سعودی کمپنی ’سِير‘ برائے الیکٹرک کار صنعت اور اوریجنل ٹیکنالوجی ایکویپمنٹ نے ریاض میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور پرائیویٹ سیکٹر فورم کے چوتھے ایڈیشن میں حصہ لینے کے دوران 16 نئی تجارتی معاہدے کئے جن کی مجموعی مالیت 3.7 ارب ریال سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں
اخبار 24 کے مطابق یہ توسیع گزشتہ سال فورم میں اعلان شدہ 5.5 ارب ریال کے معاہدوں کا تسلسل ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’سِير‘ کے سپلائی اور پروڈکشن چین کے منصوبے میں داخل ہو گئے ہیں کیونکہ یہ الیکٹرک کاروں کے شعبے میں سعودی عرب کی پہلی برانڈ ہے۔
کمپنی کے سی ای او جیمس ڈیلوکا نے وضاحت کی ہے کہ ان معاہدوں کا
ہدف 2034 تک گاڑیوں کے 45 فیصد مواد اور اجزا کو مقامی طور پر تیار کرنا ہے، جس کے لیے ملکی خام مال پر انحصار کیا جائے گا اور سعودی کمپنیوں کو عالمی سپلائر بنانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
ڈیلوکا نے مزید کہا کہ یہ اقدامات سعودی عرب میں ایک مکمل کار انڈسٹری سسٹم کے قیام کو تقویت دیتے ہیں، جس میں مقامی مواد اور وسائل کا فائدہ، جدید ٹیکنالوجیز اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنا، بھاری اور محنت طلب اجزا کی مقامی تیاری، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور شہریوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ ’سِير‘ نے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست تجارتی معاہدے بھی کر رکھے ہیں۔
متوقع ہے کہ ’سِير‘ 2034 تک سعودی عرب کے جی ڈی پی میں 30 ارب ریال سے زیادہ کا حصہ ڈالے گی، ملکی معیشت کو تقریباً 79 ارب ریال سے بہتر بنائے گی اور تقریباً 30 ہزار براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں فراہم کرے گی۔
یہ اقدامات قومی معیشت پر مثبت اثر ڈالیں گے اور سعودی وژن 2030 کے صنعتی تنوع کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔