وزیرِ ہیومن ریسورسز و سماجی ترقی انجینئر احمد الراجحی نے محنت کے نظام کی خلاف ورزیوں سے متعلق تصفیہ درخواستوں کے لیے نئی شرائط اور ضوابط کی منظوری دی ہے، جن کے تحت کاروباری اداروں کو بھاری مالی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں اداروں کے استحکام کو مضبوط بنانا اور انہیں قانونی طور پر درست کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت اہل ادارے جرمانوں میں 80 فیصد تک کمی سے فائدہ اٹھا سکیں گے، تاہم اس کے لیے مخصوص شرائط پر عمل اور مقررہ مدت کے اندر اصلاح لازم قرار دی گئی ہے۔
وزارت ہیومن ریسورسز کے فیصلے کے مطابق سزاؤں میں درج خلاف
ورزیوں پر تصفیہ کی درخواستیں اب باقاعدہ قواعد کے تحت منظور کی جائیں گی، جن میں خاص طور پر ادارے کی پہلی مرتبہ درج ہونے والی خلاف ورزی کو اصلاح کا موقع تصور کیا گیا ہے۔
اس کے لیے لازم ہوگا کہ متعلقہ ادارہ انتظامی سزا کے اجرا کی اطلاع ملنے کے بعد 90 دن کے اندر تصفیہ کی درخواست جمع کرائے تاکہ بروقت کارروائی اور مسئلے کا حل ممکن ہو سکے۔
وزارت نے تصفیہ کی منظوری کو اس شرط سے مشروط کیا ہے کہ ادارہ متعلقہ خلاف ورزی مکمل طور پر ختم کرے اور اپنی قانونی حیثیت درست کرے تاکہ آئندہ ایسی خلاف ورزیوں کی روک تھام ہو سکے اور نظام پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
ضوابط کے مطابق صرف وہی جرمانے تصفیہ کے قابل ہوں گے جو درخواست کے وقت ادا نہ کیے گئے ہوں۔ اس سے اداروں کو فوری مالی دباؤ کم کرنے کا موقع ملے گا۔ ساتھ ہی وزارت نے تصفیہ کے لیے کم از کم جرمانے کی حد ایک ہزار سعودی ریال مقرر کی ہے تاکہ مالی اثر رکھنے والی خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز رکھی جا سکے۔
ایک اور اہم شق کے تحت وزارت نے ان اداروں کے لیے بھی 80 فیصد جرمانہ کمی کی منظوری دی ہے جن کے خلاف ایک ہی تاریخ میں پہلی بار متعدد خلاف ورزیوں کے فیصلے جاری ہوئے ہوں، تاہم اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہوگا کہ ادارہ تمام بنیادی شرائط، خاص طور پر خلاف ورزی کے خاتمے اور قانونی اصلاح پر مکمل عمل کرے۔
وزیر ہیومن ریسورسز احمد الراجحی نے اپنے نائب کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزارت ان سہولتوں کو عملی طور پر نافذ کرنے میں سنجیدہ ہے۔