جدہ میں طویل عرصے تک مقیم معروف اردو شاعر، صحافی اور ادبی شخصیت مہتاب قدر 25 ستمبر 2026 کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے۔
ان کا اصل نام سید سرفراز علی تھا۔ وہ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے وابستہ رہے، اردو گلبن کے بانی و صدر تھے اور سعودی عرب میں مشاعروں، ادبی نشستوں اور اردو صحافت کے اہم چہروں میں شمار ہوتے تھے۔
جدہ اور خلیج کے اردو ادبی حلقوں کی ایک جانی پہچانی شخصیت، شاعر، ادیب، صحافی اور ادبی منتظم مہتاب قدر 25 ستمبر 2026 کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے۔
ان کا اصل نام سید سرفراز علی تھا اور وہ مہتاب قدر کے قلمی نام سے کئی دہائیوں تک اردو ادب، شاعری اور صحافت میں سرگرم رہے۔
ان کے انتقال سے بالخصوص سعودی عرب میں اردو کی ادبی برادری ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگئی جس نے طویل عرصے تک جدہ کو اردو مشاعروں، ادبی نشستوں اور اہل قلم کی ملاقاتوں کا مرکز بنائے رکھنے میں کردار ادا کیا۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
1. معروف شاعر، صحافی اور ادبی منتظم مہتاب قدر 25 ستمبر 2026 کو حیدرآباد دکن میں انتقال کرگئے۔
2. ان کا اصل نام سید سرفراز علی تھا، جبکہ ادب میں وہ مہتاب قدر کے نام سے معروف ہوئے۔
3. انہوں نے کئی دہائیوں تک جدہ میں اردو زبان و ادب، مشاعروں اور ادبی تنظیموں کے لیے کام کیا۔
4. ان کی رحلت کو سعودی عرب کی اردو ادبی برادری کے لیے ایک اہم نقصان سمجھا جارہا ہے۔
حیدرآباد سے شائع ہونے والی Siasat Daily کے مطابق مہتاب قدر نے جمعہ 25 ستمبر کو حیدرآباد میں وفات پائی۔
ان کے صاحبزادے سہیل سید نے انتقال اور تدفین کی تفصیلات جاری کیں۔
نماز جنازہ ہفتہ 26 ستمبر کو مسجد معراج، چنچل گوڑہ میں اور تدفین سلطان دائرہ قبرستان میں مقرر کی گئی۔
اخبار نے ان کی وفات کو طویل علالت کے بعد قرار دیا ہے۔
ان کا شعری مجموعہ
’چھاؤں صحرا کی‘
2013 میں شائع ہوا
دوسری جانب Clarion India کی تفصیلی تعزیتی رپورٹ کے مطابق مہتاب قدر تقریباً 70 برس کے تھے، حیدرآباد میں پیدا ہوئے اور عثمانیہ یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں ماسٹرز کیا۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں تقریباً 3 دہائیوں تک میڈیکل لائبریرین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
وہ گھٹنے کے علاج یا آپریشن کے سلسلے میں حیدرآباد گئے ہوئے تھے جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔
جدہ ان کی دوسری ادبی شناخت بنا
مہتاب قدر کا نام گزشتہ کئی دہائیوں سے جدہ کی اردو ادبی تاریخ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دستیاب ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ 1980 کی دہائی میں بھی شہر کی منظم ادبی سرگرمیوں میں شریک تھے۔
👤 مہتاب قدر کون تھے؟
اصل نام: سید سرفراز علی
قلمی نام: مہتاب قدر
شناخت: شاعر، ادیب، صحافی اور ادبی منتظم
مرکزِ سرگرمی: جدہ، سعودی عرب
حلقہ ارباب ذوق جدہ کے 1984 کے عہدیداروں کے ایک محفوظ ریکارڈ میں مہتاب قدر کو معتمد نشر و اشاعت کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب میں ان کی ادبی سرگرمی محض حالیہ برسوں تک محدود نہیں تھی بلکہ 4 دہائیوں سے زیادہ پر پھیلی ہوئی تھی۔
بعد میں انہوں نے اردو گلبن کے نام سے ادبی پلیٹ فارم قائم کیا جو جدہ اور خلیج میں اردو کے شعراء، ادباء اور زبان سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک معروف نام بن گیا۔
2017 میں اردو نیوز نے مہتاب قدر کے بارے میں لکھا تھا کہ جدہ میں رہنے والے یہ شاعر ’قابل قدر مہتاب ہیں آسمان ادب کے‘۔
اسی رپورٹ میں اردو گلبن کی یہ خصوصیت بیان کی گئی کہ بیرون ملک سے سعودی عرب آنے والے شعراء اور ادیبوں کے اعزاز میں استقبالیے، ادبی نشستیں اور مشاعرے منعقد کرنا اس انجمن کی نمایاں روایت تھی۔
اردو گلبن: مشاعرے سے آگے ایک ادبی تحریک
مہتاب قدر کی ادبی خدمات میں اردو گلبن کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
دسمبر 2016 میں Saudi Gazette نے جدہ میں اردو گلبن کے زیر اہتمام ہونے والے ایک مشاعرے کی خبر شائع کی جس میں کینیڈا اور بھارت سمیت مختلف ملکوں سے آنے والے شعراء شریک ہوئے۔
اس رپورٹ میں مہتاب قدر کو اردو گلبن کا صدر اور Gulf Urdu Council کا جنرل سیکریٹری بتایا گیا تھا۔
📚 تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی
مہتاب قدر کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
بعد میں وہ سعودی عرب آگئے اور طویل عرصے تک کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ سے بطور میڈیکل لائبریرین وابستہ رہے۔
پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ انہوں نے اردو ادب اور صحافت سے اپنا رشتہ مسلسل قائم رکھا۔
اسی سے چند ماہ قبل فروری 2016 میں مہتاب قدر نے جدہ میں Gulf Urdu Council کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
اس کا مقصد خلیجی ملکوں میں مشاعرے اور سیمینار منعقد کرنا، اردو زبان و ادب کو فروغ دینا اور خلیج میں مقیم شعراء اور ادباء کی حوصلہ افزائی کرنا بتایا گیا تھا۔
2018 میں اردو گلبن کے زیر اہتمام ’مجاہد اردو ایوارڈ‘ کی تقریب بھی جدہ میں منعقد ہوئی۔ Saudi Gazette نے مہتاب قدر کو اس موقع پر ’معروف شاعر اور اردو گلبن کے صدر‘ کے طور پر متعارف کرایا۔
تقریب میں اردو زبان کی خدمت کرنے والے اساتذہ، ادبا اور شخصیات کو اعزازات دیے گئے جبکہ بعد میں مشاعرہ بھی منعقد ہوا جس میں مہتاب قدر نے بھی کلام پیش کیا۔
محفلوں کے شاعر ہی نہیں، منتظم بھی
مہتاب قدر صرف مشاعروں میں شعر پڑھنے والے شاعر نہیں تھے بلکہ وہ اس پوری ادبی سرگرمی کو منظم کرنے والوں میں شامل رہے۔
2017 میں ایوان اردو جدہ کے عید ملن مشاعرے کی صدارت انہوں نے کی۔
🕯️ انتقال اور تدفین
مہتاب قدر نے 25 ستمبر 2026 کو حیدرآباد دکن میں وفات پائی۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق وہ مختصر عرصے کے لیے حیدرآباد گئے ہوئے تھے۔
ان کی نمازِ جنازہ 26 ستمبر کو مسجد معراج، چنچل گوڑہ میں مقرر کی گئی، جبکہ تدفین سلطان دائرہ قبرستان میں ہونی تھی۔
اسی محفل میں ان کے یہ اشعار بھی Saudi Gazette نے محفوظ کیے:
میاں ہم تو زمیں والوں سے رشتے جوڑ رکھتے ہیں
کھلونے ٹوٹ بھی جائیں تو بچے جوڑ رکھتے ہیں
یہی دو مصرعے شاید مہتاب قدر کی شخصیت کی بھی ایک جھلک پیش کرتے ہیں—لوگوں، اداروں اور ادبی حلقوں کے درمیان تعلق جوڑ کر رکھنے کی کوشش۔
2017 ہی میں اردو اکیڈمی جدہ کے علامہ اقبال سے متعلق پروگرام میں وہ مہمان خصوصی تھے اور نوجوان نسل کو اردو زبان اور ثقافت سے متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اسی تقریب میں انہوں نے بیت بازی کے مقابلے کے جج کے طور پر بھی ذمہ داری ادا کی۔
2012 کے ایک اور اخباری ریکارڈ میں بھی انہیں جدہ میں ہندوستانی کمیونٹی کی مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام منعقدہ شعری محفل میں اپنا کلام پیش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
🌙 جدہ — ان کی دوسری ادبی شناخت
مہتاب قدر کی ادبی شناخت کا بڑا حصہ جدہ میں تشکیل پایا۔
وہ کئی دہائیوں تک شہر کی مشاعروں، ادبی نشستوں، تقریبات اور اردو تنظیموں میں نمایاں طور پر شریک رہے۔
اسی تسلسل نے انہیں جدہ کی اردو ادبی تاریخ کے ایک مستقل اور معروف نام میں بدل دیا۔
صحافت سے بھی مضبوط رشتہ
مہتاب قدر کا تعلق صرف شاعری سے نہیں تھا۔ جب جدہ سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار Saudi Gazette نے اردو ضمیمہ شروع کیا تو وہ اس کی اداراتی ٹیم سے وابستہ رہے۔
ان کے انتقال پر شائع ہونے والی تعزیتی تحریروں میں بھی ان کی صحافتی خدمات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
اردو لیکس کے مطابق وہ جدہ کے ادبی جریدے ’اردو گلبن‘ کے بانی ایڈیٹر بھی رہے۔
اس طرح ان کی شخصیت میں شاعر، مدیر، صحافی اور ادبی منتظم کے کردار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
’چھاؤں صحرا کی‘—عنوان میں بھی پردیس کی کہانی
مہتاب قدر کا شعری مجموعہ ’چھاؤں صحرا کی‘ 2013 میں شائع ہوا۔
ریختہ کے ریکارڈ کے مطابق یہ 144 صفحات پر مشتمل شعری مجموعہ ہے۔
ڈاکٹر خواجہ اکرام نے اس کتاب پر اپنے تفصیلی مضمون میں لکھا کہ مہتاب قدر کی شاعری کا سفر 1971 میں ہفت روزہ ’نشیمن‘ سے شروع ہوا تھا اور ’چھاؤں صحرا کی‘ ان کی تقریباً 4 دہائیوں کی شعری کاوشوں کا حاصل تھا۔
🌿 اردو گلبن — مہتاب قدر کا ادبی پلیٹ فارم
مہتاب قدر اردو گلبن کے بانی اور صدر تھے۔
اس پلیٹ فارم کے ذریعے جدہ میں مشاعرے، ادبی نشستیں، اعزازی تقریبات اور بیرون ملک سے آنے والے شعراء و ادباء کی پذیرائی کی جاتی رہی۔
اردو گلبن نے سعودی عرب میں اردو کے ادبی رابطوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مہتاب قدر کو ان تارکین وطن میں شمار کیا جو سعودی عرب میں رہتے ہوئے اردو زبان کو مسلسل توانائی فراہم کرتے رہے۔
ان کی دیگر تصانیف میں سبز صحرا، نظریاتِ مہتاب اور سفرنامہ تھوڑی سی آوارگی کا ذکر بھی ملتا ہے۔
جدہ کے ادبی منظرنامے میں مستقل موجودگی
پرانی اخباری فائلوں کو دیکھا جائے تو مہتاب قدر کا نام بار بار سامنے آتا ہے—کبھی کسی مشاعرے کے صدر، کبھی مہمان خصوصی، کبھی منتظم، کبھی شاعر اور کبھی اردو کی نئی تنظیم کے بانی کی حیثیت سے۔
2017 میں عالمی اردو مرکز کی تقریب میں انہوں نے ڈاکٹر خورشید رضوی کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔
ایک اور موقع پر معروف مزاحیہ شاعر پاپولر میرٹھی کے جدہ پروگرام میں مہتاب قدر نے اردو گلبن کے صدر کی حیثیت سے مہمان اور مقامی شعراء کا خیرمقدم کیا۔
یہ بکھرے ہوئے اخباری حوالے مل کر دراصل ایک طویل ادبی زندگی کی تصویر بناتے ہیں۔
ایک شخص نہیں، جدہ کی ادبی تاریخ کا ایک باب
مہتاب قدر کا انتقال اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کی زندگی سعودی عرب میں اردو کے اس دور کی نمائندگی کرتی تھی جب تارکین وطن نے روزگار اور کاروبار کی مصروفیات کے درمیان اپنی زبان کے لیے انجمنیں قائم کیں، مشاعرے منعقد کیے، رسائل نکالے اور آنے والی نسلوں کو زبان سے جوڑے رکھنے کی کوشش کی۔
مہتاب قدر اسی روایت کے سرگرم کرداروں میں شامل تھے۔
📖 ’’چھاؤں صحرا کی‘‘ — شعری سفر کا حاصل
مہتاب قدر کا شعری مجموعہ ’’چھاؤں صحرا کی‘‘ 2013 میں شائع ہوا۔
یہ مجموعہ ان کے کئی دہائیوں پر محیط شعری سفر کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔
کتاب کا عنوان بھی ان کی خلیجی زندگی اور صحرا میں اردو ادب کی آبیاری کے استعارے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
ان کے جانے سے صرف ایک شاعر رخصت نہیں ہوا، بلکہ جدہ میں اردو کی کئی دہائیوں پر محیط ادبی تاریخ کا ایک زندہ گواہ اور فعال کردار بھی رخصت ہوگیا۔
صحرا میں جس شخص نے برسوں اردو کے لیے ’چھاؤں‘ تلاش کی، وہ خود اب یادوں، اشعار اور جدہ کی پرانی ادبی محفلوں میں باقی رہے گا۔
💡 اصل میراث — جدہ میں اردو کی ایک روشن روایت
مہتاب قدر کی اہمیت صرف ان کی شاعری تک محدود نہیں تھی۔
انہوں نے جدہ میں اردو کے لیے محفلیں سجائیں، ادبی اداروں کو وقت دیا، شعراء و ادباء کو جوڑا اور نئی نسل تک زبان و ادب کا رشتہ پہنچانے کی کوشش کی۔
ان کے انتقال کے ساتھ جدہ کی اردو ادبی تاریخ کا ایک فعال اور یادگار باب بھی بند ہوگیا۔