حکومت 1.392
ٹریلین ریال کے
بلند اخراجات
برقرار رکھے گی
ترقیاتی منصوبوں
اور وژن 2030 کی
رفتار سست کرنے
کا ارادہ نہیں
2027 میں 12.8 فیصد نمو کیسے؟
2027 کے حوالے سے سب سے نمایاں معاشی اندازہ حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں 12.8 فیصد نمو کا ہے، جبکہ 2026 میں 3.6 فیصد سکڑاؤ متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے بھی 2027 کے لیے 12.8 فیصد شرح نمو کی توقع کی تصدیق کی ہے۔
یہ غیر معمولی چھلانگ بڑی حد تک 2026 کی کم بنیاد اور تیل کی سرگرمی میں متوقع بحالی کے تناظر میں دیکھی جانی چاہئے۔
اس لیے 12.8 فیصد کے اعداد کو صرف غیر تیل معیشت کی اچانک دوڑ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس کے باوجود غیر تیل شعبہ سعودی معیشت کے لیے اہم سہارا بنا ہوا ہے۔
ستمبر میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے کہا تھا کہ غیر تیل سرگرمیاں نسبتاً مضبوط رہی ہیں اور غیر تیل شعبہ، حکومتی سرگرمیوں سمیت، سعودی جی ڈی پی کا تقریباً 70 فیصد بن چکا ہے۔
روزگار میں ایک مختلف تصویر
معاشی سکڑاؤ کے باوجود سعودی لیبر مارکیٹ نے نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔
2026 کی دوسری سہ ماہی میں سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 0.3 فیصد پوائنٹ کم ہے، اگرچہ پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ تیل کی سرگرمی اور مجموعی جی ڈی پی پر دباؤ لازماً اسی شدت سے روزگار کی منڈی میں منتقل نہیں ہوا، خصوصاً جب نجی اور غیر تیل شعبوں میں ملازمتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔
کاروباری اداروں کے لیے اس بجٹ کا کیا مطلب ہے؟
اگر 2027 میں سرکاری اخراجات 1.392 ٹریلین ریال کے قریب رہتے ہیں تو تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، لاجسٹکس، صنعت، ٹیکنالوجی اور سرکاری منصوبوں سے وابستہ نجی کاروباری اداروں کے لیے طلب برقرار رہ سکتی ہے۔
تاہم یہ بھی اہم ہے کہ حکومت وژن 2030 کے منصوبوں کی ترجیح بندی اور اخراجات کی رفتار کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ ایس اینڈ پی نے بھی ستمبر میں وژن 2030 کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے دوبارہ تعین کو مالی لچک کے لیے اہم قرار دیا تھا۔
یعنی 2027 میں پیغام صرف ’زیادہ خرچ‘ نہیں بلکہ زیادہ ہدفی خرچ بھی ہوسکتا ہے۔
- 2027 میں
حقیقی جی ڈی پی
نمو تقریباً
12.8 فیصد رہنے
کا اندازہ ہے
عام آدمی کے لیے کیا بدلے گا؟
ابتدائی بجٹ کے مجموعی اعداد سے فی الحال کسی نئے ٹیکس، فیس، سبسڈی میں کمی یا شہریوں اور مقیم افراد پر کسی براہ راست نئے مالی بوجھ کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے لیے حتمی بجٹ اور شعبہ وار مختص رقوم دیکھنا ضروری ہوگا۔
البتہ اگر سرکاری اخراجات بلند رہتے ہیں اور غیر تیل شعبوں میں سرگرمی برقرار رہتی ہے تو روزگار، کاروبار اور خدمات کے شعبوں پر اس کے بالواسطہ اثرات پڑ سکتے ہیں۔
دوسری طرف مسلسل خسارہ حکومت کی مالی ضروریات اور قرض لینے کے پروگرام کو بھی بلند سطح پر رکھ سکتا ہے۔
اصل کہانی کیا ہے؟
2027 کے بجٹ کی اصل کہانی 190 ارب ریال کے خسارے سے زیادہ 2026 سے 2027 کے درمیان متوقع تبدیلی ہے۔
ایک طرف سعودی معیشت 2026 میں 3.6 فیصد سکڑنے کی طرف جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اگلے سال 12.8 فیصد کی مضبوط بحالی متوقع ہے۔
اسی دوران بجٹ خسارہ تقریباً 245 ارب ریال سے کم ہوکر 190 ارب ریال کے قریب آنے کا اندازہ ہے، لیکن حکومت اب بھی تقریباً 1.4 ٹریلین ریال خرچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یوں 2027 کا ابتدائی بجٹ ایک واضح مالی حکمت عملی کی تصویر پیش کرتا ہے:
خسارہ فوراً ختم کرنا ترجیح نہیں، بلکہ معاشی بحالی اور ترقیاتی اخراجات جاری رکھتے ہوئے خسارے کو بتدریج قابو میں رکھنا اصل ہدف ہے۔
حتمی بجٹ سال کے آخری حصے میں منظور ہوگا اور معاشی، مالی یا تیل منڈی کی نئی پیش رفت کی بنیاد پر ابتدائی اعداد میں تبدیلی بھی ہوسکتی ہے، وزارت خزانہ ماضی کے ابتدائی بجٹ بیانات میں بھی واضح کرتی رہی ہے کہ حتمی منظوری تک تخمینوں میں ردوبدل ممکن ہے۔