اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

استقبال رمضان سے پہلے، باطن کی اصلاح

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ

مکہ مکرمہ

جناب نبی کریمﷺ جو امت کے لئے معلم، مزکی اور مربیٔ اعظم ہیں، آپﷺ نے کس طرح اپنے اصحابِ کرامؓ کی تربیت فرمائی اور زندگی کے لمحات اور مبارک اوقات سے کس طرح انہیں استفادہ کا شوق دلایا، انہیں ترغیب دی اور زندگی کے ماہ و سال کے مبارک شب و روز میں انہیں کس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت کو لوٹنے اور اس کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنانے کی طرف رغبت دی؟

ہمیں اس امر میں غور کرنا ہے کیونکہ ہم جس ماہ مبارک سے گزر رہے ہیں، وہ شعبان کا مہینہ ہے اور نبی کریمﷺ نے اس مہینے کے بار ے میں فرمایا کہ یہ میرا مہینہ ہے۔

پھر آپﷺنے اپنے اصحاب کرامؓ کو کس طرح اسے گزارنے کی عملی شکل پیش کی۔

مزید پڑھیں

حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرتﷺ سال کے کسی مہینے میں بھی اتنے روزے نہیں رکھتے تھے جتنا کہ آپﷺ ماہِ شعبان میں رکھتے تھے۔

علاوہ ازیں اسی ماہِ شعبان ہی میں آپﷺ رمضان المبارک کے لئے کس طرح صحابہ کرامؓ کی استعداد فرماتے، ان کی تیاری فرماتے نیز اس ماہ شعبان کو کیسے گزارنے کا حکم دیا۔ہم چاہیں گے کہ اپنے قارئین کرام کی خدمت میں اس ماہِ شعبان میں نبی کریم ﷺکی معمولات اور

 ترتیبات کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کریں۔
جناب نبی کریمﷺ کی ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی وہ تزکیہ ہے اور یہ تزکیہ بھی قرآن وسنت کی تعلیم سے ہی ممکن ہے۔ 

آج کل لوگ جاننے، سیکھنے اور سکھانے پر زیادہ زور دیتے ہیں اور اسی طرف زیادہ محنت صرف کی جاتی ہے مگر تزکیۂ نفس سے اکثر لوگ بے بہرہ ہیں اور اس پر اتنی محنت کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔

ہماری امت کے سلف صالحین کے نزدیک جس قدر علم، تعلیم اور تعلّم کا اہتمام تھا، تزکیہ نفس اور باطن کی صفائی کا بھی اتنا ہی اہتمام تھا۔

خود قرآن وحدیث اس امر پر دال ہیں۔

قرآن کریم میں بے شمار اوامر اس پر موجود ہیں، عمدہ اخلاق کے اختیار کا حکم ہے، پیغمبر علیہ السلام کے اخلاق عالیہ میں نمونہ ہیں اور پھر انسان کے اندر جتنے اخلاق رذیلہ موجود ہیں جس سے اس کا اندر پراگندہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ بدبو معاشرے میں پھیل جاتی ہے، یہ سب اندر کی بیماریوں کے نتائج ہیں۔ 

image gen 1

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب جناب نبیﷺ کو اس مقصدِ عالی کے لئے بھیجا اور نبی علیہ الصلا ۃ و السلام جو اپنی امت کیلئے معلمِ اعظم، مزکیٔ اعظم اور مربی اعظم ہیں، آپﷺ نے امت کے اندر کی صفائی کے لئے کس قدر اہتمام فرمایا۔

غور کریں کہ آنحضرتﷺ نے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں جانے دیا۔

ہر مہینے میں ایام بیض کے روزوں کا جو استحباب ہے، اس میں اسی تزکیہ کیلئے رغبت دی۔

پھر فرائض کے ساتھ سنن و رواتب کا جو اہتمام کیا گیا، یہ سب اس لئے کہ انسان محض فرائض کی ادائیگی کو کافی نہ سمجھے بلکہ سنن ورواتب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید قرب کے حصول کے لئے کوشاں رہے۔ 

پھر وہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاق فاضلہ کو جمع کرے۔ 

آج ہمارے اندر علم کی تو کمی نہیں، اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اندر کے اخلاق کی ہے۔ 

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

دل زنگ آلود ہو جاتا ہے جیسا کہ لوہا زنگ آلود ہو جاتا ہے اور اس کی جلا، صفائی اور اس کی چمک دمک اللہ کے ذکر میں ہے۔

نماز اللہ کا ذکر ہے، سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم، یہ بھی اللہ کا ذکر ہے، پھر جس قدر صبح و شام کے اوراد نبی کریمﷺ کے معمول تھے، وہ سب ذکر ہیں، قرآن کریم کو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا۔

ہمیں ان چیزوں کا اہتمام کرنا چاہئے۔

اب غور کریں کہ نبی کریمﷺ نے رمضان المبارک کی خاطر اپنے اصحاب کرامؓ کو شعبان سے ہی تیاری کا حکم دیا، یہی رمضان المبارک کا استقبال ہے، یہ بھی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی سنت ہے۔ 

نبی کریمﷺ رمضان المبارک سے قبل ماہِ شعبان میں صحابہ کرامؓ کی پیشگی تیاری فرماتے تھے، اس کا کچھ یوں ذکر ہے۔

رمضان کا شہر مبارک اہل ایمان پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔

image gen 2 1

اس انعام کی قدر کی جائے گی تو یہ نعمت شمار ہوگی، اگر اس کی قدر نہ کی جائے گی تو یہ محرومی کا مہینہ بھی ہو سکتا ہے۔ 

اس باب میں نبی کریمﷺ کا واضح ارشاد ہے:

محروم وہی شخص ہے جو رمضان المبارک میں اللہ کی رحمت سے محروم رہا۔

پھر رسول اکرم ﷺ  کا ارشاد ہے:

اگر لوگو! تم یہ جان لوکہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہوجائے۔

ہر شخص کو علم ہے کہ سال بھر کے روزے رکھنا بڑی مشقت کا کام ہے مگر جب اس کے اجر اور روحانی لذت اور حلاوت پر بندہ مطلع ہوجائے تو یہ آسان ہو جاتا ہے۔ 

ویسے بھی انسان کی طبیعت ہے کہ کسی مشقت والے عمل پر اگر انعام بڑا ہو تو وہ مشقت لذت میں بدل جاتی ہے۔

اصل میں یہی اندر کی صفائی اور طہارت ہے، تزکیہ اسی کانام ہے۔ 

اندر کی کھوٹ، اندر کے وساوس اور اندر کا زنگ اتر جائے تو بندہ کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی نگاہ اس جہانِ فانی سے پار چلی جاتی ہے۔

 آنحضرتﷺنے دعا کی تھی کہ دنیا ہمارا مطمح نظر نہ رہے، تو جب انسان آخرت پر اپنی نظر رکھتا ہے تو آخرت کے بیٹے اس کے لئے ہر مشقت برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

اس مہینے کے لئے نبی کریمﷺکا بیان ہمارے لئے قابل توجہ ہے۔

اس بیان کو ہم اپنے لئے بھی پڑھیں، اپنے بچوں کے لئے بھی پڑھیں، اپنے گھر والوں کے لئے بھی پڑھیں اور اپنے دوست اور احباب کو بھی سکھلائیں۔

مکرر یاد رکھیں کہ علم کی ہم میں کمی نہیں۔ 

اگر کمی ہے تو اندرونی استعداد کی ہے جس کے حصول کے بعد حضرت انسان عمل پر بخوشی آجائے، اس کا نفس اس مشقت کو اندر سے قبول کرے جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے اعمال کی تکلیف میں رکھی ہے۔ 

98745

حضور اکرمﷺ  کا ارشاد گرا می ہے :
اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کا سب سے زیادہ محبوب ہونا، کسی سے محبت محض اللہ کی خاطر ہو، جس کفر سے اللہ نے اپنے فضل سے نکالا پھر اس کی طرف عود کرنا ایسا ہو جیسے کہ آگ میں ڈالا جانا۔

جس شخص میں یہ تین چیزیں آجائیں، وہ ایمان کی شیرینی کو محسوس کرے گا۔ 

ہم اہل ایمان میں یہ کیفیت ہونی چاہئے کہ ہمیں ایمان کی لذت اور حلاوت محسوس ہو، ہمیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مزہ آنے لگے، ہمیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لذت محسوس ہو، ہم طاعات کو نشاط اور فرحت کے ساتھ اداکریں۔

اس میں سستی اور کاہلی کا عنصر نہ ہو، اپنے اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کریں۔