براہ راست نشریات

سعودی بجٹ 2027: 1.39 ٹریلین ریال اخراجات، خسارہ 190 ارب ریال

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Budget 2027

سعودی عرب کے 2027 کے ابتدائی بجٹ میں 1.202 ٹریلین ریال آمدنی، 1.392 ٹریلین ریال اخراجات اور 190 ارب ریال خسارے کا تخمینہ دیا گیا ہے، جبکہ حکومت معاشی نمو اور وژن 2030 کے منصوبوں پر اخراجات جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سعودی عرب نے 2027 کے ابتدائی بجٹ میں تقریباً 1.392 ٹریلین ریال کے اخراجات، 1.202 ٹریلین ریال کی آمدنی اور 190 ارب ریال کے قریب خسارے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ 

خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3.6 فیصد کے برابر رہنے کی توقع ہے۔ 

یہ اعداد ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب 2026 کے لیے مالی اور معاشی اندازوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی اور خطے کی جغرافیائی سیاسی صورت حال نے تیل، تجارت اور مجموعی معاشی سرگرمی پر اثر ڈالا۔

ابتدائی اعداد کا سب سے اہم پہلو صرف 190 ارب ریال کا خسارہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومت مشکل معاشی سال کے بعد بھی سرکاری اخراجات کو بلند سطح پر رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2027 میں بھی ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور وژن 2030 سے وابستہ ترجیحات پر اخراجات جاری رکھنے کی پالیسی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ 

📊 2027 کے تین بڑے اعداد

آمدنی: 1.202 ٹریلین ریال

اخراجات: 1.392 ٹریلین ریال

متوقع خسارہ: 190 ارب ریال

خسارہ/GDP: تقریباً 3.6 فیصد

وزارت خزانہ نے اسے ایسے مالی راستے کے طور پر بیان کیا ہے جس میں معاشی نمو، ترقیاتی ترجیحات اور سرکاری مالیات کی پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں

2026 نے حساب کیوں بدل دیا؟

2026 کا بجٹ اصل میں 1.147 ٹریلین ریال آمدنی، 1.313 ٹریلین ریال اخراجات اور تقریباً 165 ارب ریال خسارے کی بنیاد پر منظور کیا گیا تھا۔ 

اس وقت حقیقی معاشی نمو تقریباً 4.6 فیصد رہنے کی توقع تھی۔

لیکن سال کے دوران حالات مختلف رہے۔ 

وزارت خزانہ کے تازہ اندازوں کے مطابق 2026 میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 3.6 فیصد کمی متوقع ہے، جبکہ سال کے لیے بجٹ خسارہ تقریباً 245 ارب ریال تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

💰 2026 سے 2027 — خسارہ کتنا کم ہوگا؟

2026 کے تازہ تخمینے میں بجٹ خسارہ تقریباً 245 ارب ریال تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

2027 میں یہی خسارہ تقریباً 190 ارب ریال رہنے کی توقع ہے۔

یعنی ایک سال میں تقریباً 55 ارب ریال کی کمی ہوسکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 2027 کا ابتدائی بجٹ ایک ایسے سال کے بعد بنایا جا رہا ہے جس میں پہلے سے کیے گئے معاشی اور مالی اندازے تبدیل ہوئے۔ 

یہی وجہ ہے کہ نئے بجٹ کو صرف گزشتہ منظور شدہ بجٹ سے نہیں بلکہ 2026 کی تازہ صورت حال سے بھی موازنہ کرنا ضروری ہے۔

خسارہ 245 ارب سے 190 ارب ریال تک

اگر 2026 کے تازہ اندازوں کو بنیاد بنایا جائے تو 2027 میں خسارہ تقریباً 55 ارب ریال کم ہونے کی توقع ہے۔ یعنی ایک سال میں خسارے میں تقریباً 22 فیصد کمی آسکتی ہے۔

اس کے باوجود حکومت نے اخراجات میں کوئی بڑی کٹوتی تجویز نہیں کی۔ 

⚠️ 2026 نے حساب کیوں بدل دیا؟

2026 کے اصل بجٹ میں آمدنی، اخراجات اور نمو کے بارے میں زیادہ مضبوط توقعات رکھی گئی تھیں۔

سال کے دوران معاشی دباؤ، تیل کی سرگرمی اور علاقائی حالات نے تخمینوں کو تبدیل کیا۔

اسی لیے 2027 کے اعداد کو صرف اصل 2026 بجٹ سے نہیں بلکہ تازہ نظرثانی شدہ 2026 اعداد سے بھی دیکھنا ضروری ہے۔

2027 کے لیے 1.392 ٹریلین ریال کے اخراجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مالی پالیسی اب بھی معاشی سرگرمی کو سہارا دینے اور اہم منصوبوں کو جاری رکھنے پر مرکوز ہے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: 

خسارہ کم کرنے کا مطلب لازماً اخراجات میں وسیع پیمانے پر کمی نہیں۔ 

آمدنی، معاشی نمو، تیل کی پیداوار، غیر تیل شعبوں کی کارکردگی اور منصوبوں کی ترجیح بندی بھی مالی نتائج کو تبدیل کرسکتی ہے۔

حکومت 1.392
ٹریلین ریال کے
بلند اخراجات
برقرار رکھے گی
ترقیاتی منصوبوں
اور وژن 2030 کی
رفتار سست کرنے
کا ارادہ نہیں

2027 میں 12.8 فیصد نمو کیسے؟

2027 کے حوالے سے سب سے نمایاں معاشی اندازہ حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں 12.8 فیصد نمو کا ہے، جبکہ 2026 میں 3.6 فیصد سکڑاؤ متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے بھی 2027 کے لیے 12.8 فیصد شرح نمو کی توقع کی تصدیق کی ہے۔
یہ غیر معمولی چھلانگ بڑی حد تک 2026 کی کم بنیاد اور تیل کی سرگرمی میں متوقع بحالی کے تناظر میں دیکھی جانی چاہئے۔
اس لیے 12.8 فیصد کے اعداد کو صرف غیر تیل معیشت کی اچانک دوڑ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس کے باوجود غیر تیل شعبہ سعودی معیشت کے لیے اہم سہارا بنا ہوا ہے۔
ستمبر میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے کہا تھا کہ غیر تیل سرگرمیاں نسبتاً مضبوط رہی ہیں اور غیر تیل شعبہ، حکومتی سرگرمیوں سمیت، سعودی جی ڈی پی کا تقریباً 70 فیصد بن چکا ہے۔

روزگار میں ایک مختلف تصویر

معاشی سکڑاؤ کے باوجود سعودی لیبر مارکیٹ نے نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔ 

2026 کی دوسری سہ ماہی میں سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 0.3 فیصد پوائنٹ کم ہے، اگرچہ پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔

📈 2027 میں بڑی معاشی واپسی کیوں متوقع؟

2027 کے لیے حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 12.8 فیصد نمو کا تخمینہ سامنے آیا ہے۔

یہ بڑی چھلانگ 2026 کی کم بنیاد اور تیل کی سرگرمی میں متوقع بحالی سے جڑی ہوئی ہے۔

اسے صرف غیر تیل شعبے کی اچانک دوڑ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

یہ اعداد بتاتے ہیں کہ تیل کی سرگرمی اور مجموعی جی ڈی پی پر دباؤ لازماً اسی شدت سے روزگار کی منڈی میں منتقل نہیں ہوا، خصوصاً جب نجی اور غیر تیل شعبوں میں ملازمتوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔

کاروباری اداروں کے لیے اس بجٹ کا کیا مطلب ہے؟

اگر 2027 میں سرکاری اخراجات 1.392 ٹریلین ریال کے قریب رہتے ہیں تو تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، لاجسٹکس، صنعت، ٹیکنالوجی اور سرکاری منصوبوں سے وابستہ نجی کاروباری اداروں کے لیے طلب برقرار رہ سکتی ہے۔

🏗️ اخراجات بلند کیوں رکھے جا رہے ہیں؟

حکومت 2027 میں تقریباً 1.392 ٹریلین ریال خرچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس کا مقصد معاشی سرگرمی، بنیادی ڈھانچے، وژن 2030 کے منصوبوں اور نجی شعبے کو سہارا دینا ہے۔

یعنی پالیسی کا رخ فوری کفایت شعاری کے بجائے ترقی + مالی توازن کی طرف ہے۔

تاہم یہ بھی اہم ہے کہ حکومت وژن 2030 کے منصوبوں کی ترجیح بندی اور اخراجات کی رفتار کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ ایس اینڈ پی نے بھی ستمبر میں وژن 2030 کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے دوبارہ تعین کو مالی لچک کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

یعنی 2027 میں پیغام صرف ’زیادہ خرچ‘ نہیں بلکہ زیادہ ہدفی خرچ بھی ہوسکتا ہے۔

- 2027 میں
حقیقی جی ڈی پی
نمو تقریباً
12.8 فیصد رہنے
کا اندازہ ہے

عام آدمی کے لیے کیا بدلے گا؟

ابتدائی بجٹ کے مجموعی اعداد سے فی الحال کسی نئے ٹیکس، فیس، سبسڈی میں کمی یا شہریوں اور مقیم افراد پر کسی براہ راست نئے مالی بوجھ کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے لیے حتمی بجٹ اور شعبہ وار مختص رقوم دیکھنا ضروری ہوگا۔
البتہ اگر سرکاری اخراجات بلند رہتے ہیں اور غیر تیل شعبوں میں سرگرمی برقرار رہتی ہے تو روزگار، کاروبار اور خدمات کے شعبوں پر اس کے بالواسطہ اثرات پڑ سکتے ہیں۔
دوسری طرف مسلسل خسارہ حکومت کی مالی ضروریات اور قرض لینے کے پروگرام کو بھی بلند سطح پر رکھ سکتا ہے۔

اصل کہانی کیا ہے؟

2027 کے بجٹ کی اصل کہانی 190 ارب ریال کے خسارے سے زیادہ 2026 سے 2027 کے درمیان متوقع تبدیلی ہے۔

ایک طرف سعودی معیشت 2026 میں 3.6 فیصد سکڑنے کی طرف جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اگلے سال 12.8 فیصد کی مضبوط بحالی متوقع ہے۔ 

🌐 غیر تیل معیشت کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب اب اپنی مالی پالیسی کو صرف تیل کی آمدنی سے نہیں جوڑ رہا۔

سیاحت، صنعت، لاجسٹکس، کان کنی، مالیاتی خدمات اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کا کردار بڑھ رہا ہے۔

اسی لیے غیر تیل سرگرمیوں کی رفتار 2027 کے بجٹ کی کامیابی کے لیے اہم رہے گی۔

اسی دوران بجٹ خسارہ تقریباً 245 ارب ریال سے کم ہوکر 190 ارب ریال کے قریب آنے کا اندازہ ہے، لیکن حکومت اب بھی تقریباً 1.4 ٹریلین ریال خرچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

یوں 2027 کا ابتدائی بجٹ ایک واضح مالی حکمت عملی کی تصویر پیش کرتا ہے: 

خسارہ فوراً ختم کرنا ترجیح نہیں، بلکہ معاشی بحالی اور ترقیاتی اخراجات جاری رکھتے ہوئے خسارے کو بتدریج قابو میں رکھنا اصل ہدف ہے۔

حتمی بجٹ سال کے آخری حصے میں منظور ہوگا اور معاشی، مالی یا تیل منڈی کی نئی پیش رفت کی بنیاد پر ابتدائی اعداد میں تبدیلی بھی ہوسکتی ہے، وزارت خزانہ ماضی کے ابتدائی بجٹ بیانات میں بھی واضح کرتی رہی ہے کہ حتمی منظوری تک تخمینوں میں ردوبدل ممکن ہے۔

🔗 مصادر اور مزید مطالعہ

Akhbaar24 — 30 September 2026:
سعودی عرب کے 2027 کے ابتدائی بجٹ کے اعداد: آمدنی 1.202 ٹریلین، اخراجات 1.392 ٹریلین، خسارہ 190 ارب ریال۔
اصل خبر کھولیں


Saudi Ministry of Finance:
سعودی بجٹ، مالی پالیسی اور سرکاری مالیات سے متعلق سرکاری معلومات۔
وزارت خزانہ کی ویب سائٹ


Saudi Budget 2026:
2026 کے اصل بجٹ اعداد اور تقابلی مالی پس منظر کے لیے۔
بجٹ دستاویزات کھولیں