نیپال کے تباہ کن سیلاب کے بعد ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
ملبورن میں رہنے والی شیف سونیا پاٹل راتوں کو پولیس تصاویر اور خاندانوں کی معلومات کا موازنہ کرکے ایسے سراغ تلاش کرتی ہیں جو لاپتا افراد کی شناخت میں مدد دے سکیں۔
ملبورن میں رہنے والی سونیا پاٹل دن میں ایک شیف کی حیثیت سے کام کرتی ہیں، مگر رات ہوتے ہی ان کی میز ایک غیر رسمی سرچ ڈیسک میں بدل جاتی ہے۔
لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نیپال کے لاپتہ افراد کی تصاویر، پولیس کی جانب سے جاری شناختی مواد اور خاندانوں کی اپیلیں کھلی ہوتی ہیں۔
وہ چہروں سے زیادہ ان چھوٹی چیزوں کو دیکھتی ہیں جو کبھی کسی انسان کو اس کا نام واپس دلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں: کپڑے کا رنگ، انگوٹھی، گھڑی، ٹیٹو یا جسم پر کوئی منفرد نشان۔
سونیا کا نیپال سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔
◆OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSکہانی کے اہم نکات⌄
- ملبورن کی شیف سونیا پاٹل نیپال سے براہِ راست تعلق نہ ہونے کے باوجود لاپتا افراد کی شناخت میں رضاکارانہ مدد کررہی ہیں۔
- وہ پولیس تصاویر میں لباس، زیورات، ٹیٹو اور جسمانی نشانات تلاش کرتی ہیں۔
- ان معلومات کا موازنہ خاندانوں اور لاپتا افراد کے ریکارڈ سے کیا جاتا ہے۔
- ممکنہ مماثلت ملنے پر خاندان کو DNA اور سرکاری شناخت کے عمل کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے۔
- رضاکار حتمی شناخت نہیں کرتے بلکہ ممکنہ سراغ تلاش کرتے ہیں۔
دی گارڈین کے مطابق انہوں نے یہ رضاکارانہ کام اس وقت شروع کیا جب 26 اگست 2026 کو نیپال-تبت سرحدی خطے میں گلیشیئر کے انہدام کے بعد آنے والی تباہ کن سیلابی لہر نے بستیاں، سڑکیں اور پن بجلی کے منصوبے تباہ کردئے۔
ہزاروں افراد لاپتا ہوئے اور خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں سوشل میڈیا، اسپتالوں اور سرکاری فہرستوں کے درمیان بھٹکنے لگے۔
مزید پڑھیں
سونیا نے اس بحران کو صرف خبر کی طرح نہیں دیکھا۔
انہوں نے آن لائن رضاکاروں کے ان گروپوں میں شامل ہوکر تصاویر اور معلومات کا موازنہ شروع کردیا جو لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی مدد کررہے ہیں۔
ان کا مقصد کسی کی شناخت خود طے کرنا نہیں، بلکہ ایسا سراغ تلاش کرنا ہے جسے بعد میں پولیس، فرانزک ماہرین یا DNA ٹیسٹ کے ذریعے
تصدیق کیا جاسکے۔
یہ کام ذہنی طور پر آسان نہیں۔
بہت سی تصاویر ایسی ہیں جنہیں متاثرہ خاندانوں کے لیے دیکھنا انتہائی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔
تصاویر میں ایک چھوٹے سے نشان کی تلاش
سونیا کئی گھنٹے ان تصاویر کو دیکھتی ہیں تاکہ کسی لباس، زیور، ٹیٹو یا جسمانی نشان کو خاندان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات سے ملایا جاسکے۔ ممکنہ مماثلت ملنے پر متعلقہ خاندان کو سرکاری شناخت کے عمل اور DNA جمع کرانے کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے۔
تباہی کا حجم اس کوشش کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXسونیا پاٹل: فیکٹ باکس⌄
رائٹرز نے 21 ستمبر کو بتایا کہ اس آفت میں 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے تھے جبکہ تقریباً 5,700 افراد اب بھی لاپتہ تھے۔
تلاش کا عمل پہاڑی علاقوں، ملبے سے بھری سرنگوں اور تباہ شدہ پن بجلی منصوبوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں امدادی ٹیموں کو ڈرلنگ، بھاری مشینری اور بعض مقامات پر کنٹرولڈ دھماکوں تک کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
DNA اب آخری امید
شناخت کا عمل بھی غیر معمولی حد تک مشکل ہے۔
16 ستمبر کو رائٹرز نے نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے بتایا تھا کہ 1,206 نامعلوم لاشوں سے DNA نمونے لئے جاچکے تھے، جبکہ لاپتا افراد کے 1,889 رشتہ داروں نے بھی نمونے جمع کرائے تھے۔
اس وقت صرف 105 لاشوں کی شناخت کرکے خاندانوں کے حوالے کیا جاسکا تھا۔
⌕OVERSEAS POST | HOW IT WORKSایک تصویر سے شناخت تک سفر⌄
- تصاویر: پولیس کی جاری کردہ نامعلوم متاثرین کی تصاویر دیکھی جاتی ہیں۔
- نشانات: لباس، زیور، ٹیٹو، جوتے یا جسمانی علامت نوٹ کی جاتی ہے۔
- موازنہ: تفصیلات کو خاندانوں اور لاپتا افراد کے ریکارڈ سے ملایا جاتا ہے۔
- تصدیق: ممکنہ میچ کے بعد DNA یا دوسرے سرکاری طریقوں سے حتمی شناخت کی جاتی ہے۔
اسی انسانی انتظار کی ایک تصویر 19 سالہ پراکرت گرونگ کی ہے۔
ان کے والد کی لاش مل گئی، مگر والدہ لاپتہ تھیں۔
انہوں نے اپنا DNA نمونہ دیا تاکہ اگر کسی نامعلوم لاش کا جینیاتی نمونہ ان سے مل جائے تو والدہ کی شناخت ہوسکے۔
ایک خاندان کے لیے یہ محض سائنسی ٹیسٹ نہیں بلکہ اس سوال کا جواب پانے کی آخری امید ہے کہ ان کا عزیز کہاں ہے۔
کامیابی بھی کبھی غم لے کر آتی ہے
سونیا جیسے رضاکار اس پورے نظام میں ایک چھوٹی مگر اہم جگہ پُر کررہے ہیں۔
وہ پولیس نہیں، فرانزک ماہر نہیں اور کسی نتیجے کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے۔
لیکن ہزاروں تصاویر اور بکھری معلومات کے درمیان وہ ایک ممکنہ ربط تلاش کرسکتے ہیں جسے مصروف سرکاری نظام یا غم سے نڈھال خاندان شاید نظر انداز کردے۔
#OVERSEAS POST | NUMBERSنیپال کی تباہی — اہم اعداد⌄
اس کام میں کامیابی کا مطلب بھی ہمیشہ خوش خبری نہیں۔
کبھی کسی لباس، انگوٹھی یا ٹیٹو کی شناخت ایک خاندان کی طویل تلاش ختم کردیتی ہے، مگر اسی لمحے انہیں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جس انسان کی واپسی کا انتظار تھا وہ اب زندہ نہیں۔
فاصلے سے بڑی انسانیت
اس کہانی کی سب سے طاقتور بات شاید یہی ہے کہ مدد کے لیے ہمیشہ سرحد، زبان یا رشتہ ضروری نہیں ہوتا۔
ایک طرف نیپال میں کوئی خاندان اپنے بیٹے، بیٹی، ماں یا باپ کی خبر کا منتظر ہے، دوسری طرف ہزاروں کلومیٹر دور ملبورن میں ایک اجنبی خاتون رات گئے اسی شخص کی تصویر کو غور سے دیکھ رہی ہے۔
♥OVERSEAS POST | HUMAN ANGLEاس تلاش کا سب سے کٹھن پہلو⌄
سونیا سیلاب کا پانی واپس نہیں موڑ سکتیں، ملبہ نہیں ہٹا سکتیں اور کسی لاپتا انسان کو گھر لانے کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔
مگر وہ ایک سراغ تلاش کرسکتی ہیں۔
اور کبھی یہی ایک سراغ کسی بے نام انسان کو شناخت اور کسی خاندان کو طویل، تکلیف دہ انتظار کے بعد ایک جواب دے سکتا ہے۔