ایران سے منسوب 60 روزہ منصوبے میں علاقائی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے اور امریکا کے ساتھ وسیع مذاکرات کی تجویز سامنے آئی ہے۔
تاہم ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
اصل رکاوٹ یہ ہے کہ تہران پہلے امریکی دباؤ میں کمی چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن پہلے قابلِ تصدیق ایرانی اقدامات کا مطالبہ کررہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بحران اب صرف فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں تک محدود نہیں رہا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایسی ایرانی تجویز سامنے آئی ہے جس میں 60 روز تک علاقائی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق منصوبے میں پڑوسی عرب ممالک پر حملے روکنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے جیسے نکات بھی شامل ہیں۔
تاہم اسے ابھی امن معاہدہ نہیں بلکہ مذاکرات کے لیے پیش کردہ منصوبہ سمجھنا چاہئے۔ واشنگٹن اور تہران نے کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔
◆ اہم نکات
✓ ایران سے منسوب منصوبے میں 60 روزہ علاقائی جنگ بندی کی تجویز شامل ہے۔
✓ آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنا منصوبے کا اہم حصہ بتایا گیا ہے۔
✓ امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف اقدامات کی ترتیب پر برقرار ہے۔
✓ پاکستان، قطر اور مصر سفارتی رابطوں اور ثالثی میں شریک بتائے گئے ہیں۔
✓ ابھی کسی حتمی امن معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا عارضی جنگ بندی ایسے وسیع انتظام میں تبدیل ہوسکتی ہے جو خلیج میں جہاز رانی بحال کرے، تیل کی ترسیل محفوظ بنائے اور سعودی عرب سمیت خطے کے ممالک کو دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بچائے؟
مزید پڑھیں
60 روزہ منصوبے میں کیا ہے؟
اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ایرانی تجویز تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے:
علاقائی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کا مرحلہ وار کھلنا اور امریکا ایران اختلافات پر وسیع مذاکرات۔
22 ستمبر کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اگر
امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھائے تو تہران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔
60 — 60 روزہ منصوبہ کیا ہے؟
پہلا مرحلہ: علاقائی جنگ بندی کے ذریعے فوری فوجی کشیدگی کم کرنا۔
دوسرا مرحلہ: آبنائے ہرمز کو شرائط کے ساتھ مرحلہ وار جہاز رانی کے لیے کھولنا۔
تیسرا مرحلہ: امریکا اور ایران کے درمیان وسیع مذاکرات کے لیے وقت اور طریقۂ کار طے کرنا۔
60 دن کا مطلب مستقل امن کی ضمانت نہیں بلکہ مذاکرات کے لیے مجوزہ مدت ہے۔
لیکن 60 روزہ مدت کا مطلب یہ نہیں کہ دو ماہ میں مستقل امن قائم ہوجائے گا۔
اسے بنیادی طور پر لڑائی روکنے اور بڑے مذاکرات کے لیے وقت فراہم کرنے کی تجویز سمجھا جا رہا ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ جنگ بندی کی نگرانی کون کرے گا، خلاف ورزی کی صورت میں کیا ہوگا اور فریقین کے وعدوں پر عمل درآمد کی ضمانت کیسے دی جائے گی۔
ہرمز اتنا اہم کیوں ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے حساس ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
جنگ سے پہلے دنیا میں تجارت ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔
≈20% — ہرمز کیوں اہم ہے؟
✓ آبنائے ہرمز خلیج کو بحیرہ عمان اور عالمی سمندری راستوں سے ملاتی ہے۔
✓ جنگ سے پہلے عالمی سطح پر تجارت ہونے والے تیل اور LNG کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا تھا۔
✓ رکاوٹ سے تیل، شپنگ، فریٹ اور انشورنس اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔
✓ اسی لیے ہرمز کا مسئلہ پوری عالمی توانائی منڈی سے جڑا ہے۔
حالیہ کشیدگی اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے ہرمز کو امریکا ایران کشمکش کے مرکز میں پہنچا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جہازوں کی آمدورفت میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم حملوں کا خطرہ، مہنگی انشورنس اور بلند ترسیلی اخراجات بدستور مسئلہ ہیں۔
اسی لیے ہرمز کھولنے کا معاملہ صرف ٹینکروں کی آمدورفت بحال کرنے تک محدود نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل میں بحری راستے کی حفاظت کون کرے گا اور آزاد جہاز رانی کی طویل مدتی ضمانت کیسے دی جائے گی؟
واشنگٹن اور تہران.. پہلا قدم کون اٹھائے؟
نیویارک میں سفارتی رابطوں کے باوجود بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے ہوئے ہیں۔
ایران چاہتا ہے کہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی بحال ہو اور مختلف محاذوں پر جنگ ختم کی جائے۔
⇄ امریکا اور ایران: اصل اختلاف
✓ تہران امریکی بحری دباؤ میں کمی کو اہم مطالبات میں شمار کرتا ہے۔
✓ ایران کی جانب سے مخصوص شرائط پر ہرمز جلد کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
✓ واشنگٹن پہلے قابلِ تصدیق ایرانی اقدامات اور ضمانتوں پر زور دیتا ہے۔
بنیادی سوال: پہلا قدم کون اٹھائے؟
دوسری جانب واشنگٹن ایرانی اقدامات اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کے بغیر دباؤ ختم کرنے پر آمادہ نہیں دکھائی دیتا۔
یہی مذاکرات کی بنیادی مشکل ہے:
تہران پہلے امریکی دباؤ میں کمی چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن پہلے ایرانی اقدامات دیکھنا چاہتا ہے۔
یوں ممکنہ معاہدے کے نکات سے زیادہ مشکل سوال یہ بن گیا ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے؟
پاکستان، قطر اور مصر کا کردار
حالیہ رابطوں میں پاکستان، قطر اور مصر کی ثالثی نمایاں ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تینوں ممالک نیویارک میں امریکا اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوششوں میں شریک ہیں۔
پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد ایک طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے قریبی دفاعی اور سیاسی تعلقات ہیں۔
◎ پاکستان، قطر اور مصر کی ثالثی
✓ نیویارک کے سفارتی رابطوں میں پاکستان، قطر اور مصر ثالثی میں شریک بتائے گئے ہیں۔
✓ پاکستان کے ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ اہم تعلقات ہیں۔
✓ قطر بھی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں اہم سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
✓ کامیابی کا انحصار ایسا فارمولا بنانے پر ہوگا جس پر فریقین عملی طور پر عمل کرسکیں۔
سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کے ساتھ محفوظ جہاز رانی اور سفارتی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ثالثوں کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ کسی ممکنہ امریکا ایران مفاہمت میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات کو کس طرح شامل کیا جائے۔
سعودی عرب اور خلیج کے لیے کیا بدلے گا؟
سعودی عرب کے لیے معاملہ صرف ہرمز تک محدود نہیں۔ یمن میں کشیدگی اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات بھی اہم ہیں۔
اگر مجوزہ جنگ بندی واقعی علاقائی نوعیت اختیار کرتی ہے تو خلیج کے ساتھ بحیرہ احمر میں بھی خطرات کم ہوسکتے ہیں۔
GCC — سعودی عرب اور خلیج پر اثر
✓ خلیجی ممالک کے لیے اصل ترجیح محفوظ اور مسلسل جہاز رانی ہے۔
✓ علاقائی جنگ بندی میں پڑوسی ممالک پر حملے رکنے کا معاملہ انتہائی اہم ہوگا۔
✓ خطرات کم ہونے سے شپنگ اور انشورنس پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
✓ اصل امتحان جنگ بندی کی نگرانی اور ضمانتوں کا ہوگا۔
لیکن اس کے لیے یہ واضح ہونا ضروری ہوگا کہ جنگ بندی میں کون سے فریق شامل ہیں اور دوبارہ حملے روکنے کے لیے کیا ضمانتیں موجود ہیں۔
اسی وجہ سے ریاض کے لیے کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا پیمانہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان فائر بندی نہیں، بلکہ پورے خطے میں حملوں اور بحری خطرات میں عملی کمی ہوگی۔
تیل کی منڈی نے کیا پیغام دیا؟
24 ستمبر کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل تقریباً 102.13 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل تقریباً 91.56 ڈالر پر تھا۔
ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں تقریباً چار فیصد اضافہ ہوا تھا۔
یہ تیز اتار چڑھاؤ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی منڈی امریکا ایران مذاکرات اور ہرمز کی صورتحال کو انتہائی حساس انداز میں دیکھ رہی ہے۔
$ — تیل کی منڈی کیا دیکھ رہی ہے؟
✓ منڈی سیاسی بیانات کے ساتھ ہرمز میں حقیقی بحری آمدورفت بھی دیکھ رہی ہے۔
✓ قابلِ اعتماد جنگ بندی سپلائی سے متعلق خدشات کم کرسکتی ہے۔
✓ نئی فوجی کشیدگی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس پر دوبارہ دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
✓ اسی لیے امریکا ایران مذاکرات عالمی توانائی منڈی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے ہرمز میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی درآمدی بل پر دباؤ کم کرسکتی ہے۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی برآمد کنندگان کے لیے محفوظ اور مسلسل ترسیل، کم انشورنس اخراجات اور بحری راستوں کا استحکام بھی اہم ہے۔
آگے تین راستے
پہلا امکان یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی ہو، ہرمز مرحلہ وار کھلے اور پھر بڑے سیاسی مذاکرات شروع ہوں۔
دوسری صورت میں مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں اور جہاز رانی میں محدود آسانی آسکتی ہے، مگر ناکہ بندی اور سکیورٹی ضمانتوں جیسے بنیادی اختلافات برقرار رہیں۔
PK — پاکستان کے لیے کیا مطلب؟
✓ پاکستان توانائی درآمد کرتا ہے، اس لیے ہرمز میں استحکام اہم ہے۔
✓ کشیدگی کم ہونے سے تیل اور شپنگ اخراجات پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
✓ اسلام آباد کی ثالثی پاکستان کے علاقائی سفارتی کردار کو نمایاں کرسکتی ہے۔
✓ معاشی فائدہ تیل کی قیمت، روپے کی قدر اور عالمی فریٹ سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔
تیسری صورت میں اقدامات کی ترتیب پر اختلاف مذاکرات کو روک سکتا ہے اور علاقائی کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
یہ ممکنہ منظرنامے ہیں، کسی ایک نتیجے کی پیش گوئی نہیں۔
کیا طے ہوا، کیا ابھی باقی ہے؟
یہ واضح ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے ہوئے ہیں، ایرانی تجویز میں تقریباً 60 روزہ جنگ بندی اور ہرمز مرحلہ وار کھولنے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان، قطر اور مصر سفارتی کوششوں میں شریک ہیں۔
🛢 — 24 ستمبر کی صبح تیل کی قیمتیں
خام برینٹ: $102.13 ▼ 0.9%
امریکی خام تیل: $91.56 ▼ 0.7%
نوٹ: یہ 24 ستمبر کی صبح رپورٹ تیار کرتے وقت ریکارڈ کی گئی قیمتیں ہیں، لائیو قیمتیں نہیں۔
لیکن امریکا کی جانب سے پورے منصوبے کی منظوری، جنگ بندی کی حتمی شرائط، آغاز کی تاریخ اور نگرانی کا طریقۂ کار ابھی طے نہیں ہوا۔
فی الحال سب سے اہم سوال یہی ہے:
کیا واشنگٹن پہلے بحری دباؤ کم کرے گا یا ایران پہلے آزاد جہاز رانی کی قابلِ تصدیق ضمانت دے گا؟
اس کا جواب صرف امریکا اور ایران کے تعلقات کا رخ متعین نہیں کرے گا بلکہ سعودی عرب اور خلیج کی سلامتی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، عالمی تیل کی قیمتوں اور پاکستان کی معیشت پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
↗ اصل اور معتبر ذرائع
ایران کی سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی مشروط پیشکش The National
60 روزہ علاقائی جنگ بندی، ہرمز مرحلہ وار کھولنے اور وسیع مذاکرات کا ایرانی روڈ میپ وزارتِ خارجہ پاکستان
پاکستان اور قطر کا مشترکہ بیان: 60 روزہ مذاکراتی روڈ میپ اور ہرمز میں محفوظ تجارتی گزرگاہ Gulf News
ایران کا 60 روزہ علاقائی جنگ بندی اور ہرمز مرحلہ وار کھولنے کا منصوبہ