اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

دوران سفر ٹیکسی خراب ہو جائے تو مسافر سے کرایہ نہیں لیا جائے گا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)

جنرل اتھارٹی برائے ٹرانسپورٹ نے ایپلی کیشنز کے ذریعے چلنے والی ٹرانسپورٹ سروس کے لیے نیا ایگزیکٹو لائحہ عمل جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد اس شعبے کو منظم کرنا، مسافروں کی سلامتی یقینی بنانا اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

مزید پڑھیں

اس سلسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر سفر کے دوران ایپ کے ذریعے بک کی ہوئی گاڑی خراب ہو جائے یا ڈرائیور بلاجواز سفر مکمل نہ کرے تو مسافر سے کوئی کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا۔

اتھارٹی کے مطابق یہ ضوابط اقتصادی ترقی کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہیں اور ان میں سیکیورٹی، حفاظتی انتظامات اور ماحولیاتی تقاضوں پر خاص توجہ دی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی ادارے کو باضابطہ 

لائسنس کے بغیر یہ سرگرمی شروع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔

اسی طرح لائسنس کی مدت 3 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ بغیر اجازت مسافروں کو بلانا یا ان کے پیچھے جانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

app based transport taxi 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

نئے قوانین کے تحت لائسنس حاصل کرنے کے خواہشمند اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ شہر میں باقاعدہ دفتر قائم کریں اور کم از کم 10 گاڑیوں پر مشتمل فلیٹ رکھیں تاکہ سروس کا تسلسل برقرار رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ مجموعی فلیٹ میں کم از کم 2 گاڑیاں معذور افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کی جائیں، جو اتھارٹی کی طے کردہ فنی شرائط پر پوری اتریں۔

اتھارٹی نے گاڑیوں کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ کسی بھی گاڑی کی زیادہ سے زیادہ عمر 8 سال ہوگی، گاڑی کا رجسٹریشن ’نقل عام‘ کے زمرے میں ہونا ضروری ہے، جبکہ فنی معائنہ اور مسافروں کے لیے مکمل انشورنس کا ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

app based transport taxi 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس کے علاوہ ہر گاڑی کے لیے ایک سال کے لیے ’آپریٹنگ کارڈ‘ حاصل کرنا ہوگا، جس کی مدت لائسنس اور گاڑی کے رجسٹریشن سے منسلک ہوگی۔

ڈرائیورز کے حوالے سے ضوابط میں کہا گیا ہے کہ ہر ڈرائیور کے لیے سالانہ ’پروفیشنل ڈرائیور کارڈ‘ حاصل کرنا ضروری ہوگا، جس کے لیے اس کا ریکارڈ درست اور واضح ہونا، منظور شدہ پیشہ ورانہ ٹیسٹ اور حفاظتی امتحانات کامیابی سے پاس کرنا لازم ہے، جبکہ غیر ملکی ڈرائیور صرف ’پبلک ٹیکسی ڈرائیور‘ یا اس کے مساوی پیشے میں کام کر سکیں گے اور ان کا ادارے کے ساتھ باضابطہ معاہدہ ہونا ضروری ہوگا۔

اتھارٹی نے ڈرائیورز کے پیشہ ورانہ رویے پر بھی سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت گاڑی کے اندر سگریٹ نوشی مکمل طور پر ممنوع ہوگی، چاہے وہ ڈرائیور کرے یا مسافر، جبکہ ڈرائیور کے لیے منظور شدہ یونیفارم پہننا، صفائی کا خیال رکھنا اور عمومی اخلاقیات کی پابندی لازم ہوگی۔

app based transport taxi 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ضوابط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ایپس کو جدید الیکٹرانک نظام فراہم کرنا ہوگا، جس کے ذریعے مشترکہ سفر کی سہولت ممکن ہو اور 24 گھنٹے فنی معاونت دستیاب ہو تاکہ شکایات اور تجاویز براہِ راست انسانی نمائندے کے ذریعے وصول کی جا سکیں۔

سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اقدام کے طور پر ایپس کو ’ہنگامی بٹن‘ فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جو براہِ راست وزارتِ داخلہ کے سیکیورٹی آپریشن سینٹر سے منسلک ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے، چاہے سفر مکمل ہو چکا ہو۔

اتھارٹی نے مسافروں کے ڈیٹا اور نجی معلومات کے تحفظ پر بھی زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ان معلومات کو کسی بھی تشہیری یا دیگر مقصد کے لیے مسافر کی واضح اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ مسافروں کو سروس کی درجہ بندی کرنے اور اپنے سفر کا راستہ اہلِ خانہ کے ساتھ شیئر کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

app based transport taxi 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

نئے نظام کے تحت کرایوں کے تعین کے لیے بھی واضح طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے اتھارٹی کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی اور اگر دورانِ سفر گاڑی خراب ہو جائے یا ڈرائیور بلاجواز سفر مکمل نہ کرے تو مسافر سے کوئی رقم (کرایہ) وصول نہیں کی جا سکے گی۔

ضوابط کے مطابق ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ سروس صرف شہروں کے اندر فراہم کی جا سکے گی، جبکہ دیگر شہروں میں سفر کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوگی، اسی طرح بغیر اجازت پبلک ٹرانسپورٹ کے راستوں یا انفرا اسٹرکچر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

جنرل اتھارٹی برائے ٹرانسپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ان ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جن میں مالی جرمانے اور بعض سنگین صورتوں میں لائسنس کی منسوخی بھی شامل ہے۔ خاص طور پر اگر تجارتی رجسٹریشن ختم ہو جائے یا گاڑیوں کی تعداد مقررہ حد سے کم ہو اور بروقت اصلاح نہ کی جائے۔