براہ راست نشریات

ریاض سے صنعا تک کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ میں کیا بدل رہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
یمن کی جنگ کے دوران صنعاء میں دھماکوں اور فوجی کارروائیوں کا منظر
یمن کی جنگ کا ایک اہم پہلو بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کی جغرافیائی اہمیت ہے
📊 فیکٹ باکس: سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ کے اہم حقائق +
ریاض ایئرپورٹ پر حملہ اور نیا سیکیورٹی بحران

10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ڈرون و میزائل حملے میں 13 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد کے زخمی ہونے نے خلیجی فضائی حدود کی سلامتی اور سعودی شہری تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حکومتی پیش رفت
آپریشن فجر الیمن اور ریاستی کنٹرول

یمنی صدارتی قیادت کونسل نے سرکاری اداروں کی بحالی اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی کے لیے زمینی اور فضائی مہم تیز کر دی ہے، جس کے تحت کمانڈ سینٹرز اور ایندھن ڈپو کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شہری تحفظ
صنعاء کے الصباحہ اسٹیشن کا انتباہ

عرب اتحاد نے یمن پیٹرولیم کمپنی کے مرکزی فیول اسٹیشن کو خالی کرنے کا نقشہ جاری کیا، جس کے فوراً بعد دھماکوں نے دارالحکومت میں حوثی ایندھن ترسیل کے انفراسٹرکچر پر کاری ضرب لگائی۔

سفارتی بلاک
چار ملکی مشترکہ دفاعی یکجہتی

سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور مصر نے باضابطہ مشترکہ مذمتی بیانیہ جاری کرتے ہوئے شہری ہوائی اڈوں پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خطے کے استحکام پر حملہ قرار دیا ہے۔

قانونی سختیاں
معاونین کے لیے سزائے موت کا قانون

یمنی کونسل نے حوثیوں کو جاسوسی، مالیات یا خفیہ معلومات فراہم کرنے والے سہولت کاروں کے خلاف عدالتی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جس میں کسی بھی عہدے دار کے لیے رعایت کے بغیر سزائے موت نافذ العمل ہے۔

یمن کی جنگ ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سعودی ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے یمن میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک اہم آئل اسٹیشن خالی کرانے کے انتباہ اور اس کے بعد دھماکوں کی اطلاعات نے اس تنازع کو نئی شدت دے دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض دو فریقوں کی لڑائی نہیں، بلکہ اس کے اثرات سعودی عرب کی سلامتی، یمن کے مستقبل، بحیرۂ احمر میں تجارتی راستوں اور پورے خطے کے استحکام تک پھیل سکتے ہیں۔

ریاض ایئرپورٹ پر حملہ خطرے کی گھنٹی

سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ حملوں نے شہریوں کی سلامتی اور فضائی سفر کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

لوگو

ریاض تا صنعاء: یمن جنگ کا نیا اور خطرناک موڑ

ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد اتحادی فورسز کے جوابی وار سے خطے میں کشیدگی عروج پر

ریاض ایئرپورٹ پر خونریز حملوں اور صنعاء کی آئل تنصیبات پر بمباری نے سعودی دفاع، بحیرہ احمر کی جہاز رانی اور علاقائی امن کو سنگین خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ریاض ایئرپورٹ پر جانی نقصان 🚨

13

کنگ خالد ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں 13 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے، جس سے فضائی سفر کا تحفظ بری طرح متزلزل ہوا۔

مشترکہ سفارتی اتحاد 🌐

4

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے حوثیوں سے جارحیت فوری بند کرنے کا متفقہ مطالبہ کیا۔

توانائی اہداف پر حملوں کی دھمکی 🛢️

⚠️

صنعاء کے آئل اسٹیشن پر انتباہ کے بعد حوثیوں نے ارامکو اور ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی، جس سے تیل منڈیوں پر خطرات بڑھ گئے۔

آپریشن فجر الیمن اور قانونی گھیراؤ ⚔️

⚖️

یمنی حکومت نے ریاستی عملداری کی بحالی کا عسکری مشن تیز کرتے ہوئے حوثی معاونین اور معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے سزائے موت کا انتباہ جاری کیا۔

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

میڈیا رپورٹس کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ اگلے روز ایک اور حملے میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔ 

ان واقعات کے بعد سعودی دارالحکومت میں فضائی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خطرناک صورت حال قرار دیا اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

چاروں ممالک نے حوثیوں کو حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فوری طور پر انہیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس مشترکہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کا معاملہ اب محض دوطرفہ تنازع تک محدود نہیں رہا۔

🎯 حوثیوں کے اصل اہداف کیا ہیں؟ سعودی عرب کیوں نشانے پر ہے؟ +
مملکت کے معاشی اعصاب کو مفلوج کرنے کی حکمت عملی

حوثی عسکری ترجمان کی دھمکیوں کے مطابق آرامکو آئل فیسیلٹیز، ریاض ریفائنری اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی توانائی پیداوار اور تجارتی اعتماد پر کاری چوٹ لگانا ہے۔

اسٹریٹجک دباؤ
یمنی محاذ سے توجہ ہٹانا

یمن کے اندر سرکاری افواج اور قبائل کی پیش قدمی کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کو کم کرنے کے لیے حوثی قیادت لڑائی کا رخ سرحد پار سعودی شہروں کی جانب موڑ رہی ہے۔

سیاسی کارڈ
مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانا

سعودی شہری ایئرپورٹس کو غیر محفوظ بنا کر حوثی یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یمن میں ان کے وجود اور مطالبات کو تسلیم کیے بغیر خلیج میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

توانائی لیوریج
عالمی منڈیوں کو بلیک میل کرنا

تیل کی تنصیبات اور ٹینکرز کو لاحق خطرات کے ذریعے ایندھن کی بین الاقوامی قیمتوں پر اثر انداز ہونا تاکہ واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں پر تصفیے کے لیے دباؤ بڑھے۔

علاقائی صف بندی
مزاحمتی محور کا فعال کردار

یمن سے خلیج تک حملوں کا دائرہ وسیع رکھ کر حوثی علاقائی پراکسی جنگ میں اپنی اہمیت اور بیرونی اتحادیوں کے لیے اپنی اسٹریٹجک قدر کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

صنعاء میں آئل اسٹیشن خالی کرانے کا حکم کیوں؟

13 اکتوبر کو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد نے صنعاء کے مغربی حصے میں واقع یمن پیٹرولیم کمپنی کے الصباحہ مرکزی اسٹیشن کے آس پاس موجود شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی۔

اتحادی ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے متعلقہ مقام کی نشاندہی کے لیے نقشہ بھی جاری کیا اور کہا کہ شہری اپنی حفاظت کے لیے وہاں سے نکل جائیں۔

اس انتباہ کے بعد صنعاء میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے آئل تنصیبات پر فضائی حملوں کی اطلاع دی، تاہم اس مرحلے پر اتحادی افواج کی جانب سے حملے کی مکمل تفصیلات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ 

🛡️ سعودی عرب کا دفاع: حوثی حملوں کا جواب کیسے دیا جا رہا ہے؟
▼
پیشگی کارروائی اور انخلا کے احکامات

عرب اتحاد کی حکمت عملی اب صرف حملوں کو فضا میں روکنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈرون اور میزائل کے ایندھن ڈپو، اسمبلنگ ورکشاپس اور لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنانے سے قبل شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی جا رہی ہے۔

فضائی دفاعی شیلڈ کی ازسرنو تعیناتی

پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل بیٹریاں شہری ایئرپورٹس، صنعتی زونز اور مقدس مقامات کے گرد ہائی الرٹ پر رکھی گئی ہیں تاکہ نچلی پرواز کرنے والے خودکش ڈرونز کا راستہ روکا جا سکے۔

بحری ناکہ بندی اور پیٹرولنگ

بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں گشتی بحری جہازوں کے ذریعے سمندری راستوں سے حوثیوں تک جدید اسلحے کے پرزہ جات اور گائیڈنس سسٹمز کی اسمگلنگ پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

حوثیوں کی دھمکیاں اور سعودی مؤقف

اتحادی افواج کے انتباہ کے بعد حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب میں ارامکو کی تنصیبات، ریاض کے ہوائی اڈے اور ایک آئل ریفائنری کو ممکنہ اہداف قرار دیتے ہوئے دھمکی دی۔

اس بیان نے تنازع کے مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے، کیونکہ توانائی کی تنصیبات پر حملے صرف ایک ملک کی معیشت ہی نہیں بلکہ عالمی منڈیوں اور تیل کی ترسیل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

دریں اثنا سعودی کابینہ نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ مملکت کے ہوائی اڈوں، شہری تنصیبات اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے نتائج حوثیوں کو بھگتنا ہوں گے۔ 

سعودی قیادت نے ملکی دفاع، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ اور بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت کی سلامتی کو بنیادی ترجیح قرار دیا ہے۔

⚓ عالمی تجارت خطرے میں؟ بحیرۂ احمر کی جنگ کے بڑے اثرات
▼
باب المندب کا چوک پوائنٹ اور ترسیلی تعطل

آبنائے باب المندب اور بحیرۂ احمر سے دنیا کی تقریباً 12 فیصد سمندری تجارت اور خام تیل کے بڑے جہاز گزرتے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں بمباری اور ڈرون خطرات کے سبب جہاز رانی کمپنیوں کے اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھ رہے ہیں۔

وار رسک انشورنس میں ہوشربا اضافہ

بین الاقوامی انشورنس اداروں نے تجارتی بحری جہازوں کے لیے پریمیم کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے کمپنیاں راس امید کا طویل اور مہنگا افریقی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

یورپی و ایشیائی منڈیوں میں مہنگائی

سپیشل سپلائی چینز تاخیر کا شکار ہونے سے صنعتی خام مال اور روزمرہ کنٹینرز کے کرایوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا حتمی بوجھ دنیا بھر کے عام صارفین کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

’فجر الیمن‘آپریشن، حوثیوں پر شدید دباؤ

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ’فجر الیمن‘ آپریشن کے تحت ریاستی اداروں کی بحالی اور حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر دوبارہ حکومتی کنٹرول حاصل کرنے کو اہم مقاصد قرار دیا ہے۔

اس دوران اتحادی افواج اور یمنی سرکاری فوج کی کارروائیوں میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں، اسلحے کے ذخائر، کمانڈ مراکز اور رسد کے نظام کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یمنی مسلح افواج نے اپنی کارروائیوں اور حوثیوں کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں بڑے اعدادوشمار بھی جاری کیے ہیں، تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

پاکستان کا پرچم پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ تیل، مہنگائی اور سعودی تعلقات
◀
برادرانہ سلامتی اور اصولی یکجہتی

پاکستان نے سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں کی فوری مذمت کر کے حرمین شریفین اور مملکت کے دفاع کے ساتھ اپنے غیر متزلزل اسٹریٹجک عزم کا اعادہ کیا ہے۔

درآمدی تیل کا بل اور ملکی معیشت

سعودی آئل ریفائنریوں کو لاحق خطرات یا ترسیل میں تعطل کی صورت میں عالمی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر براہِ راست دباؤ ڈال سکتا ہے۔

25 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکینِ وطن

سعودی عرب میں برسرِ روزگار لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار اور ترسیلاتِ زر کا تحفظ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جس کے باعث سعودی سلامتی اسلام آباد کی اہم ترجیح ہے۔

علاقائی سفارت کاری اور توازن

پاکستان خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور مذاکراتی حل پر زور دیتا ہے تاکہ خلیج میں بحران مزید کشیدگی اور معاشی بدحالی کا سبب نہ بنے۔

حوثیوں کے معاونین کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ

یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے جاسوسی، حوثیوں کی مالی معاونت اور انہیں ایسی معلومات یا وسائل فراہم کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے جو ریاستی سلامتی یا فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔

کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بعض سنگین جرائم کی سزا موجودہ قوانین کے تحت سزائے موت تک ہو سکتی ہے، جبکہ سرکاری عہدہ یا فوجی رتبہ کسی کو قانونی جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔

یہ اقدام یمنی حکومت کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت وہ حوثیوں کی فوجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کے لیے معلومات اور وسائل فراہم کرنے والے نیٹ ورک کو بھی محدود کرنا چاہتی ہے۔

🌐 عالمی طاقتیں کس کے ساتھ؟ سعودی عرب اور یمن کی جنگ پر دنیا کا مؤقف
◀
سعودی عرب کا پرچم
سعودی عرب اور خلیجی اتحاد

ریاستی خودمختاری، ہوائی اڈوں اور آئل انفراسٹرکچر کا ہر قیمت پر دفاع؛ حوثیوں کے حملوں کو دہشت گردی قرار دے کر فوجی و انٹیلی جنس جواب۔

ترکیہ کا پرچم
ترکیہ اور مصر کی یکجہتی

سعودی شہری آبادیوں پر حملوں کی دوٹوک مذمت؛ یمن میں آئینی حکومت کی تائید اور بحیرۂ احمر میں تجارتی فریڈم آف نیویگیشن کا مطالبہ۔

امریکا کا پرچم
امریکہ اور مغربی بلاک

سعودی عرب کو اینٹی میزائل انٹیلی جنس اور سیکیورٹی مدد کی فراہمی، جبکہ بحیرۂ احمر میں ٹینکرز کے تحفظ کے لیے بحری ٹاسک فورسز کی پٹرولنگ۔

ایران کا پرچم
ایران کا سیاسی مؤقف

صنعاء میں بمباری کی مخالفت اور حوثیوں کو آزاد یمنی مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کرنا، جبکہ ناکہ بندی کے خاتمے کو مستقل امن کی شرط ٹھہرانا۔

جنگ کا اثر یمن سے آگے بھی جا سکتا ہے

یمن کی جنگ کا ایک اہم پہلو بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب کی جغرافیائی اہمیت ہے۔

یہ راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ہیں۔ ان علاقوں میں مسلسل حملے یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے سے سامان کی ترسیل، بیمہ اخراجات اور عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب یمن کے شہری پہلے ہی طویل تنازع کے معاشی اور انسانی اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ 

لڑائی میں مزید شدت خوراک، ایندھن، پانی اور طبی سہولتوں کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور امدادی رسائی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔

🧭 اب آگے کیا ہوگا؟ حوثیوں کے خلاف جنگ کے تین ممکنہ منظرنامے
◀
منظرنامہ 1: آپریشن فجر الیمن کے تحت حوثی عسکری تنزلی

اگر اتحادی فضائی مہم اور یمنی سرکاری فوج حوثی کمانڈ سینٹرز اور اسلحہ ڈپو کو مفلوج کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اندرونی وسائل ختم ہونے سے حوثی قیادت مذاکرات اور طویل فائر بندی پر مجبور ہو سکتی ہے۔

منظرنامہ 2: اعصابی جنگ اور طویل جوابی تعطل

فریقین ایک دوسرے کے معاشی انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھیں؛ سرحد پار ڈرون کارروائیاں اور صنعاء میں بمباری تیل کی بین الاقوامی منڈیوں کو مسلسل غیر یقینی کیفیت میں مبتلا رکھے۔

منظرنامہ 3: بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تصادم

سعودی ریفائنریوں یا تجارتی آئل ٹینکرز پر کسی بڑے تباہ کن حملے کے بعد بین الاقوامی اتحاد کی براہِ راست فضائی و بحری مداخلت، جس سے جنگ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔

سعودی عرب کا اصل امتحان

حالیہ واقعات نے سعودی عرب کے سامنے دو بڑے چیلنج رکھ دیے ہیں۔ ایک طرف میزائل اور ڈرون حملوں سے شہریوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت اور دوسری طرف یمن میں ایسی صورت حال پیدا کرنا جس سے طویل جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

پاکستان سمیت اہم علاقائی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت اور حوثی حملوں کی مذمت سفارتی سطح پر اہم پیش رفت ہے۔ 

مبصرین کے مطابق خطے کا مستقبل اس بات سے جڑا ہے کہ شہری اہداف پر حملے رکیں، یمن کی انسانی صورت حال مزید خراب نہ ہو اور کوئی ایسا سیاسی راستہ نکلے جو یمن کی خودمختاری، سعودی سلامتی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنا سکے۔

اصل سوال یہی ہے کہ کیا فوجی دباؤ حوثیوں کو حملے روکنے پر مجبور کرے گا، یا یہ کشیدگی سعودی عرب اور یمن دونوں کو ایک طویل اور زیادہ تباہ کن مرحلے میں دھکیل دے گی؟

📚 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES 🇸🇦 سعودی عرب پر حوثی حملے، صنعاء میں اتحادی کارروائیاں اور یمن کی تازہ صورت حال 7 بنیادی حوالہ جات
📰 العربیہ کی اصل خبریں
العربیہ — صنعاء میں شہریوں کے انخلا کا انتباہ سعودی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے یمن پیٹرولیم کمپنی کے الصباحہ مرکزی اسٹیشن کے قریب شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت اور مجوزہ فوجی کارروائی سے متعلق اصل خبر۔ اصل عربی خبر · 13 اکتوبر 2026 خبر کھولیں ↗ العربیہ — سعودی کابینہ کا حوثی حملوں پر مؤقف سعودی ہوائی اڈوں، شہری تنصیبات اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے خلاف سعودی کابینہ کے بیان اور مملکت کے دفاع سے متعلق خبر۔ اصل عربی خبر · 13 اکتوبر 2026 خبر کھولیں ↗ العربیہ — حوثیوں کے معاونین کے خلاف قانونی کارروائی یمنی قیادت کی جانب سے حوثیوں کو معلومات یا مالی مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور بعض سنگین جرائم پر ممکنہ سزاؤں سے متعلق رپورٹ۔ اصل عربی خبر · 13 اکتوبر 2026 خبر کھولیں ↗ العربیہ — فجر الیمن آپریشن اور حوثی ٹھکانے یمن میں فوجی مہم، حوثیوں کے مقامات اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنانے سے متعلق اصل رپورٹ۔ اصل عربی خبر · 11 اکتوبر 2026 خبر کھولیں ↗
🌐 بین الاقوامی ذرائع سے تصدیق اور پس منظر
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) — صنعاء میں آئل تنصیبات پر حملے 13 اکتوبر کی رپورٹ میں شہریوں کے انخلا کے انتباہ، الصباحہ آئل تنصیبات پر حملوں اور حوثیوں کی جوابی دھمکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارہ رپورٹ کھولیں ↗ رائٹرز — صنعاء میں کارروائی سے پہلے انخلا کا حکم اتحادی افواج کے انتباہ، یمنی آئل کمپنی کے اسٹیشن اور حوثی ترجمان کی جوابی دھمکیوں کے بارے میں بین الاقوامی رپورٹ۔ بین الاقوامی رپورٹ · 13 اکتوبر 2026 رپورٹ کھولیں ↗ سعودی گزٹ — اتحادی افواج کا شہریوں کو انتباہ الصباحہ مرکزی اسٹیشن کے قریب شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت اور ریاض کے شمال میں ڈرونز کو روکنے سے متعلق تازہ رپورٹ۔ سعودی اخبار · 13 اکتوبر 2026 رپورٹ کھولیں ↗
📝 ادارتی نوٹ: یہ ویجیٹ اصل عربی خبروں اور ان واقعات سے متعلق بین الاقوامی رپورٹنگ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ فوجی کارروائیوں، جانی نقصان اور فریقین کے دعوؤں کو اشاعت سے پہلے تازہ ترین دستیاب معلومات کے ساتھ دوبارہ جانچیں۔ by: overseaspost.net