براہ راست نشریات

حوثیوں کا 1900 کلومیٹر مار کرنے والا میزائل، چینی ٹیکنالوجی کا انکشاف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Houthi Ballistic Missile China

بین الاقوامی تحقیق کے مطابق یمن کے حوثی چین سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے ایرانی خیبر شکن کی طرز کا بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مجوزہ میزائل کی رینج تقریباً 1900 کلومیٹر بتائی گئی ہے، تاہم اس کی عملی تیاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یمن کے حوثی باغیوں کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ 

بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حوثی چین سے حاصل کئے گئے پرزوں کی مدد سے ایسا جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو تقریباً 1900 کلومیٹر دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔

📊 اہم اعداد و حقائق

1900 کلومیٹر: مجوزہ بیلسٹک میزائل کی بتائی گئی ممکنہ رینج، آزمودہ صلاحیت نہیں۔

2022: ایران نے خیبر شکن میزائل متعارف کرایا۔

2025: یمنی حکام نے میزائل سازی سے متعلق سامان کی دو کھیپیں ضبط کیں۔

14 اکتوبر 2026: اس بارے میں نئی عالمی رپورٹ شائع ہوئی۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور العربیہ کی 14 اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق یہ میزائل ایرانی ساختہ خیبر شکن سے مماثلت رکھتا ہے۔

تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ حوثیوں نے یہ میزائل مکمل تیار کرلیا ہے یا اسے عملی طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔

مزید پڑھیں

ایرانی خیبر شکن کی طرز پر تیاری

اسلحے کی بین الاقوامی نقل و حرکت کی تحقیقات کرنے والے ادارے Conflict Armament Research کے مطابق حوثی ایران کے جدید بیلسٹک میزائل خیبر شکن سے ملتا جلتا ہتھیار مقامی سطح پر تیار کرنا چاہتے ہیں۔

ایران نے خیبر شکن کو 2022 میں متعارف کرایا تھا۔ 

ٹھوس ایندھن سے چلنے والے اس میزائل کی خصوصیات میں نسبتاً تیز لانچ کی تیاری اور دورانِ پرواز راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔

🚀 خیبر شکن میزائل کیا ہے؟

خیبر شکن ایران کا ٹھوس ایندھن سے چلنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جس کی طرز پر حوثیوں کی تیاری کی کوشش کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس نوعیت کی ٹیکنالوجی میں نسبتاً تیز لانچ کی تیاری اور دورانِ پرواز ہدف تک پہنچنے کی پیچیدہ صلاحیتیں اہم ہوتی ہیں۔

حوثیوں کے مجوزہ میزائل کو ایرانی اصل میزائل جتنا مؤثر سمجھنے کا فی الحال کوئی تصدیق شدہ ثبوت نہیں۔

ایسی ٹیکنالوجی فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائل روکنے کا عمل مشکل بنا سکتی ہے۔

تاہم حوثیوں کے مجوزہ میزائل کی حقیقی رفتار، درستگی اور تباہ کن صلاحیت کے بارے میں آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

چینی پرزے یمن کیسے پہنچے؟

تحقیقاتی رپورٹ کا سب سے اہم پہلو میزائل میں استعمال ہونے والے پرزوں کا ذریعہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یمنی حکام نے 2025 میں دو ایسی کھیپیں ضبط کی تھیں جن میں میزائل سازی سے متعلق سامان موجود تھا۔

ان کھیپوں میں میزائل کے ڈھانچے، راکٹ موٹر سے متعلق اجزا، دھاتی حصے اور شدید درجہ حرارت برداشت کرنے والا سامان شامل تھا۔

📦 چینی پرزوں کا معاملہ کیا ہے؟

تحقیقات میں ضبط شدہ کھیپوں میں میزائل کے ڈھانچے، راکٹ موٹر سے متعلق اجزا اور حرارت برداشت کرنے والے صنعتی سامان کا ذکر ہے۔

بعض پرزوں کا تعلق چینی سپلائرز سے جوڑا گیا؛ تاہم صرف چینی ساختہ سامان ملنا چینی حکومت کی براہِ راست مداخلت ثابت نہیں کرتا۔

دوہرے استعمال والی صنعتی اشیا کی تجارت اور آخری خریدار کی شناخت عالمی نگرانی کا اہم چیلنج ہے۔

تحقیقات میں بعض پرزوں کا تعلق چین میں موجود سپلائرز سے جوڑا گیا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ چینی حکومت نے براہِ راست حوثیوں کو ہتھیار فراہم کئے۔ 

چین مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ وہ حوثیوں کو اسلحہ فراہم نہیں کرتا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق جدید صنعتی آلات اور بعض پرزے دوہرے استعمال کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں عام صنعتوں کے علاوہ فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسی وجہ سے ان کی بین الاقوامی تجارت کی نگرانی ایک مشکل مسئلہ بن چکی ہے۔

ایران کا کردار کیا ہے؟

حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں ایرانی ٹیکنالوجی کا کردار کئی برسوں سے بین الاقوامی تحقیقات کا موضوع رہا ہے۔

ماضی میں ضبط کئے گئے ہتھیاروں اور ان کے اجزا میں ایرانی ساختہ سامان کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔

🇮🇷 ایران کا کردار کہاں تک ہے؟

پچھلی تحقیقات میں حوثیوں کے بعض ہتھیاروں اور پرزوں کے ایرانی ماخذ کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔

نئی رپورٹ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حوثی مکمل ہتھیار درآمد کرنے کے بجائے مختلف ملکوں سے پرزے لاکر مقامی پیداوار بڑھانا چاہتے ہیں؟

مقامی میزائل سازی کی کوشش، ایران سے مکمل تکنیکی آزادی کا ثبوت نہیں۔

تاہم نئی رپورٹ یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ کیا حوثی مکمل میزائل درآمد کرنے کے بجائے مختلف ممالک سے پرزے حاصل کرکے اپنی میزائل صنعت قائم کرنا چاہتے ہیں؟

اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو بیرونی سپلائی محدود ہونے کے باوجود ہتھیاروں کی تیاری کسی حد تک جاری رکھ سکتے ہیں۔

اس کے باوجود مقامی پیداوار کی کوشش کو ایران سے مکمل تکنیکی آزادی کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔

ضبط شدہ
سامان میں
چینی سپلائرز سے
منسلک پرزوں
کی نشاندہی

سعودی عرب کے لیے خطرہ کتنا بڑا؟

سعودی عرب کے لیے اس انکشاف کی اہمیت صرف میزائل کی متوقع رینج تک محدود نہیں۔مملکت میں تیل کی تنصیبات، بین الاقوامی ہوائی اڈے، صنعتی مراکز اور بڑے شہری علاقے موجود ہیں، جن کے تحفظ کے لیے مؤثر فضائی دفاعی نظام ضروری ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے مختلف مقامات پر حملوں اور فضائی خطرات کی اطلاعات نے شہری سلامتی اور ہوابازی کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھائی ہے۔
ایسے حالات میں اگر حوثی جدید میزائل مقامی طور پر تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو دفاعی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
البتہ کسی میزائل کی طویل رینج اس کے کامیاب حملے کی ضمانت نہیں۔ 
درست نشانہ لگانے کی صلاحیت، تکنیکی معیار اور مخالف فضائی دفاع بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بحیرہ احمر اور عالمی تجارت پر اثرات

یمن کی جغرافیائی اہمیت کے باعث حوثیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے اثرات سعودی عرب سے آگے بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔

⚠️ سعودی عرب کے لیے کیا خطرہ ہے؟

مجوزہ میزائل کی طویل رینج سعودی عرب میں شہری علاقوں، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق تشویش بڑھا سکتی ہے۔

لیکن رینج اور کامیاب حملہ ایک چیز نہیں: اصل صلاحیت میزائل کی درستگی، تیاری کے معیار اور فضائی دفاع پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

فی الحال نئے میزائل کے عملی طور پر تیار ہونے کی تصدیق موجود نہیں۔

حوثیوں کی میزائل اور ڈرون پیداوار میں ممکنہ اضافہ تجارتی جہازوں، سمندری انشورنس اور مال برداری کے اخراجات کے لیے نئے خدشات پیدا کرسکتا ہے۔

اگر سمندری حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سپلائی چین پر بھی دباؤ پڑسکتا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

دفاعی ماہرین کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ حوثی میزائل سازی کے تجربات سے باقاعدہ مقامی پیداوار تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔

اس حوالے سے تین امکانات سامنے آتے ہیں: 

تکنیکی مشکلات کے باعث منصوبے میں تاخیر، محدود پیمانے پر مقامی پیداوار، یا بین الاقوامی پابندیوں کے ذریعے ضروری پرزوں کی فراہمی میں رکاوٹ۔

🚢 بحیرہ احمر اور تجارت پر اثرات

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔

اگر حوثیوں کی میزائل اور ڈرون پیداوار بڑھی، تو جہاز رانی، انشورنس اور مال برداری کی لاگت سے متعلق خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں پر حقیقی اثر حملوں، ترسیل میں رکاوٹ اور عالمی منڈی کے ردعمل پر منحصر ہوگا۔

فی الحال ان میں سے کسی امکان کو یقینی نہیں کہا جاسکتا۔

اصل تشویش یہ ہے کہ اگر حوثی جدید میزائلوں کی مقامی تیاری میں کامیاب ہوگئے تو یمن کا تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے، جس کے اثرات سعودی عرب، خلیجی سلامتی اور عالمی تجارت تک پہنچیں گے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

العربیہ — 14 اکتوبر 2026
اصل رپورٹ کھولیں

Conflict Armament Research
اصل رپورٹ کھولیں

Wall Street Journal
اصل رپورٹ کھولیں

تصدیق شدہ معلومات اور امکان یا تجزیے میں فرق برقرار رکھیں۔