بٹ کوائن شدید دباؤ کا شکار ہے، اکتوبر 2025 میں ایک لاکھ 26 ہزار ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اپنی قدر کا لگ بھگ 44 فیصد کھو چکا ہے۔
آج ہفتے کے روز اس کی قیمت تقریباً 59980 ہزار ڈالر تک گر گئی ہے۔
العربیہ کے مطابق پیش گوئی کرنے والے پلیٹ فارمز مزید منفی منظرنامے کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں 82 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بی ٹی سی مزید نیچے گر سکتا ہے جبکہ 60 فیصد ٹریڈرز کا خیال ہے کہ قیمت 55 ہزار ڈالر سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بٹ کوائن سرمایہ کاروں کے لیے مشکل ترین وقت میں محفوظ اثاثہ ثابت نہیں ہو سکا۔
اس کے علاوہ امریکی ETF فنڈز میں لیکویڈیٹی کا مسلسل اخراج بھی دیکھا گیا ہے جن سے گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً 4 ارب ڈالر نکل چکے ہیں۔
Pantera Capital کے بانی ڈین مورہیڈ نے کہا ہے کہ موجودہ مارکیٹ ’بے مثال درندگی‘ کی علامت ہے اور اکتوبر 2025 میں مالی پوزیشنز کی تباہی 2022 کے مشہور انہدام سے بھی زیادہ شدید تھی۔
دوسری جانب بعض مالیاتی ادارے محتاط خوش بینی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے مطابق بٹ کوائن کے 150 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان موجود ہے تاہم متوقع زمانی فریمز کو محتاط انداز میں ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔
اس وقت مارکیٹ میں مایوس کن اجتماعی رائے اور بینکوں کی پُر امید رپورٹس کے درمیان شدید کشمکش جاری ہے، جو اب چھوٹے سرمایہ کاروں کو قائل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سوال بدستور قائم ہے: کیا بٹ کوائن ایک بار پھر سنبھل پائے گا یا ایک لاکھ ڈالر محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے؟
1 تبصرہ
آئے گا ضرور آئے گا