سعودی عرب میں صنعتی سرگرمی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
مئی 2026 میں 268 نئے صنعتی لائسنس جاری کئے گئے، جبکہ 149 کارخانوں نے عملی پیداوار شروع کردی۔
نئے لائسنسوں سے 2.23 ارب ریال اور پیداوار شروع کرنے والے کارخانوں سے 1.43 ارب ریال کی سرمایہ کاری وابستہ ہے۔
سعودی عرب میں صنعتی توسیع کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے اور تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت کی معیشت میں صنعت کا کردار بتدریج مضبوط ہو رہا ہے۔
وزارتِ صنعت و معدنی وسائل کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک میں 268 نئے صنعتی لائسنس جاری کئے گئے، جبکہ اسی مہینے 149 نئے کارخانوں نے باقاعدہ پیداوار شروع کردی۔
وزارت کے نیشنل سینٹر فار انڈسٹریل اینڈ مائننگ انفارمیشن کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق نئے صنعتی لائسنسوں سے وابستہ متوقع سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 2.23 ارب ریال ہے۔
سرمایہ کاروں کے اندازوں کے مطابق ان منصوبوں کے ذریعے مملکت کے مختلف علاقوں میں 2,484 سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSسعودی صنعتی توسیع — اہم نکات ⌄
- ✓مئی 2026 میں سعودی عرب نے 268 نئے صنعتی لائسنس جاری کئے۔
- ✓ان لائسنسوں سے وابستہ متوقع سرمایہ کاری 2.23 ارب ریال ہے۔
- ✓نئے لائسنس یافتہ منصوبوں سے 2,484 سے زائد ملازمتوں کی توقع ہے۔
- ✓اسی مہینے 149 نئے کارخانوں نے پیداوار شروع کردی۔
- ✓پیداوار شروع کرنے والے کارخانوں میں سرمایہ کاری 1.43 ارب ریال رہی۔
- ✓مئی کے اختتام تک صنعتی اداروں کی مجموعی تعداد 13,870 تک پہنچ گئی۔
لائسنس سے پیداوار تک
صنعتی شعبے کی اصل اہمیت صرف نئے لائسنس جاری ہونے تک محدود نہیں۔
مئی میں 149 کارخانوں کا عملی طور پر پیداوار شروع کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متعدد منصوبے منصوبہ بندی اور تعمیر کے مرحلے سے نکل کر حقیقی اقتصادی سرگرمی میں داخل ہو رہے ہیں۔
ان 149 کارخانوں میں سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 1.43 ارب ریال بتایا گیا ہے، جبکہ ان سے تقریباً 2,410 نئی ملازمتوں کی توقع ہے۔
یوں ایک ہی مہینے میں نئے لائسنسوں اور پیداوار شروع کرنے والے کارخانوں کو ملا کر تقریباً پانچ ہزار ممکنہ ملازمتوں سے متعلق سرگرمی سامنے آتی ہے۔
مزید پڑھیں
صنعتی ادارے 13,870 ہوگئے
مئی کے اختتام تک سعودی عرب میں موجود صنعتی اداروں کی مجموعی تعداد 13,870 تک پہنچ گئی۔
ایک سال قبل مئی 2025 میں یہ تعداد 12,433 تھی۔
یوں سالانہ بنیاد پر صنعتی اداروں کی تعداد میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اپریل 2026 کے اختتام پر ایسے اداروں کی تعداد 13,660 تھی، یعنی صرف ایک ماہ میں بھی مجموعی تعداد میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا۔
ان اعداد میں وہ کارخانے شامل ہیں جو پیداوار کر رہے ہیں، زیر تعمیر ہیں یا عارضی طور پر رکے ہوئے ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXسعودی صنعت: فیکٹ باکس ⌄
صنعت کی رفتار کیوں اہم ہے؟
سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے اپنی معیشت میں تیل کے علاوہ دوسرے شعبوں کا حصہ بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔
صنعت اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے کیونکہ مقامی سطح پر زیادہ مصنوعات تیار ہونے سے درآمدات پر انحصار کم کرنے، نئی سپلائی چینز قائم کرنے اور غیر تیل برآمدات بڑھانے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
قومی صنعتی حکمت عملی کے تحت سعودی عرب نے 2035 تک کارخانوں کی تعداد تقریباً 36 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
موجودہ صنعتی سرگرمی اسی طویل مدتی منصوبے کی سمت پیش رفت کی ایک علامت سمجھی جا سکتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ صنعتی توسیع کیوں اہم ہے؟ ⌄
اعداد صرف نئے لائسنسوں کی نہیں، بلکہ منصوبوں کے حقیقی پیداوار میں داخل ہونے کی کہانی بتاتے ہیں۔
اعداد یہ بھی بتاتے ہیں کہ صنعتی سرگرمی صرف نئے منصوبوں تک محدود نہیں۔
سعودی محکمہ شماریات کے مطابق مئی 2026 میں مینوفیکچرنگ شعبے کی آپریٹنگ آمدنی سالانہ بنیاد پر 9.6 فیصد بڑھی، جبکہ اپریل کے مقابلے میں بھی 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔
2025 بھی صنعتی توسیع کا سال
یہ رفتار اچانک شروع نہیں ہوئی۔
وزارتِ صنعت کے اعداد کے مطابق پورے 2025 میں سعودی عرب میں 1,660 نئے صنعتی لائسنس جاری ہوئے تھے، جن سے وابستہ سرمایہ کاری 76 ارب ریال سے زیادہ تھی۔
اسی سال 1,201 کارخانوں نے پیداوار شروع کی، جن میں 31 ارب ریال سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی۔
↗ OVERSEAS POST | MOMENTUMصنعتی رفتار: مئی بمقابلہ اپریل ⌄
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ صنعتی توسیع اب چند بڑے منصوبوں کے بجائے مسلسل جاری عمل بنتی جا رہی ہے۔
روزگار کے نئے مواقع
نئے کارخانوں کا ایک اہم پہلو روزگار ہے۔
صنعت بڑھنے سے صرف پیداواری لائنوں پر کارکنوں کی ضرورت نہیں بڑھتی بلکہ انجینئرنگ، الیکٹریکل، مکینیکل، آئی ٹی، کوالٹی کنٹرول، گودام، نقل و حمل، اکاؤنٹنگ اور انتظامی خدمات میں بھی افرادی قوت درکار ہوتی ہے۔
⚙ OVERSEAS POST | JOBSروزگار اور پاکستانی ہنرمندوں کے مواقع ⌄
نئے صنعتی منصوبوں اور پیداوار شروع کرنے والے کارخانوں سے مجموعی طور پر تقریباً 4,894 ممکنہ ملازمتیں وابستہ ہیں، تاہم یہ سرمایہ کاروں کے تخمینے ہیں۔
- 1مکینیکل و الیکٹریکل: مشینری، مینٹیننس، صنعتی بجلی اور پلانٹ آپریشن کی مہارتیں اہم رہ سکتی ہیں۔
- 2کوالٹی اور سیفٹی: کوالٹی کنٹرول، HSE، لیبارٹری اور صنعتی معیار سے متعلق تجربہ مفید ہوسکتا ہے۔
- 3لاجسٹکس: گودام، سپلائی چین، ٹرانسپورٹ اور انوینٹری مینجمنٹ میں طلب پیدا ہوسکتی ہے۔
- 4ڈیجیٹل و انتظامی شعبے: آئی ٹی، آٹومیشن، اکاؤنٹنگ اور صنعتی انتظام بھی معاون روزگار پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان سمیت سعودی عرب میں موجود غیرملکی ہنرمند کارکنوں کے لیے اس صنعتی پھیلاؤ پر نظر رکھنا اس لیے اہم ہے کہ جیسے جیسے نئی فیکٹریاں پیداوار میں داخل ہوں گی، مختلف تکنیکی اور معاون شعبوں میں نئی آسامیوں کی ضرورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
تاہم ہر شعبے میں روزگار کے مواقع سعودی قوانین، مہارت کی ضروریات اور مقامی افرادی قوت سے متعلق پالیسیوں پر منحصر ہوں گے۔
مئی کے اعداد کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ سعودی صنعتی منصوبے محض کاغذی لائسنس تک محدود نہیں رہ رہے، نئے کارخانے حقیقی پیداوار میں داخل ہو رہے ہیں، سرمایہ کاری زمین پر اتر رہی ہے اور صنعتی بنیاد مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔