دارالحکومت کے شمال میں 60 لاکھ مربع میٹر پر محیط عظیم الشان ریاض ایکسپو 2030 منصوبے کا 25 فی صد کام مکمل کرلیا گیا ہے جب کہ بہت جلد انفرااسٹرکچر پر کام کا آغاز شروع ہونے والا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ریاض ایکسپو 2030 کے منصوبے کو عملی شکل دینے، ماحولیاتی استحکام کے اعلیٰ عالمی معیار، کارکنوں کے تحفظ اور مستقبل کے شہری وژن کو سامنے رکھتے ہوئے عظیم الشان منصوبے کی تعمیر جاری ہے۔ ایکسپو کے اختتام کے بعد یہی مقام ایک جدید ’گلوبل ویلج‘میں تبدیل ہو جائے گا، جہاں ثقافتی، سیاحتی اور تخلیقی سرگرمیاں ہمہ وقت جاری رہیں گی۔
60 لاکھ مربع میٹر پر پھیلا میگا پروجیکٹ
شمالی ریاض میں واقع یہ منصوبہ تقریباً 60 لاکھ مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔
ایکسپو 2030 ریاض کمپنی کے مطابق اب تک ماسٹر پلان کے تقریباً 25 فیصد حصے کو ہموار کیا جا چکا ہے، جو لگ بھگ 15 لاکھ مربع میٹر بنتا ہے۔ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے 10 لاکھ گھنٹے کام کیا گیا، جو منصوبے کی رفتار اور وسعت کو واضح کرتا ہے۔
2026 میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا آغاز
ایکسپو 2030 ریاض کے چیف پروجیکٹس آفیسر، انجینئر مراد السیّد کے مطابق اراضی کی تیاری مکمل ہونے کے بعد بنیادی انفرااسٹرکچر کی تعمیر کا آغاز 2026 کی دوسری سہ ماہی میں کیا جائے گا۔ یہ مرحلہ پورے منصوبے کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر آئندہ کی تمام تعمیراتی سرگرمیوں کا انحصار ہوگا۔
انجینئرنگ کنٹریکٹس کی منظوری
منصوبے نے گزشتہ سال عملی تعمیر کے مرحلے میں قدم رکھ دیا تھا۔ ایکسپو 2030 ریاض کمپنی نے انفرااسٹرکچر کی سہولیات اور مرکزی پویلینز کے لیے اہم انجینئرنگ کنٹریکٹس بھی منظور کر دیے ہیں۔ ان میں ’سعودی عرب زون‘اور Iconic پویلین شامل ہیں، جو پورے ایکسپو کا مرکزی نقطہ ہوں گے۔
مختلف ممالک کے پویلین اور لاجسٹکس کی تقسیم
ماسٹر پلان کے تحت تقریباً 20 لاکھ مربع میٹر رقبہ مختلف ممالک کے پویلینز کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 40 لاکھ مربع میٹر علاقہ لاجسٹکس، خدمات اور معاون سہولیات کے لیے رکھا گیا ہے۔ یہ تقسیم ایکسپو کی منظم میزبانی اور لاکھوں زائرین کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
غیر معمولی ایکسپو کی تیاری میں لاکھوں کارکن مصروف
ایکسپو ریاض 2030 کو ایک منفرد اور یادگار عالمی نمائش بنانے کے لیے منصوبے میں لاکھوں کارکن شامل ہوں گے۔ انجینئر مراد السیّد کے مطابق رواں سال منصوبے کو بجلی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی، جبکہ تعمیراتی عروج کے دوران کارکنوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ جائے گی۔
5 زونز پر مشتمل ماسٹر پلان
ایکسپو ریاض 2030 کا ماسٹر پلان 5 باہم جڑے ہوئے علاقوں پر مشتمل ہے:
• پائیدار حل
• جدید ٹیکنالوجیز
• معاشرتی خوشحالی
• عالمی تعاون
• سعودی عرب پویلین
ان تمام زونز کے عین مرکز میں آئیکونک Iconic پویلین واقع ہوگا، جو پورے مقام کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کردار ادا کرے گا۔
عالمی پلیٹ فارم کا کردار
ایکسپو ریاض 2030 کو دنیا بھر کے ممالک، اداروں اور افراد کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جہاں تخلیقی خیالات، جدید حل اور بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ کاوشیں سامنے آئیں گی۔ منصوبے کی تیاری میں استحکام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تاکہ نمائش کے بعد بھی یہ علاقہ فعال اور کارآمد رہے۔
جدید گلوبل ویلج
ایکسپو 2030 ریاض کے بعد اس مقام کو ایک جدید گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا جائے گا۔ منصوبہ بندی کے مطابق یہ علاقہ مستقل بنیادوں پر ثقافتی، سیاحتی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا، جو ریاض کے شہری ڈھانچے کا فعال حصہ ہوگا۔
197 ممالک اور 42 ملین وزٹس کا ہدف
ایکسپو ریاض 2030 میں 197 ممالک اور 29 بین الاقوامی تنظیموں کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین کو امید ہے کہ نمائش کے دوران اندرون و بیرون ملک سے 42 ملین سے زائد وزٹس ریکارڈ کیے جائیں گے، جو اسے تاریخ کے بڑے اور جامع ایکسپوز میں شامل کرے گا۔
’اِرث ایکسپو‘: منصوبے کی روح
ایکسپو ریاض 2030 کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا ’ایرث‘ تصور ہے۔ منصوبے کو ابتدا ہی سے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نمائش کے بعد بھی یہ شہر کے لیے ایک زندہ، فعال اور معاشی طور پر فائدہ مند علاقہ بن سکے۔
پویلینز سے تخلیقی و کاروباری مراکز تک
سعودی عرب کا ارادہ ہے کہ ایکسپو کے بعد مختلف ممالک کے پویلینز کو دوبارہ ترتیب دے کر انہیں کام، تخلیق اور ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل کیا جائے۔ یہ اقدام شہری معیشت کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔
ماحولیاتی استحکام اور سرکلر کاربن اکانومی اصول
ماحول کے تحفظ کے لیے ایکسپو 2030 ریاض میں سرکلر کاربن اکانومی (سی ای ای) کے اصول اپنائے جا رہے ہیں۔ منصوبے میں ماحول دوست تعمیراتی مواد، تعمیراتی فضلے میں کمی اور کچرے کی ری سائیکلنگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
10 لاکھ گھنٹے کام، کوئی حادثہ نہیں
اب تک منصوبے میں ایک ملین (10 لاکھ) گھنٹے کام مکمل ہو چکا ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اس دوران کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ کمپنی نے کارکنوں کے لیے 4 ہزار گھنٹے کی حفاظتی تربیت فراہم کی ہے، جبکہ رہائشی مقامات تک حفاظتی معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ایک لاکھ 71 ہزار روزگار کے مواقع
ایکسپو ریاض 2030 سعودی معیشت کے لیے ایک بڑا محرک ثابت ہوگا۔ منصوبے کے مطابق تعمیر، نمائش کے دوران اور اس کے بعد مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 71 ہزار براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
7 ارب ڈالر کا بجٹ اور عالمی تعاون
سعودی عرب نے ایکسپو ریاض 2030 کے انعقاد کے لیے 7 ارب ڈالر سے زائد بجٹ مختص کیا ہے۔ حکومت اس ایونٹ کو عالمی سطح پر تعاون، اختراع اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک سنہری موقع سمجھتی ہے۔
’مستقبل کے لیے ایک ساتھ ایک وژن‘
ایکسپو ریاض 2030 کا مرکزی تھیم ’مستقبل کے لیے ایک ساتھ ایک وژن‘ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی، اختراع، استحکام اور عالمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ سعودی عرب نے شمولیتی ایکسپو کے عزم کے تحت 343 ملین ڈالر مختص کیے ہیں تاکہ 100 ممالک کو پویلین تعمیر، تکنیکی سہولت، سفر اور دیگر اخراجات میں مدد فراہم کی جا سکے۔
جامع اور مستقبل ساز ایکسپو
ایکسپو ریاض 2030 صرف ایک عالمی نمائش نہیں بلکہ سعودی عرب کے مستقبل، شہری ترقی اور عالمی شراکت داری کا عکاس عظیم الشان منصوبہ ہے، جو نمائش کے بعد بھی اپنی افادیت اور اثرات کے باعث دنیا بھر کی توجہ کا مرکز رہے گا۔