بین الاقوامی تحقیق کے مطابق یمن کے حوثی چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے ایرانی خیبر شکن کی طرز کا بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مجوزہ میزائل کی رینج تقریباً 1900 کلومیٹر بتائی گئی ہے، تاہم اس کی عملی تیاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
سعودی عرب کے لیے اس انکشاف کی اہمیت صرف میزائل کی متوقع رینج تک محدود نہیں۔مملکت میں تیل کی تنصیبات، بین الاقوامی ہوائی اڈے، صنعتی مراکز اور بڑے شہری علاقے موجود ہیں، جن کے تحفظ کے لیے مؤثر فضائی دفاعی نظام ضروری ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے مختلف مقامات پر حملوں اور فضائی خطرات کی اطلاعات نے شہری سلامتی اور ہوابازی کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھائی ہے۔
ایسے حالات میں اگر حوثی جدید میزائل مقامی طور پر تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دفاعی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
البتہ کسی میزائل کی طویل رینج اس کے کامیاب حملے کی ضمانت نہیں۔
درست نشانہ لگانے کی صلاحیت، تکنیکی معیار اور مخالف فضائی دفاع بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔