پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ یاسر الرمیان نے کہا ہے کہ مملکت آج اپنی معیشت کے فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں مسابقتی بنیادیں بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں جبکہ مختلف شعبے اور معاون ویلیو چینز پختگی حاصل کر چکی ہیں۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ بلند حوصلگی کی حد اب ایسے افق تک جا پہنچی ہے جہاں مواقع کو محض مالی منافع سے نہیں بلکہ جدت اور عزم کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے، خاص طور پر ان تبدیلیوں کے تناظر میں جو سعودی معیشت میں جاری ہیں۔
یہ فورم نجی شعبے کے ساتھ حقیقی شراکت داری کے مواقع حاصل کرنے کے لیے اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 2023 سے لے کر موجودہ سال 2026 تک فورم میں شریک افراد کی تعداد تقریباً 25 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سرکاری و نجی شعبوں کے سرکردہ قائدین اور مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کار شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ فورم کے مختلف ادوار کے دوران ہونے والے مکالموں اور مباحث کو عملی مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا، جنہوں نے براہِ راست کاروباری ماحول کی ترقی میں کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فورم کے دوران 140 سے زائد معاہدے طے پائے، جن کی مجموعی مالیت 15 ارب ریال سے تجاوز کر گئی اور یہ سب نجی شعبے کے ساتھ متنوع شراکت داریوں کے دائرے میں ہوئے۔