بنگلہ دیش نے جبری گمشدگی، قومی انسانی حقوق کمیشن اور RAB کی جگہ نئی سکیورٹی فورس سے متعلق تین بڑے قوانین منظور کئے ہیں۔
حکومت انہیں اصلاحات قرار دیتی ہے، جبکہ عالمی حقوق تنظیمیں آزاد تحقیقات اور نگرانی کے اختیارات کم ہونے پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں ستمبر 2026 کے دوران منظور ہونے والے 3 اہم قوانین نے ملک کے انسانی حقوق اور سکیورٹی نظام پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حکومت انہیں جبری گمشدگیوں کے خاتمے، انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اصلاحات کی طرف اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے، مگر ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ان قوانین کی بعض شقیں 2024 کے بعد قائم کئے گئے آزاد نگرانی اور احتساب کے نظام کو کمزور کرسکتی ہیں۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
1. بنگلہ دیش نے ستمبر 2026 میں انسانی حقوق، جبری گمشدگی اور RAB کی جگہ نئی فورس سے متعلق تین اہم قوانین منظور کئے۔
2. حکومت انہیں اصلاحات اور احتساب کا نیا قانونی ڈھانچہ قرار دیتی ہے۔
3. ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بعض شقیں عبوری دور میں قائم کی گئی آزاد نگرانی اور تحقیقات کی ضمانتیں کمزور کرتی ہیں۔
4. اصل سوال یہ ہے کہ نئے قوانین عملی طور پر سکیورٹی اداروں کو کتنا جواب دہ بناتے ہیں۔
نئی قانون سازی 3 بنیادی شعبوں سے متعلق ہے: قومی انسانی حقوق کمیشن، جبری گمشدگیاں اور ریپڈ ایکشن بٹالین یعنی RAB کا مستقبل۔
پہلا قانون: انسانی حقوق کمیشن کے اختیارات
بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے 6 ستمبر کو National Human Rights Commission Act 2026 منظور کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے BSS کے مطابق اس قانون کا مقصد 2009 کے سابق قانون کو ختم کرکے ایک زیادہ مؤثر اور آزاد قومی انسانی حقوق کمیشن قائم کرنا ہے۔
تاہم ہیومن رائٹس واچ نے اس تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق 2024 کے سیاسی بحران کے بعد قائم عبوری حکومت نے انسانی حقوق کمیشن کو سکیورٹی اداروں کے خلاف شکایات کی براہ راست تحقیقات، حراستی مراکز کی نگرانی اور زیادہ آزاد تقرری و مالی انتظام جیسے اختیارات دینے کی کوشش کی تھی۔
مزید پڑھیں
HRW کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں اگر کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام ہو تو کمیشن فوری طور پر مکمل آزاد تحقیقات کرنے کے بجائے پہلے متعلقہ ادارے سے رپورٹ طلب کرے گا۔ تنظیم نے تقرریوں، بجٹ اور انتظامی خودمختاری کے حوالے سے بھی تحفظات ظاہر کئے ہیں۔
یہی نکتہ اس تنازعے کے مرکز میں ہے: حکومت کے مطابق نیا قانون ایک
مضبوط قانونی ادارہ قائم کرتا ہے، جبکہ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایسا کمیشن طاقتور سکیورٹی اداروں کے خلاف واقعی آزادانہ تحقیقات کرسکے گا؟
⚖️ تین قوانین — کیا بدلا؟
6 ستمبر: نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن قانون منظور ہوا۔
6 ستمبر: جبری گمشدگی کی روک تھام اور ازالے کا قانون منظور ہوا۔
10 ستمبر: Special Response Battalion یعنی SRB قانون منظور کرکے RAB کی جگہ نئی فورس قائم کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔
دوسرا قانون: جبری گمشدگی اب باقاعدہ جرم
دوسرا اہم قانون Enforced Disappearance Prevention and Redress Act 2026 ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق پہلی مرتبہ جبری گمشدگی کو ایک الگ، ناقابلِ ضمانت اور قابلِ تعزیر جرم کے طور پر واضح قانونی شکل دی گئی ہے۔
اس جرم پر کم از کم 3 سال سے عمر قید تک سزا اور بھاری جرمانہ ہوسکتا ہے۔
اگر متاثرہ شخص ہلاک ہوجائے، اس کی لاش ملے یا پانچ سال گزرنے کے باوجود اس کا سراغ نہ ملے تو قانون میں عمر قید یا سزائے موت سمیت مزید سخت سزاؤں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
🏛️ انسانی حقوق کمیشن — تنازع کہاں ہے؟
حکومت کے مطابق نیا قانون ایک مؤثر اور آزاد قومی انسانی حقوق کمیشن کے لیے نیا قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کا اعتراض ہے کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف شکایت کی صورت میں کمیشن کو پہلے متعلقہ ادارے سے رپورٹ طلب کرنا ہوگی اور براہ راست تحقیقات کے اختیارات پہلے کے عبوری نظام سے محدود ہوگئے ہیں۔
تنظیم نے تقرری، بجٹ اور انتظامی خودمختاری کے حوالے سے بھی تحفظات ظاہر کئے ہیں۔
یہ بظاہر ایک بڑی قانونی تبدیلی ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کئی برس تک جبری گمشدگیوں کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے۔
لیکن ہیومن رائٹس واچ کا اعتراض تحقیقات کے طریقۂ کار پر ہے۔
تنظیم کے مطابق عبوری حکومت کے پہلے نظام میں انسانی حقوق کمیشن کو جبری گمشدگیوں اور مشتبہ خفیہ حراستی مراکز کی تحقیقات اور معائنے کے نسبتاً وسیع اختیارات حاصل تھے۔ نئے قانون کے تحت کسی سکیورٹی ادارے پر الزام ہو تو حکومت تحقیقات کسی دوسرے سکیورٹی ادارے کے حوالے کرسکتی ہے۔
HRW کے مطابق کمانڈروں کی ذمہ داری کا قانونی معیار بھی تبدیل ہوا ہے۔
سابق فریم ورک میں کسی افسر کو ایسی خلاف ورزی روکنے میں ناکامی پر بھی جواب دہ بنانے کی گنجائش زیادہ تھی جس کے بارے میں اسے معلوم ہونا چاہئے تھا، نئی شق میں براہ راست حکم کے ثبوت کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
🚨 جبری گمشدگی اب باقاعدہ جرم
نئے قانون میں جبری گمشدگی کو ایک الگ، قابلِ دست اندازی پولیس، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ جرم قرار دیا گیا ہے۔
اس جرم پر کم از کم تین سال سے عمر قید تک سزا اور 50 لاکھ ٹکا تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
اگر متاثرہ شخص ہلاک ہوجائے، لاش ملے یا پانچ سال بعد بھی سراغ نہ ملے تو سزا مزید سخت ہوسکتی ہے، جس میں عمر قید یا سزائے موت بھی شامل ہے۔
تیسرا قانون: RAB ختم، مگر کیا ادارہ واقعی بدل گیا؟
سب سے زیادہ توجہ Rapid Action Battalion یا RAB سے متعلق تبدیلی پر ہے۔
بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے 10 ستمبر کو Special Response Battalion Act 2026 منظور کیا اور RAB کو ختم کرکے پولیس کے ماتحت Special Response Battalion یا SRB قائم کرنے کی منظوری دی۔
16 ستمبر کو سرکاری گزٹ جاری ہونے کے بعد SRB نے باضابطہ طور پر کام شروع کردیا۔
🔍 تحقیقات کون کرے گا؟
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگر کسی سکیورٹی ادارے پر جبری گمشدگی کا الزام ہو تو نئی قانون سازی کے تحت حکومت تحقیقات کسی دوسرے سکیورٹی ادارے کو دے سکتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ عبوری دور کے قانون میں انسانی حقوق کمیشن کو زیادہ براہ راست تحقیقاتی کردار حاصل تھا۔
اسی لیے ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک سکیورٹی ادارے کے خلاف دوسرے سکیورٹی ادارے کی تحقیقات کتنی آزاد سمجھی جائیں گی۔
لیکن یہاں بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی نئی فورس ہے یا پرانے ادارے کی تنظیمِ نو۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق RAB کے اہلکار، اختیارات، سہولیات، فنڈز، جائیداد، اکاؤنٹس اور ریکارڈ نئی SRB کو منتقل کئے جاسکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح پہلے سے موجود تربیت یافتہ افرادی قوت اور وسائل ضائع نہیں ہوں گے اور نئے ادارے میں نگرانی اور جواب دہی بہتر بنائی جائے گی۔
ہیومن رائٹس واچ اسی تسلسل کو مسئلہ سمجھتی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ اگر افراد، اختیارات اور بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی رہیں تو صرف نام بدلنے سے ماضی کے احتساب کے سوالات ختم نہیں ہوتے۔
RAB کے خلاف امریکی پابندیاں کیوں اہم ہیں؟
یہ بحث صرف بنگلہ دیش کے اندر تک محدود نہیں۔
دسمبر 2021 میں امریکی محکمہ خزانہ نے Global Magnitsky پابندیوں کے تحت RAB اور اس کے متعدد موجودہ اور سابق اعلیٰ افسران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے اس وقت کہا تھا کہ تنظیموں کی رپورٹس میں RAB اور دیگر بنگلہ دیشی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سینکڑوں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور تشدد کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔
🚪 خفیہ حراستی مراکز کی نگرانی
عبوری حکومت کے پہلے فریم ورک میں قومی انسانی حقوق کمیشن کو حراستی مراکز، حتیٰ کہ مشتبہ خفیہ مراکز، کی نگرانی اور معائنے کے وسیع اختیارات دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ نئے قانون میں ان اختیارات کو محدود کردیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کے لیے یہی نکتہ مستقبل میں جبری گمشدگی روکنے کی صلاحیت کا اہم امتحان ہوگا۔
اسی لیے RAB سے SRB میں تبدیلی کے بعد ایک اہم بین الاقوامی سوال یہ بھی ہے کہ آیا ادارہ جاتی اصلاح اتنی بنیادی ہے کہ ماضی سے واضح فاصلہ قائم ہوسکے۔
پس منظر کتنا سنگین ہے؟
Amnesty International کے مطابق 2025 تک بنگلہ دیش کے جبری گمشدگیوں کے تحقیقاتی کمیشن کو 1,837 شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ابتدائی جانچ کے بعد 1,772 کیس فعال ڈیٹا بیس میں شامل کئے گئے، جن میں 1,427 افراد کے زندہ ملنے جبکہ 345 کے بدستور لاپتا ہونے کی اطلاع تھی۔ کمیشن کی تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں مقدمات ریاستی اداروں سے منسلک ہونے کے الزامات پر مبنی تھے۔
🛡️ RAB ختم، SRB قائم
10 ستمبر کو پارلیمنٹ نے Special Response Battalion قانون منظور کیا، جس کے تحت Rapid Action Battalion یعنی RAB کو ختم کرکے پولیس کے ماتحت SRB قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
نئی فورس کو جرائم کی تحقیقات، تلاشی، گرفتاری اور املاک ضبط کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق یہ ایک نئی قانونی اور انتظامی ساخت ہے جس میں شکایات کے ازالے کے لیے الگ کمیٹی بھی رکھی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اکتوبر 2025 میں سابق حکومت کے دور کی جبری گمشدگیوں اور تشدد کے مقدمات میں باقاعدہ کارروائی شروع ہونے کو متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے احتساب کی جانب اہم قدم قرار دیا تھا، تاہم انہوں نے منصفانہ مقدمات اور قانونی تقاضوں کی پابندی پر بھی زور دیا۔
اصل امتحان اب شروع ہوگا
ان تینوں قوانین کو صرف ان کے عنوان سے جانچنا کافی نہیں ہوگا۔ جبری گمشدگی کو جرم قرار دینا، RAB کو ختم کرنا اور انسانی حقوق کمیشن کے لیے نیا قانون بنانا بڑی قانونی تبدیلیاں ہیں۔
📌 RAB کا ماضی کیوں اہم ہے؟
RAB پر برسوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور تشدد کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔
امریکا نے 2021 میں RAB اور اس کے متعدد موجودہ و سابق اعلیٰ اہلکاروں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق پابندیاں عائد کی تھیں۔
اسی پس منظر میں SRB کی تشکیل کو محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے احتسابی نظام کا بڑا امتحان سمجھا جارہا ہے۔
لیکن عالمی حقوق تنظیموں کی توجہ اب اس بات پر ہے کہ تحقیقات کون کرے گا، حراستی مراکز کا آزاد معائنہ کون کرسکے گا، سکیورٹی اداروں کے خلاف شکایت کی صورت میں ثبوت تک رسائی کس کے پاس ہوگی اور ماضی کے مبینہ جرائم کا احتساب کس حد تک جاری رہے گا۔
بنگلہ دیشی حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی قانون سازی انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور جواب دہی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ حقیقی اصلاح کا معیار اداروں کے نام نہیں بلکہ ان پر آزاد نگرانی اور مؤثر احتساب ہوگا۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
Human Rights Watch — 22 September 2026:
تین نئے قوانین، انسانی حقوق کمیشن کی خودمختاری، جبری گمشدگیوں کی تحقیقات اور RAB سے SRB میں تبدیلی پر تفصیلی تنقیدی جائزہ۔
اصل رپورٹ کھولیں
Bangladesh Sangbad Sangstha (BSS) — 6 September 2026:
پارلیمنٹ کی جانب سے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن بل اور جبری گمشدگی کی روک تھام و ازالہ بل کی منظوری کی سرکاری تفصیل۔
اصل خبر کھولیں
Bangladesh Sangbad Sangstha (BSS) — 10 September 2026:
RAB کو ختم کرکے Special Response Battalion (SRB) قائم کرنے کے قانون کی پارلیمانی منظوری کی سرکاری رپورٹ۔
اصل خبر کھولیں
Bangladesh Sangbad Sangstha (BSS) — 16 September 2026:
سرکاری گزٹ کے بعد RAB کے خاتمے اور SRB کے باضابطہ طور پر کام شروع کرنے کی تصدیق۔
اصل خبر کھولیں
Bangladesh Sangbad Sangstha (BSS) — 23 September 2026:
جبری گمشدگی کو الگ جرم قرار دینے، سزاؤں اور نئے انسانی حقوق قانونی فریم ورک کی سرکاری وضاحت۔
اصل رپورٹ کھولیں