اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

ابھرتی معیشتوں کے لیے مضبوط پالیسیاں ناگزیر، العلا کانفرنس کا اعلامیہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اور عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے العُلا میں منعقدہ ابھرتی معیشتوں کی کانفرنس کے دوسرے ایڈیشن کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں اس فورم کو ابھرتی منڈیوں کو درپیش چیلنجز پر عالمی مکالمے، انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں

مشترکہ بیان کے مطابق العلا اقتصادی کانفرنس کا انعقاد 8 اور 9 فروری 2026 کو سعودی وزارتِ خزانہ اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے ہوا، جہاں ابھرتی معیشتوں کے پالیسی سازوں، ممتاز عالمی ماہرینِ معاشیات اور علاقائی و بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

کانفرنس میں شریک ممالک کے معاشی مسائل و مستقبل کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ کانفرنس کے دوران اس بات پر توجہ مرکوز رہی کہ ابھرتی معیشتیں ایک ایسے عالمی ماحول میں کیسے خود کو ہم آہنگ کر سکتی ہیں جو مسلسل غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں، عالمی تجارت کے بدلتے رجحانات اور تیز رفتار تکنیکی ترقی سے عبارت ہے۔

یہ تمام عوامل اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ مضبوط پالیسی فریم ورک اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

alula and imf conference 3
(فوٹو: اے آئی)

وزیرِ خزانہ اور آئی ایم ایف کی سربراہ نے واضح کیا کہ کانفرنس سے سامنے آنے والا پہلا اہم پیغام یہ ہے کہ مستحکم مالی اور مجموعی اقتصادی پالیسیاں، جو مضبوط اداروں اور مؤثر حکمرانی کی بنیاد پر ہوں، عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ابھرتی معیشتوں کی اصل طاقت ہیں۔

بیان میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ کئی ابھرتی معیشتوں کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ قابلِ اعتماد پالیسی فریم ورک سے مہنگائی پر قابو پانے، مالیاتی استحکام برقرار رکھنے اور غیر یقینی حالات میں بھی عالمی منڈیوں تک رسائی ممکن رہی ہے۔

مشترکہ بیان کے مطابق دوسری بنیادی بات یہ سامنے آئی کہ معاشی استحکام میں بہتری کے بعد ابھرتی معیشتیں اصلاحات کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں، جہاں زیادہ رفتار اور پائیدار ترقی کے ساتھ روزگار کے مواقع بڑھانا مرکزی چیلنج ہے۔

اس تناظر میں نجی شعبے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا نہایت اہم قرار دیا گیا، جس میں مالیاتی منڈیوں کو وسعت دینا، کاروبار اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم کرنا، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانا اور نوجوانوں کو عالمی لیبر مارکیٹ کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرنا شامل ہے۔

alula and imf conference 1
العلا کانفرنس 2025ء کے اعلامیے کے موقع پر شرکا کا گروپ فوٹو (فوٹو: انٹرنیٹ)

بیان میں تیسری اہم بات کے طور پر کہا گیا کہ عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بدلتے انداز ابھرتی معیشتوں کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی انضمام کو مزید گہرا کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کر رہے ہیں اور ایسے میں تجارت کو آسان بنانا ، علاقائی تعاون کو فروغ دینا ان معیشتوں کے لیے عالمی معاشی نظام میں مؤثر انضمام کا بنیادی ستون رہے گا۔

اختتام پر محمد بن عبداللہ الجدعان اور کرسٹالینا جارجیوا نے ابھرتی معیشتوں کی جانب سے باہمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کے عزم کو سراہا اور امید کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں بین الاقوامی العلا اقتصادی کانفرنس اسی جذبے کے ساتھ عالمی مکالمے کو آگے بڑھائے گی اور اس مثبت تسلسل کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

alula and imf conference 2
(فوٹو: وزارة المالية السعودية ایکس اکاؤنٹ)