براہ راست نشریات

25 آئل ٹینکروں پر ریاض–بغداد اختلاف.. شپنگ لاگت 37 ڈالر فی بیرل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
oil shipping costs

سعودی عرب اور عراق کے درمیان آئل ٹینکروں پر سامنے آنے والا غیر معمولی اختلاف دراصل خلیج میں پیدا ہونے والے ایک بڑے معاشی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
عراق کے مطابق خام تیل کی شپنگ لاگت 26 سے بڑھ کر 37 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے، جبکہ سعودی عرب نے 25 ٹینکر خریدنے کے عراقی دعوے کی تردید کرتے ہوئے مہنگی ترسیل کی بنیادی وجہ جنگ، آبنائے ہرمز میں خطرات اور شپنگ مارکیٹ میں خلل کو قرار دیا ہے۔

خلیج کی تیل منڈی میں اب مسئلہ صرف خام تیل کی قیمت نہیں رہا بلکہ اسے خطے سے نکال کر خریدار تک پہنچانے کی لاگت بھی بڑی معاشی مشکل بن چکی ہے۔ 

یہی حقیقت سعودی عرب اور عراق کے درمیان سامنے آنے والے ایک غیر معمولی اختلاف سے نمایاں ہوئی، جب عراقی وزیر تیل نے سعودی عرب کی جانب سے درجنوں آئل ٹینکر خریدنے کا ذکر کرتے ہوئے اسے عراقی خام تیل کی ترسیلی لاگت میں بڑے اضافے سے جوڑا، جس کے بعد ریاض نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کردی۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
  • عراق کے مطابق خام تیل کی شپنگ لاگت 26 سے بڑھ کر 37 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
  • عراقی وزیر تیل نے سعودی عرب کی جانب سے 25 آئل ٹینکر خریدنے کا دعویٰ کیا۔
  • سعودی وزارت توانائی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل دباؤ جنگ، انشورنس اور ہرمز کے خطرات سے آیا ہے۔
  • بحری رکاوٹوں نے تیل کی قیمت کے ساتھ اس کی ترسیلی لاگت کو بھی عالمی مارکیٹ کا اہم عامل بنا دیا ہے۔
overseaspost.net

عراق کے وزیر تیل باسم محمد نے پارلیمنٹ میں کہا کہ سعودی عرب نے تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی لاگت سے 25 آئل ٹینکر خریدے اور اس پیش رفت نے ٹینکر مارکیٹ پر دباؤ بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں عراقی تیل کی شپنگ لاگت تقریباً 26 ڈالر سے بڑھ کر 37 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

مزید پڑھیں

سعودی وزارت توانائی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی جانب سے 25 آئل ٹینکر خریدنے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ 

سعودی مؤقف کے مطابق شپنگ لاگت میں غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہ خطے میں جنگ، بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں خلل اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کشتیوں اور ٹینکروں کو لاحق بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات ہیں۔

اگرچہ ظاہری طور پر اختلاف 25 آئل ٹینکروں کے گرد گھومتا ہے، لیکن اصل کہانی اس سے کہیں بڑی ہے۔ 

خلیج سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل لے جانے والی شپنگ مارکیٹ اب ایسے ٹینکروں کی کمی کا سامنا کر رہی ہے جو زیادہ خطرے والے علاقے میں داخل ہونے کیلئے تیار ہوں۔ 

اسی کے ساتھ انشورنس پریمیم اور جہاز کرائے میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
25مبینہ طور پر خریدے گئے آئل ٹینکر
4.5 ارب ڈالرعراقی دعوے کے مطابق مبینہ خریداری کی مالیت
26 ڈالرسابق شپنگ لاگت فی بیرل
37 ڈالرنئی بتائی گئی شپنگ لاگت فی بیرل
25 لاکھ بیرل یومیہستمبر میں جہاز سے جہاز منتقلی کا تخمینی حجم
14 لاکھ بیرل یومیہاگست میں یہی تخمینی حجم
overseaspost.net

ہرمز نے تیل کی تجارت کے اصول بدل دیئے

بحری نقل و حمل کی لاگت میں غیر معمولی اضافے کو ایک اعدادوشمار سے سمجھا جاسکتا ہے۔ 

ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق پیر کے روز صرف دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ 28 فروری کو جنگ میں شدت سے پہلے روزانہ اوسطاً تقریباً 125 بڑے تجارتی جہاز یہاں سے گزرتے تھے۔

اصل تعداد شاید اس سے کچھ زیادہ ہو، کیونکہ بعض جہاز سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کرکے گزرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود معمول کے حالات کے مقابلے میں بحری نقل و حرکت میں انتہائی بڑی کمی واضح ہے۔ 

اسی دوران آبنائے ہرمز میں دو الگ واقعات میں جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس نے شپنگ اور انشورنس کمپنیوں کیلئے خطرات مزید بڑھا دیئے۔

IQ OVERSEAS POST | BAGHDADعراق کا مؤقف

عراقی وزیر تیل باسم محمد کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بڑے پیمانے پر آئل ٹینکر خریدنے سے محدود شپنگ مارکیٹ پر دباؤ بڑھا اور عراقی تیل کی ترسیل مزید مہنگی ہوئی۔

بغداد کی بنیادی تشویش: اگر ٹینکر کم ہوں اور کرایے بڑھتے رہیں تو ہر برآمدی بیرل کی خالص آمدن متاثر ہوسکتی ہے۔

overseaspost.net

عراق کیلئے یہ صورتحال خاص طور پر حساس ہے کیونکہ اس کی سمندری تیل برآمدات کا بڑا حصہ خلیج اور آبنائے ہرمز سے وابستہ ہے۔ 

ٹینکروں کی تعداد کم ہونے یا ان کے کرائے بڑھنے کا اثر براہ راست عراقی تیل کے ہر برآمدی بیرل کی لاگت پر پڑتا ہے۔

ایک جہاز سے دوسرے جہاز تک

بحری بحران سے نمٹنے کیلئے اب ایسی حکمت عملیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے جو پہلے اس پیمانے پر عام نہیں تھیں۔ 

ان میں ایک اہم طریقہ ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں خام تیل منتقل کرنا ہے۔

اس طریقے میں ایک ٹینکر خلیج سے خام تیل لے کر نسبتاً محفوظ مقام، مثلاً عمان یا فجیرہ کے قریب، دوسرے ٹینکر کو منتقل کرتا ہے۔ 

پھر دوسرا جہاز یہ تیل ایشیا یا کسی دوسرے خریدار تک لے جاتا ہے۔

SA OVERSEAS POST | RIYADHسعودی عرب کا جواب

سعودی وزارت توانائی نے 25 آئل ٹینکر خریدنے کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ شپنگ لاگت میں اضافہ خطے کی جنگ، آبنائے ہرمز میں خطرات اور انشورنس و بحری کرایوں میں اضافے سے جڑا ہے۔

ریاض کا مرکزی مؤقف: مسئلہ ٹینکر خریداری نہیں بلکہ پورے خطے میں بحری نقل و حمل کا غیر معمولی بحران ہے۔

overseaspost.net

ستمبر میں اس طریقے سے منتقل ہونے والے تیل کی مقدار بڑھ کر تقریباً 25 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی، جبکہ اگست میں یہ حجم تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ تھا۔

لیکن یہ حل انتہائی مہنگا ہے۔

بعض بڑے آئل ٹینکروں کے ذریعے خام تیل منتقل کرنے کی لاگت 30 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ 

اس کا مطلب ہے کہ صرف نقل و حمل ہی خام تیل کی مجموعی قیمت کا ایک بڑا حصہ کھا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پیدا کنندہ ملک کو خریدار برقرار رکھنے کیلئے رعایت دینی پڑسکتی ہے یا اضافی شپنگ لاگت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔

عراق کے ایک نمایاں معاملے میں تقریباً 20 لاکھ بیرل بصرہ خام تیل ایک بڑے ٹینکر سے فجیرہ کے قریب دوسرے ٹینکر میں منتقل کیا گیا، جس کے بعد یہ کھیپ چین کیلئے روانہ ہوئی۔

سعودی عرب کے پاس مختلف راستہ

سعودی عرب بھی شپنگ بحران سے متاثر ہے، لیکن اسے ایک ایسی جغرافیائی سہولت حاصل ہے جو عراق کے پاس اسی پیمانے پر نہیں ہے۔ 

یہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ہے، جو سعودی تیل کو مشرقی علاقوں سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک پہنچاتی ہے اور یوں آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہوجاتا ہے۔

تاہم موجودہ بحران میں یہ راستہ بھی متاثر ہوا۔ 

ڈرون حملے کے بعد پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔

OVERSEAS POST | HORMUZہرمز نے کھیل بدل دیا

آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی سرگرمی معمول کے مقابلے میں شدید متاثر ہوئی ہے۔ ابتدائی ٹریکنگ ڈیٹا میں ایک دن صرف دو بڑے تجارتی جہاز ریکارڈ ہوئے، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ اوسط تقریباً 125 تھی۔

بعض جہاز سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹریکنگ بند کرکے بھی گزر سکتے ہیں، اس لیے اصل تعداد کچھ زیادہ ہوسکتی ہے، مگر بحران کی شدت واضح ہے۔

overseaspost.net

منگل کو سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ چلانا شروع کردی۔ 

ذرائع کے مطابق ینبع سے خام تیل کی برآمدات بتدریج بحال ہونے کی توقع ہے، البتہ ابتدائی مرحلے میں پائپ لائن کم شرح سے چل رہی ہے۔

اس خبر کا تیل کی عالمی منڈی پر فوری اثر ہوا۔ 

خام تیل پر فروخت کا دباؤ بڑھا اور برینٹ کی قیمت دو ڈالر سے زیادہ گر کر تقریباً 97 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں تیل کے متبادل برآمدی راستوں سے متعلق معمولی خبر بھی عالمی قیمتوں پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔

عراقی شپنگ لاگت 37 ڈالر کیوں ہوگئی؟

26 سے 37 ڈالر فی بیرل تک اضافہ صرف جہاز کے کرائے میں معمولی تبدیلی نہیں ہے۔

حتمی شپنگ لاگت پر کئی عوامل ایک ساتھ اثر انداز ہورہے ہیں: دستیاب ٹینکروں کی کمی، سکیورٹی خطرات، انشورنس اخراجات، جہازوں کے راستے بدلنا، بندرگاہوں پر طویل انتظار، ایک جہاز سے دوسرے جہاز کو تیل منتقل کرنا اور مختصر مگر زیادہ تعداد میں سفر۔

OVERSEAS POST | SHIPPINGجہاز سے جہاز تیل منتقلی

خلیج کے اندر سے خام تیل لانے والی ایک کشتی نسبتاً محفوظ مقام پر اسے دوسرے ٹینکر کو منتقل کرتی ہے، پھر دوسرا جہاز ایشیا یا دوسری منڈیوں کی طرف روانہ ہوتا ہے۔

یہ طریقہ رسد برقرار رکھتا ہے، مگر اضافی جہاز، انتظار، انشورنس اور آپریشنل اخراجات کے باعث فی بیرل لاگت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

overseaspost.net

اگر خلیج میں داخل ہونے کیلئے تیار ٹینکروں کی تعداد مزید کم ہوئی تو شپنگ لاگت مزید اوپر جاسکتی ہے۔

اسی لئے بغداد کسی بڑے خریدار کی جانب سے ٹینکر مارکیٹ میں وسیع خریداری کی خبر کو حساس سمجھتا ہے، جبکہ ریاض نے واضح طور پر ایسے کسی بیڑے کی خریداری کی تردید کی ہے۔

کیا اس کا اثر تیل کی قیمت پر بھی ہوگا؟

ہاں، لیکن صرف براہ راست نہیں۔

اگر خام تیل کی قیمت مثال کے طور پر 100 ڈالر فی بیرل ہو اور شپنگ پر مزید 30 سے 37 ڈالر خرچ ہوں تو درآمد کنندہ صرف خام تیل کی مارکیٹ قیمت نہیں دیکھتا بلکہ ریفائنری تک پہنچنے والی مکمل لاگت کو دیکھتا ہے۔

OVERSEAS POST | ALTERNATE ROUTEسعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن

سعودی عرب کے پاس ایک اہم متبادل راستہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ہے، جو مشرقی علاقوں سے تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر ینبع تک پہنچاتی ہے۔

اس راستے کی بحالی سے ہرمز پر انحصار کم ہوسکتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں رسد کے خدشات کو جزوی طور پر کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

overseaspost.net

اس صورتحال میں یا تو پیدا کنندہ ملک کا منافع کم ہوگا، یا ریفائنری کی لاگت بڑھے گی، یا خریدار ایسے دوسرے ممالک سے تیل لینے کی کوشش کرے گا جہاں سے شپنگ سستی ہو۔

اس طرح تیل کی پیداوار میں کمی نہ ہونے کے باوجود عالمی تجارت کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔

چین، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک جو خلیجی تیل کے بڑے خریدار ہیں، اب خلیجی خام تیل اور دوسرے خطوں سے آنے والے تیل کے درمیان مجموعی لاگت کے فرق کو پہلے سے زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں۔

یہ پیداوار سے زیادہ ترسیل کا بحران ہے

سعودی عرب اور عراق کے درمیان ٹینکروں پر اختلاف شاید بیانات کی حد تک رہے، اور فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ دونوں ممالک کے وسیع تر تعلقات میں بحران کی علامت ہے۔

لیکن اس اختلاف نے عالمی توانائی بحران کا ایک اہم پہلو ضرور سامنے لادیا ہے۔

$ OVERSEAS POST | COST BREAKDOWN37 ڈالر فی بیرل کیوں؟
  • 1دستیاب ٹینکروں کی کمی
  • 2زیادہ سکیورٹی رسک اور مہنگی انشورنس
  • 3روٹس کی تبدیلی اور طویل انتظار
  • 4جہاز سے جہاز منتقلی کے اضافی اخراجات
  • 5بحری بیڑے کی محدود دستیابی اور بڑھتی طلب
overseaspost.net

دنیا کے پاس تیل موجود ہوسکتا ہے، بندرگاہیں اسے لوڈ کرنے کیلئے تیار ہوسکتی ہیں اور ریفائنریاں اسے خریدنا چاہتی ہوں، لیکن سب کو جوڑنے والی سب سے اہم کڑی یعنی آئل ٹینکر اگر مہنگا، کم دستیاب اور خطرات سے دوچار ہوجائے تو پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔

اسی لئے اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ:

ایک بیرل تیل کی قیمت کتنی ہے؟

اصل سوال یہ بھی ہے:

اس بیرل کو خلیج سے نکال کر دنیا تک پہنچانے پر کتنی لاگت آ رہی ہے؟

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ، انشورنس اخراجات اور شپنگ ریٹس میں اضافے کے بعد تیل کی ترسیل کی قیمت بھی اب خطے میں جاری کشیدگی کی معاشی قیمت کا حصہ بن چکی ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net