پناہ گزین بچی سے برطانوی پارلیمنٹ تک، کیسے بدلی تقدیر؟
+
پناہ گزین بچی سے برطانوی پارلیمنٹ تک، کیسے بدلی تقدیر؟
خانہ جنگی سے فرار اور برطانیہ میں پناہ
صومالیہ میں جنگ کے شعلے بھڑکنے پر 6 سالہ ساغال اپنے خاندان کے ہمراہ جان بچا کر لندن پہنچیں اور شمالی لندن کے علاقے کیمڈن میں ایک پناہ گزین بچی کے طور پر ان کی پرورش شروع ہوئی۔
نوجوان رضاکار اور برطانوی اشاروں کی زبان
محرومیوں کو کمزوری بنانے کے بجائے انہوں نے برطانوی اشاروں کی زبان سیکھی اور محض 16 برس کی عمر میں کم آمدنی والے خاندانوں، اسکولوں اور بے گھر افراد کے حقوق کے لیے فلاحی خدمات کا آغاز کیا۔
بلدیاتی سیاست اور کیمڈن کونسل کی قیادت
2022ء میں کیمڈن کونسل کی کونسلر منتخب ہوئیں اور مئی 2026ء میں تاریخ رقم کرتے ہوئے اس اہم کونسل کی قیادت سنبھالنے والی پہلی سیاہ فام خاتون رہنما بن کر ابھریں۔
ہاؤس آف کامنز میں تاریخی فتح
سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی خالی کردہ نشست پر ضمنی الیکشن میں لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر گرین پارٹی اور دیگر حریفوں کو شکست دے کر پارلیمنٹ کی پہلی باحجاب صومالی نژاد رکن منتخب ہوئیں۔
کبھی جنگ سے جان بچانے کے لیے اپنا ملک چھوڑنا پڑا، کبھی نئے معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد کی اور آج وہی بچی برطانوی پارلیمنٹ کی رکن بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ کہانی کسی فلم کی نہیں بلکہ صومالی نژاد باحجاب مسلمان خاتون ساغال عبدالولی کی ہے، جنہوں نے لندن میں ایک ایسی انتخابی کامیابی حاصل کی ہے، جس نے برطانوی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
42 سالہ ساغال نے نہ صرف سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی خالی کردہ نشست جیتی بلکہ گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی جیسے مضبوط حریف کو بھی شکست دی۔
6 سال کی عمر میں جنگ سے فرار
ساغال عبد الولی کا سفر 1991 میں شروع ہوا، جب ان کا خاندان صومالیہ کی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے برطانیہ پہنچا۔ اس وقت ساغال کی عمر صرف 6 برس تھی۔
شمالی لندن کے علاقے کیمڈن میں پرورش پانے والی اس بچی کے لیے شاید یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ایک دن وہ اسی ملک کی پارلیمنٹ میں بیٹھے گی، جہاں اس کے خاندان نے پناہ حاصل کی تھی۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق ساغال صومالی زبان کے ساتھ برطانوی اشاروں کی زبان بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے محض 16 سال کی عمر میں سماجی خدمت شروع کردی تھی۔
💡
حجاب، مسلم شناخت اور برطانوی سیاست؛ ساغال کی جیت کیوں خاص ہے؟
+
حجاب، مسلم شناخت اور برطانوی سیاست؛ ساغال کی جیت کیوں خاص ہے؟
🧕 باحجاب پناہ گزین کی پارلیمانی فتح
ساغال عبدالولی برطانوی ایوانِ نمائندگان کی ان چند مسلم خواتین میں شامل ہیں جو حجاب کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئیں اور اس نشست سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون ایم پی ہیں۔
🏛️ کیئر اسٹارمر کا خالی کردہ سیاسی قلعہ
یہ انتخاب سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کے باعث ہوا تھا۔ ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس کی نشست 1983ء سے مسلسل لیبر کے پاس رہی ہے، جس کا دفاع ساغال نے باوقار انداز میں کیا۔
🛡️ شناخت پر تنقید اور عوامی یکجہتی کا جواب
انتخابی مہم کے دوران دائیں بازو کے رہنماؤں نے ان کی صومالی پیدائش پر سوالات اٹھائے، جسے برطانوی وزراء نے نسل پرستی قرار دیا، جبکہ ووٹرز نے بھاری اکثریت سے تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا۔
🤝 اتحاد اور شمولیت کا عملی پیغام
کامیابی پر ساغال نے واضح کیا کہ ان کا مقصد خوف کے بجائے امید بانٹنا ہے تاکہ برطانوی تارکینِ وطن یہ محسوس کریں کہ یہ ان کا اپنا وطن ہے جہاں سب کے لیے یکساں مواقع میسر ہیں۔
سماجی کارکن سے پارلیمنٹ کی رکنیت تک
ساغال نے سیاست میں آنے سے پہلے فلاحی تنظیموں، اسکولوں اور مقامی اداروں کے ساتھ کام کیا۔ بے گھر افراد اور کم آمدنی والے خاندانوں کے مسائل ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔
سال 2022 میں وہ کیمڈن کونسل کی رکن منتخب ہوئیں اور مئی 2026 میں اس کی سربراہ بن گئیں۔ وہ کونسل کی قیادت کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون بھی ہیں۔
اب انہوں نے ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس سے کامیابی حاصل کرکے موجودہ حلقے کی پہلی خاتون رکن پارلیمنٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
Thank you ❤️ https://t.co/VQ1WV1VhiX
— Sagal Abdi-Wali (@Sagal_AW) October 9, 2026
سابق وزیراعظم کی نشست پر تاریخی مقابلہ
یہ الیکشن کوئی عام ضمنی انتخاب نہیں تھا۔ ستمبر 2026 میں سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر پورے برطانیہ کی نظریں لگی تھیں۔
8 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ میں ساغال نے 12 ہزار 292 ووٹ حاصل کیے، جبکہ گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی کو 8 ہزار 928 ووٹ ملے۔ اس طرح ساغال 3 ہزار 364 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئیں۔
🗳️
کس نے کتنے ووٹ لیے؟ انتخابی نتائج کے حیران کن اعدادوشمار
◆
کس نے کتنے ووٹ لیے؟ انتخابی نتائج کے حیران کن اعدادوشمار
کامیابی کی برتری:
3,364 ووٹ
ووٹنگ کا تناسب:
38.76% (2024ء میں 54%)
🔴 ساغال عبدالولی (لیبر پارٹی - فاتح)
12,292 ووٹ
🟢 زیک پولانسکی (گرین پارٹی سربراہ)
8,928 ووٹ
🔵 ایوان کیمرون (کنزرویٹو پارٹی)
1,922 ووٹ
🌐 پیٹر نیومین (ریفارم یوکے)
1,612 ووٹ
🟡 جارج گیلووے (ورکرز پارٹی)
314 ووٹ
کنزرویٹو امیدوار ایوان کیمرون ایک ہزار 922 اور ریفارم پارٹی کے پیٹر نیومین ایک ہزار 612 ووٹ لے سکے۔ فلسطین کے حامی معروف سیاست دان جارج گیلووے صرف 314 ووٹ حاصل کرپائے۔
ووٹنگ کی شرح محض 38.76 فیصد رہی، جبکہ 2024 کے عام انتخابات میں یہ شرح تقریباً 54 فیصد تھی۔
مسلم شناخت پر اعتراض، مگر فیصلہ مختلف
ساغال کی انتخابی مہم تنازعات سے بھی خالی نہیں رہی۔ ریفارم یوکے کے رہنما ضیا یوسف نے ان کی صومالی پیدائش پر سوال اٹھایا، جسے برطانوی وزیر جوناتھن رینالڈز نے نسل پرستانہ قرار دیا۔
Camden is my home. I'm standing to give back to the community that gave me everything. https://t.co/VMwGVe6Nx6
— Sagal Abdi-Wali (@Sagal_AW) September 15, 2026
کامیابی کے بعد ساغال نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان جیسے پس منظر کے لوگ بھی محسوس کریں کہ برطانیہ ان کا ملک ہے اور یہاں ان کے لیے مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے اپنی جیت کو لوگوں میں خوف پھیلانے کے بجائے انہیں متحد کرنے کی کامیابی قرار دیا۔
🔍
کیا برطانیہ کی سیاست بدل رہی ہے؟ اس انتخاب کے 4 بڑے اشارے
▼
کیا برطانیہ کی سیاست بدل رہی ہے؟ اس انتخاب کے 4 بڑے اشارے
🌹 لیبر کے لیے ریلیف اور اینڈی برنہم کا استحکام
کیئر اسٹارمر کے بعد وزیراعظم اینڈی برنہم کی قیادت میں لیبر پارٹی نے تاریخی نشست برقرار رکھ کر تنظیمی اعتماد بحال کیا ہے، جس سے پارٹی میں اندرونی بغاوت کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔
📈 گرین پارٹی کا لندن میں برق رفتار ابھار
گرین پارٹی نے اپنا ووٹ شیئر 2024ء کے 10 فیصد سے بڑھا کر تقریباً 33 فیصد تک پہنچا دیا، جو شہری علاقوں اور بائیں بازو کے نوجوان ووٹرز میں لیبر کے خلاف متبادل کی تلاش کو ظاہر کرتا ہے۔
🕊️ غزہ اور فلسطین کا مرکزی انتخابی تناظر
گرین پارٹی کی کانفرنس میں صہیونیت پر قرارداد اور خود یہودی نژاد زیک پولانسکی کا فلسطینی حقوق کے حق میں بدلتا مؤقف بتاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب برطانوی انتخابی سیاست کا فیصلہ کن فیکٹر بن چکا ہے۔
🌍 تنوع اور پناہ گزینوں کی جمہوری شرکت
پناہ گزین پس منظر رکھنے والی باحجاب خاتون کا منتخب ہونا برطانوی کثیر الثقافتی معاشرے کی وسعت کا ثبوت ہے، جہاں پسماندہ طبقات اور اقلیتیں فیصلہ ساز فورمز پر اپنا حق منوا رہی ہیں۔
فلسطین کا معاملہ انتخابی بحث میں کیوں؟
اس انتخاب میں غزہ اور فلسطین کا مسئلہ بھی نمایاں رہا۔ گرین پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں صہیونیت کو ’نسل پرستی‘ قرار دینے کی قرارداد منظور ہوئی، جس پر یہودی تنظیموں اور بعض پارٹی رہنماؤں نے شدید اعتراض کیا۔
زیک پولانسکی، جو خود یہودی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، نے بتایا کہ فلسطینی مسئلے کے مطالعے کے بعد صہیونیت سے متعلق ان کے خیالات بدل گئے۔ شکست کے باوجود انہوں نے پارٹی قیادت چھوڑنے سے انکار کردیا۔
دوسری طرف ساغال نے غزہ اور فلسطین سے متعلق برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے اقدامات کو سراہا۔
اس کامیابی کا برطانوی سیاست پر کیا اثر ہوگا؟
یہ نتیجہ وزیراعظم اینڈی برنہم کے لیے بھی اہم کامیابی ہے، کیونکہ لیبر پارٹی نے وہ نشست بچالی ہے، جس پر وہ 1983 سے مسلسل کامیاب ہوتی آرہی ہے۔
تاہم گرین پارٹی کا ووٹ 2024 کے تقریباً 10 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد کے قریب پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں لیبر کو اب بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ساغال کی ترجیحات میں بے گھری کا خاتمہ، رہائش کی سہولت، نوجوانوں کے مواقع اور تھیمز واٹر کو سرکاری ملکیت میں واپس لانا شامل ہیں۔
ان کی کامیابی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ تین دہائیاں پہلے جس ملک نے ایک پناہ گزین بچی کو جگہ دی، آج اسی ملک کے عوام نے اسے اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شریک کرلیا ہے۔