21 ویں صدی کے جدید دور میں ڈیجیٹل ذرائع کی وجہ سے باہمی رابطے پہلے کے مقابلے میں آسان اور زیادہ ہو گئے ہیں، تاہم کچھ عادات کی وجہ سے بڑھتے رابطوں کے باوجود رشتے اور تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
آج کی دنیا میں رابطہ نہ ہونے کا شکوہ شاید ہی کوئی کرتا ہو، کیوں کہ پیغامات، کالز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے گفتگو کا سلسلہ کم و بیش ہر وقت جاری رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود رشتوں میں تناؤ، غلط فہمیاں اور دُوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
سماجی ماہرین کے مطابق رشتوں میں آنے والے اس بحران کی بنیادی وجہ بات چیت کی قلت نہیں بلکہ سُننے کی عادت کم ہونا ہے۔
قرآن مجید میں بھی اس شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو بات کو غور سے سنتا اور بہتر پہلو اختیار کرتا ہے، نہ کہ اسے جو صرف زیادہ بولتا ہے۔ یہی اصول آج کے انسانی تعلقات پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔
کثرتِ گفتگو، مگر کمزور رابطہ
جدید زندگی میں ہم پہلے سے کہیں زیادہ بولتے اور لکھتے ہیں، تاہم یہ حقیقت ہے کہ بہ حیثیت مجموعی ہمارا سننے کا عمل کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بات پوری ہونے سے پہلے ہی جواب تیار کر لیا جاتا ہے، پیغامات جلدی میں پڑھے جاتے ہیں اور الفاظ کو بولنے والے کی نیت کے بجائے اپنے مزاج کے مطابق سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس وجہ سے مکالمہ فہم و شعور کی جگہ دفاعی رویّوں میں بدل جاتا ہے اور تعلقات آہستہ آہستہ کشیدگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
سُننا کسے کہتے ہیں؟
ابلاغی علوم کے مطابق سماعت کوئی عام یا کم اہم کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک شعوری ذہنی اور نفسیاتی مہارت ہے۔ حقیقی سماعت میں صرف الفاظ نہیں سنے جاتے بلکہ:
• پس منظر اور سیاق کو سمجھا جاتا ہے۔
• جذبات اور لہجے پر توجہ دی جاتی ہے۔
• بات کے پیچھے چھپی نیت کو محسوس کیا جاتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے آج کل زیادہ تر لوگ سننے کا عمل صرف جواب دینے کے لیے کرتے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں۔
ڈیجیٹل رابطوں کی رفتار زیادہ، گہرائی کم
ترقی یافتہ دور میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے رابطوں کو تیز تو ضرور کر دیا ہے، مگر اس کی گہرائی کم ہو گئی ہے۔ مختصر پیغامات، آواز کے اتار چڑھاؤ (لب و لہجہ) کی غیر موجودگی اور فوری ردعمل کی عادت نے بہت سی گفتگو کے نتائج کو غلط فہمی کا شکار بنا دیا ہے، خاص طور پر حساس موضوعات یا اختلافی معاملات میں۔
Pew Research Center کی رپورٹس کے مطابق صارفین کی ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ سوشل میڈیا نے باہمی فہم بڑھانے کے بجائے تناؤ اور غلط فہمی میں اضافہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے استعمال کا انداز ہے۔
کم سننے کا نقصان
سماعت کی کمی کا اثر خاموش مگر گہرا ہوتا ہے۔ یہ گھریلو زندگی میں قدر کم ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اختلافات جمع ہو کر بڑے مسائل بن جاتے ہیں۔
اسی طرح دفتر اور کام کی جگہ پر یہی کمزوری غلط فیصلوں، اندرونی تنازعات اور اعتماد میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
اعتماد کی بنیاد
اداروں کی سطح پر کمزور سماعت (کم سننا) صرف اندرونی ماحول تک محدود نہیں رہتی بلکہ براہِ راست عوامی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہتے۔ جو ادارے اپنے ملازمین کی بات نہیں سنتے، وہ اکثر اپنے صارفین اور عوام کے خدشات کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں رابطہ یک طرفہ ہو جاتا ہے۔ یعنی پیغامات تو جاری ہوتے ہیں، مگر فہم موجود نہیں رہتا۔
Harvard Business Review اور Edelman کی رپورٹس اس بات پر متفق ہیں کہ اداروں کی جانب سے اپنے عملے (ملازمین) اور صارفین یا عوام کی بات کو توجہ سے سننا اعتماد سازی کا بنیادی ستون ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف بحران کو بہتر انداز میں سنبھالتے ہیں بلکہ اکثر بحران پیدا ہونے سے پہلے ہی مسائل کو محسوس کر لیتے ہیں۔
خاموش رہ کر سننا
ہر خاموشی کا مطلب بات سے لاتعلقی نہیں ہوتا اور اسی طرح ہر بات چیت کا مطلب بھی مؤثر رابطہ نہیں ہوتا۔ بعض مواقع پر جواب دینے سے پہلے رُک جانا، یا وقتی خاموشی اختیار کرنا (تاکہ سامنے والے کو سمجھتے ہوئے سنا جا سکے) ایک بالغ اور دانشمندانہ ابلاغی رویہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مؤثر رابطے کی بنیاد درج ذیل اصولوں پر ہوتی ہے:
• جلد بازی کے بغیر سننا
• فیصلہ کرنے سے پہلے پورا تناظر سمجھنا
• مناسب وقت پر بات کرنا
یہ سب مہارتیں سیکھی جا سکتی ہیں، مگر پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ ہمیں بولنے سے پہلے سننا سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اچھے تعلقات کی کنجی
آج ہمیں نہ مزید الفاظ درکار ہیں، نہ نئی ایپس اور پلیٹ فارمز بلکہ اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو ہمیں اصل ضرورت ایسے رابطوں کی ہے جو پُرسکون، باوقار اور انسانی اقدار سمجھنے والے ہوں کیونکہ ہمارے تعلقات کا معیار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم کتنا اچھا سنتے ہیں۔
جب سماعت بہتر ہو جائے تو گفتگو خود بخود بامعنی اور تعلقات مضبوط ہو جاتے ہیں۔