اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

رونالڈو: کھیل کے میدان میں سعودی عرب کی نرم طاقت کا نمایاں چہرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
(فوٹو: اے آئی)
Picture of عبد الرحمن الایداء

عبد الرحمن الایداء

سعودی صحافی و کالم نگار۔ سبق

آج کی دنیا میں جہاں ممالک اثر و رسوخ کے لیے کوشاں ہیں اور جہاں طاقت کا پیمانہ صرف معیشت یا سیاست نہیں رہا، وہیں تصویر، تاثر اور اپنی قابلیت منوانے کی صلاحیت بھی اہم ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک ایسی قوت بھی ہوتی ہے جو زبردستی مسلط نہیں کی جاتی بلکہ اپنی کشش سے لوگوں کو متوجہ کرتی ہے، کیونکہ وہ ایک مختلف تجربہ اور نئی کہانی پیش کرتی ہے۔ 

یہی وہ نرم طاقت ہے، جب ثقافت، کھیل اور عالمی سطح پر موجودگی کسی ریاست کے بارے میں بین الاقوامی سوچ کو بدلنے کی بنیاد بن جاتی ہے۔

ایسی حکمت عملی اور دور اندیشی کے ساتھ سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت کھیلوں کو اپنی نرم طاقت کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر کھیلوں کی دنیا میں اپنا منفرد مقام بنانے کے ساتھ ساتھ مملکت کی معیشت کو بھی متنوع بنایا جا سکے۔

ronaldo football shot
(فوٹو: ایکس)

یہ پوری پیش رفت ایک ایسے وسیع تر تبدیلی کے منصوبے کا حصہ ہے جو محض فٹبال یا کسی ایک معاہدے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

سعودی عرب نے اپنے بڑے تبدیلی کے منصوبے وژن 2030 کے تحت کھیل کو معیشت کی تنوع اور عالمی موجودگی بڑھانے کی جامع حکمت عملی کا حصہ بنایا، جس کے بعد دسمبر 2022 میں کرسٹیانو رونالڈو کا النصر میں شامل ہونا محض ایک منتقلی نہیں تھا بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے عالمی توجہ کا رخ سعودی لیگ اور مملکت کے کھیلوں کے منظرنامے کی جانب موڑ دیا۔

رونالڈو کے مثبت بیانات، سعودی تقریبات میں شرکت اور مختلف شہروں کے دوروں نے انہیں ایک غیر رسمی سفیر کی حیثیت دے دی، جس کے نتیجے میں نہ صرف عالمی تاثر بدلا بلکہ لیگ کی مالیاتی قدر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور اسپورٹس ٹورازم کو بھی فروغ ملا۔

ronaldo with mbs 1
(فوٹو: ایکس)

ان کی آمد کے ساتھ ہی نقطہ نظر بدلا اور بعد میں کریم بنزیما اور نیمار جیسے بڑے نام بھی آئے، جس سے سعودی لیگ عالمی فٹبال کے نقشے پر ایک پرکشش مقام بن گئی۔ بات اب صرف ایک میچ کی نہیں رہی بلکہ ایک ایسے مکمل منصوبے کی ہو گئی ہے جو اس ریاست کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو کھیل کو صنعت، اثر اور تاثر کے طور پر دیکھتی ہے۔

اس تبدیلی کا اصل اثر صرف میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ رویوں اور بیانات میں بھی ظاہر ہوا ہے۔ جدید میڈیا کی دنیا میں تصویر سرکاری بیانات سے نہیں بلکہ ان بااثر شخصیات سے بنتی ہے جنہیں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔

ronaldo in saudi culture
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس صورت حال میں رونالڈو بھی خاموش نہیں رہے بلکہ اعتماد کے ساتھ اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت میں جو وہ دیکھتے ہیں وہ کئی روایتی تصورات سے مختلف ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار کوشش کر رہے ہیں اور ایک موقع پر فطری انداز میں کہا کہ ’’یہ ہمارے ولی عہد ہیں‘‘۔

رونالڈو نے یہ بھی کہا کہ ’’میں پرتگالی ہوں لیکن سعودی عرب سے تعلق رکھتا ہوں‘‘۔ یہ جملے عالمی میڈیا میں نمایاں ہوئے اور مملکت کے بارے میں ذہنی تاثر کو بدلنے میں کردار ادا کیا۔

ronaldo in saudi dress
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ولی عہد کے ساتھ مختلف مواقع پر ان کی موجودگی اور بین الاقوامی ملاقاتوں میں شرکت، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی شامل تھی، محض رسمی شرکت نہیں تھی بلکہ عالمی منظرنامے میں کھیل کی ایک جدید تصویر کی نمائندگی تھی۔ ایک کھلاڑی جو غیر روایتی سفیر بن کر اپنی کہانی سرحدوں کے پار ناظرین تک پہنچاتا ہے۔

رونالڈو کا پیغام صرف بیانات تک محدود نہیں رہا۔ وہ العلا میں بھی دکھائی دیے، بحیرہ احمر کے ساحلوں پر بھی گئے، تاریخی جدہ میں بھی نظر آئے، ریاض کی گلیوں میں گھومے اور مملکت کے قومی دن پر سعودی لباس پہنا۔

اس سفر کے دوران دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے ایک ایسے ستارے کی آنکھ سے سعودی زندگی کو دیکھا جو خود اس تجربے کا حصہ تھا، نہ کہ محض سیاسی رپورٹس کے ذریعے۔ یہی نرم طاقت کی عملی شکل ہے۔ ایک ایسا تجربہ جو جیا جائے، بیان ہو اور پھیل جائے۔

ronaldo with trump
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مملکت میں کھیلوں کو اپنی نرم طاقت کے طور پر اجاگر کرنے اور عالمی ستاروں کی آمد سے سعودی لیگ کی مارکیٹ ویلیو بڑھی، اسپانسرشپ اور اشتہاری معاہدوں کی کشش میں اضافہ ہوا اور میچوں کی نشریات وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔

اسی طرح شائقین کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اسپورٹس ٹورازم ایک حقیقی معاشی راستے کے طور پر ابھرا، جہاں مداح میچ دیکھنے کے ساتھ سیاحتی مقامات بھی دریافت کرتے ہیں۔ یہی وہ طریقہ تھا جس میں کھیل اور سرمایہ کاری ایک دوسرے سے جڑ کر اسٹیڈیم کو اقتصادی کشش کے مراکز میں بدل دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ ولی عہد کے وژن کے مطابق کھیلوں سے متعلق سعودی ماڈل ان تجربات سے یکسر مختلف ہے جو صرف عارضی ٹورنامنٹس کی میزبانی تک محدود رہتے ہیں۔ یہاں ایک جامع تبدیلی کا منصوبہ نظر آتا ہے جو انفرا اسٹرکچر، نئے شہروں، معیارِ زندگی اور نجی شعبے کے فروغ تک پھیلا ہوا ہے۔

ronaldo saudi arabia
(فوٹو: اے آئی)

سعودی عرب میں کھیل محض نمائشی عنصر نہیں رہا بلکہ ایک گہری اندرونی تبدیلی کا لازمی حصہ بن چکا ہے جو فطری طور پر عالمی سطح پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

اس تناظر میں کھیلوں میں عالمی ستاروں کو شامل کرنا صرف میچوں کے نتائج حاصل کرنے سے مشروط نہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر اپنا وقار اور مقام کو مزید بلند کرنے کے عزم سے جڑا ہوا ہے۔

تبدیلی کی اس پالیسی کے ذریعے سعودی عرب نے صرف ایک کھلاڑی کو نہیں بلکہ ایک نئی کہانی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جو سب کی سمجھ میں آنے والی زبان میں دنیا کو سنائی جا رہی ہے اور جس میں معاشی عزم اور ثقافتی اثر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نرم طاقت بیانات سے نہیں بلکہ تجربات سے ثابت ہوتی ہے۔ سعودی عرب نے جو کیا وہ محض میڈیا کی نمائش نہیں بلکہ ایک حقیقی تبدیلی ہے جس نے ایک عالمی ستارے کو یہ کہنے پر آمادہ کیا کہ یہ ہمارے ولی عہد ہیں اور میں اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں۔

جب رونالڈو جیسے کھلاڑی کی بات یقین میں بدل جائے اور اسٹیڈیم عالمی شعور کو بدلنے کے پلیٹ فارم بن جائیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ منصوبہ فٹبال سے بڑا اور کسی ایک معاہدے سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ ایک ایسے وطن کی نئی تصویر جو اپنے مقصد کو جانتا ہے اور اعتماد کے ساتھ دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔