید بتایا کہ ایسی خلاف ورزیوں پر جرمانے، آلات کی ضبطی اور شہری ہرجانے عائد ہو سکتے ہیں، جبکہ اگر معاملہ ہتکِ عزت، کردار کشی، جعل سازی یا گمراہ کن مواد سے جڑا ہو تو سائبر کرائم قوانین کے تحت قید اور بھاری جرمانے بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2025ء میں سعودی اتھارٹی برائے دانشورانہ ملکیت (Intellectual property) نے ایک شخص پر 9 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا تھا، جس نے ایک ذاتی تصویر میں ترمیم کر کے بغیر اجازت شائع کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت مواد کی دنیا میں بڑی پیش رفت ہے، لیکن یہ کسی صورت حقوق کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بن سکتی، کیونکہ تصویر، آواز اور ساکھ کے حقوق بھی قانونی تحفظ کے دائرے میں آتے ہیں۔
ایسوسی ایشن برائے تحفظِ دانشورانہ ملکیت کے چیئرمین محمد بن عبداللہ السلامہ نے کہا کہ ڈیجیٹل مواد کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے اصل ماخذ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز آزادانہ استعمال کے لیے ہے، جو ایک بڑی غلط فہمی ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی ملکیت کے حوالے سے ایک نئی ابہام کی صورتحال بھی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ مواد اصل سے مشابہ ہونے کی وجہ سے سنگین جرائم کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جن پر جرمانے، آلات کی ضبطی، میڈیا اداروں کی بندش یا لائسنس منسوخی تک کی سزائیں دی جا سکتی ہیں اور متاثرہ فرد کو مالی معاوضہ بھی مل سکتا ہے۔
انہوں نے تخلیق کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مواد کو رجسٹر کروائیں، واٹر مارک استعمال کریں اور ڈیجیٹل نگرانی کے ٹولز سے مدد لیں۔
جامعہ جدہ کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ معیض الغامدی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نام پر غلط کاموں کو جائز قرار دینا خطرناک رجحان ہے اور اس کا درست استعمال نجی معلومات کے احترام اور معاشرے کو گمراہ نہ کرنے سے شروع ہوتا ہے، جبکہ سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ابتدائی سطح پر ہی واضح ضابطے اپنا لیے ہیں۔
اس حوالے سے کاروباری خاتون البندری ترکی نے بتایا کہ انہوں نے ایک ادارے کے لیے اشتہاری مواد تیار کیا تھا، مگر جب ان سے فائلز کھولنے کی درخواست کی گئی تو قانونی مشورے کے بعد انکار کر دیا گیا، کیونکہ اشتہاری مواد محفوظ تخلیق شمار ہوتا ہے اور اس کے دوبارہ استعمال کے لیے واضح اجازت ضروری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کام کا معاہدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ فکری حقوق خود بخود منتقل ہو جائیں۔
اسی طرح ایک افسانہ نگار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی اور بتایا کہ ان کی لکھی ہوئی کہانی کو کسی اور نے ویڈیو میں تبدیل کر کے اپنے نام سے شائع کر دیا، جس کے بعد انہوں نے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ فکری حقوق کا احترام صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ پیشہ ورانہ دیانت کا تقاضا بھی ہے۔