براہ راست نشریات

بحیرہ احمر میں نیا بحران، ایتھوپیا اور اریٹیریا جنگ کے دہانے پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Ethiopia Eritrea Conflict

ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے بحیرہ احمر میں نئے بحران کا خطرہ پیدا کردیا ہے۔
بندرگاہ عصب تک رسائی کا تنازع، تیگرائے میں لڑائی اور مصر کی سفارتی سرگرمیاں پورے خطے کے لیے اہم بن گئی ہیں۔

بحیرہ احمر پہلے ہی بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے، لیکن اب اس کے افریقی ساحل پر ایک نیا بحران جنم لے رہا ہے۔ 

ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے ایک اور جنگ کے خدشات پیدا کر دیئے ہیں، جس کے اثرات صرف ان دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

⚠️ تازہ صورت حال — سرحد پر کیا ہوا؟

4 اکتوبر: ایتھوپیا کی حامی فورسز نے تیگرائے کے دارالحکومت میکیلے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا۔

9 اکتوبر: ایتھوپیا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اریٹیریا کی فوج اس کی سرزمین میں تقریباً 60 کلومیٹر تک داخل ہوئی ہے۔ یہ ایتھوپیا کا دعویٰ ہے، آزادانہ طور پر مکمل تصدیق شدہ حقیقت نہیں۔

10 اکتوبر: ایتھوپیا کی فوج اور اس کے اتحادی ادیگرات میں داخل ہوئے؛ اریٹیریا نے توغل کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔

اہم احتیاط: بعض فوجی سرگرمیوں کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن سرحد پار پیش قدمی کے تمام دعوؤں کی آزاد تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس تنازع کے 3 اہم پہلو ہیں۔ 

  • پہلا، ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائے میں جاری لڑائی
  • دوسرا، ایتھوپیا کی بحیرہ احمر تک براہ راست رسائی کی خواہش
  • اور تیسرا، مصر، سوڈان، صومالیہ اور اریٹیریا کی مشترکہ سفارتی سرگرمیاں۔

مزید پڑھیں

سرحدی جھڑپوں سے بحران کیسے شروع ہوا؟

اکتوبر 2026 کے آغاز میں شمالی ایتھوپیا کی صورت حال تیزی سے خراب ہوئی۔ 

حکومتی فوج اور اس کے اتحادیوں نے تیگرائے کے دارالحکومت میکیلے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا۔

10 اکتوبر کو ایتھوپیا کی فوج سرحدی شہر ادیگرات میں داخل ہوئے۔ 

اسی دوران اریٹیریا کی فوجی نقل و حرکت اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

ایتھوپیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اریٹیریا کی فوج اس کی سرزمین میں تقریباً 60 کلومیٹر تک داخل ہوئی ہے۔

دوسری جانب اریٹیریا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایتھوپیا جنگ شروع کرنے کے لیے جواز پیدا کر رہا ہے۔

تاہم آزاد ذرائع سے تمام فوجی دعووں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

⚓ بندرگاہ عصب — تنازع کا اصل مرکز

1993 میں اریٹیریا کی آزادی کے بعد ایتھوپیا سمندری ساحل سے محروم ہوگیا۔ اس کی تجارت کا بڑا حصہ آج بھی پڑوسی ملکوں کی بندرگاہوں سے گزرتا ہے۔

اریٹیریا کی بندرگاہ عصب ایتھوپیا سے نسبتاً قریب اور بحیرہ احمر پر واقع ہے، اسی لیے اسے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت حاصل ہے۔

اصل فرق دو باتوں میں ہے: بندرگاہ کے تجارتی استعمال کا معاہدہ اور کسی دوسرے ملک کی زمین پر خودمختاری کا دعویٰ۔ اول الذکر مذاکرات سے ممکن ہے؛ دوسری صورت کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے۔

بندرگاہ عصب تنازع کا مرکز کیوں ہے؟

اصل مسئلہ بحیرہ احمر تک ایتھوپیا کی رسائی کا ہے۔

اریٹیریا نے 1993 میں آزادی حاصل کی تو ایتھوپیا سمندری ساحل سے محروم ہوگیا۔ 

اس کے بعد اپنی بیشتر بین الاقوامی تجارت کے لیے اسے پڑوسی ممالک، خصوصاً جبوتی کی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑا۔

🗣️ دونوں ملک کیا کہہ رہے ہیں؟

ایتھوپیا: سمندر تک قابلِ اعتماد رسائی کو اقتصادی ضرورت سمجھتا ہے اور اریٹیریا پر سرحدی مداخلت اور مخالف مسلح گروہوں کی مدد کا الزام لگاتا ہے۔

اریٹیریا: ایتھوپیا کے فوجی الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اپنی سرزمین و خودمختاری کے خلاف ممکنہ کارروائی سے خبردار کرتا ہے۔

2018 سے 2026 تک: کبھی دونوں ممالک میں تاریخی مفاہمت ہوئی، پھر تیگرائے کی جنگ میں تعاون رہا، لیکن بعد میں تعلقات دوبارہ خراب ہوگئے اور سفارتی روابط ٹوٹ گئے۔

دونوں حکومتوں کے الزامات کو ان کے اپنے مؤقف کے طور پر پڑھنا ضروری ہے۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد سمجھتے ہیں کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اقتصادی ضروریات کے لیے سمندر تک مستقل رسائی ضروری ہے۔

اس تناظر میں اریٹیریا کی بندرگاہ عصب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

OverseasPost Template 2 9

اریٹیریا کو خدشہ ہے کہ ایتھوپیا بندرگاہ تک رسائی کے مطالبے کو مستقبل میں علاقائی خودمختاری کے تنازع میں تبدیل کرسکتا ہے۔

ایتھوپیا کا مؤقف ہے کہ وہ سمندر تک رسائی مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک بندرگاہ کے تجارتی استعمال پر سمجھوتا کریں گے یا معاملہ علاقائی خودمختاری کی لڑائی بن جائے گا؟

مصر اچانک کیوں سرگرم ہوگیا؟

4 اکتوبر کو مصر کے شہر العلمین میں ایک اہم سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مصر، اریٹیریا، سوڈان اور صومالیہ کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

🌍 مصر، سوڈان اور صومالیہ کیوں اہم ہیں؟

4 اکتوبر 2026: مصر کے شہر العلمین میں مصر، اریٹیریا، سوڈان اور صومالیہ کی چار ملکی سربراہی ملاقات ہوئی۔

اجلاس کے اعلامیے میں علاقائی خودمختاری، بین الاقوامی بحری آمدورفت کی سلامتی اور بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک کے کردار پر زور دیا گیا۔

مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل کے پانی کا اختلاف بھی موجود ہے، جبکہ صومالیہ کو اپنی علاقائی خودمختاری سے متعلق خدشات رہے ہیں۔

وضاحت: مشترکہ سفارتی موقف کو خودبخود ایتھوپیا کے خلاف فوجی اتحاد یا اعلانِ جنگ سمجھنا درست نہیں۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحیرہ احمر کے انتظام اور سلامتی کی بنیادی ذمہ داری اس کے ساحلی ممالک کی ہے۔

یہ مؤقف ایتھوپیا کی سمندری رسائی کی خواہش کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مصر اور ایتھوپیا کے تعلقات پہلے ہی دریائے نیل اور رینیسانس ڈیم کے مسئلے پر کشیدہ ہیں۔

صومالیہ بھی ایتھوپیا کے سابقہ سمندری معاہدوں اور علاقائی خودمختاری سے متعلق اقدامات پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔

اس طرح ایتھوپیا کو بیک وقت کئی پڑوسی ممالک کے ساتھ سیاسی اختلافات کا سامنا ہے۔

تاہم 4 ملکی اجلاس کو ایتھوپیا کے خلاف فوجی اتحاد قرار دینے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک کیوں فکر مند ہوسکتے ہیں؟

اریٹیریا بحیرہ احمر کے مغربی ساحل پر واقع ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور جزیرہ نمائے عرب ہیں۔

اس سمندری راستے سے بین الاقوامی تجارت، تیل اور دیگر ضروری سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

🚢 سعودی عرب اور خلیج پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اریٹیریا بحیرہ احمر کے مغربی ساحل پر واقع ہے، جہاں سے اہم بحری راستے خلیج عدن اور باب المندب کی طرف جاتے ہیں۔

اگر لڑائی بندرگاہوں یا ساحلی تنصیبات تک پھیلی تو جہازوں کی سلامتی، مال برداری اور انشورنس اخراجات کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے اس بحران کی اہمیت بنیادی طور پر علاقائی سلامتی اور تجارت سے متعلق ہے۔

ابھی کیا ثابت نہیں؟ موجودہ ایتھوپیا–اریٹیریا کشیدگی کی وجہ سے بحیرہ احمر کی بحری آمدورفت بند ہونے کی مصدقہ اطلاع نہیں۔

اگر ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان جنگ ساحلی علاقوں تک پھیلتی ہے تو بحری جہازوں کی سلامتی، مال برداری کے اخراجات اور انشورنس کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم موجودہ لڑائی کے باعث بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔

کیا ایک اور بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے؟

موجودہ حالات میں تین امکانات زیر بحث ہیں۔

پہلا، لڑائی تیگرائے اور سرحدی علاقوں تک محدود رہے۔

دوسرا، دونوں ملکوں کی افواج براہ راست جنگ میں داخل ہوجائیں، جس سے بندرگاہ عصب سمیت اہم مقامات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

🔮 آگے کیا ہوسکتا ہے؟ تین منظرنامے

1 — محدود جھڑپیں: لڑائی تیگرائے اور سرحدی علاقوں کے گرد محدود رہے، جبکہ دونوں حکومتیں سفارتی دباؤ جاری رکھیں۔

2 — براہ راست جنگ: مزید حملوں یا غلط اندازوں سے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان کھلی جنگ چھڑ جائے؛ ساحلی مقامات کے تحفظ کا سوال زیادہ حساس ہوجائے۔

3 — سفارتی مفاہمت: افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی، سرحدی رابطے اور سمندری تجارت پر بات چیت کا راستہ کھلے۔

اصل نتیجہ: یہ امکانات ہیں، طے شدہ مستقبل نہیں۔ اب فیصلہ کن سوال فوجی کشیدگی کو روکنا اور تجارتی رسائی کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔

تیسرا، افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

یہ ممکنہ منظرنامے ہیں، یقینی پیش گوئیاں نہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والا یہ بحران محض دو پڑوسی ملکوں کا سرحدی تنازع نہیں، بلکہ بندرگاہوں، معاشی مفادات اور علاقائی طاقت کے توازن کی کشمکش ہے۔

اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایک مقامی فوجی تنازع وسیع علاقائی بحران بن سکتا ہے۔

سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ایتھوپیا کو سمندر تک رسائی مذاکرات سے ملے گی، یا اس خواہش کی قیمت پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی؟

🔗اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Reuters — 10 October 2026
اریٹیریا کی سلامتی کونسل سے اپیل، ادیگرات میں پیش قدمی اور سرحدی الزامات
اصل رپورٹ کھولیں


Reuters — 4 October 2026
میکیلے میں حکومتی حامی فورسز کے کنٹرول کی خبر
اصل رپورٹ کھولیں


United Nations — 10 October 2026
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ
اصل رپورٹ کھولیں


Egyptian Presidency — 4 October 2026
مصر، اریٹیریا، سوڈان اور صومالیہ کے اجلاس کا سرکاری اعلامیہ
اصل رپورٹ کھولیں