مملکت میں کام کرنے والی ترک کمپنیوں کے لیے گزشتہ برس 1473 سرمایہ کاری رجسٹریشنز جاری کی گئیں۔
وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ سعودی۔ترک سرمایہ کاری فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب صرف مواقع کی تلاش تک محدود نہیں رہے بلکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ایک جانب جب عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے رجحانات بدل رہے ہیں، وہیں سعودی۔ترک تعاون بھی مزید مضبوط اور اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔
اسی طرح سرمایہ کار اب بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں اور وہ ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں جو واضح، مستحکم اور طویل مدت کے لیے محفوظ ہو۔
وزیرِ سرمایہ کاری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی مشرقِ وسطیٰ کی دو بڑی اقتصادی طاقتیں ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کے وہ ممالک ہیں جو جی 20 کا حصہ ہیں۔ دونوں ممالک مل کر خطے کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 50 فیصد حصہ رکھتے ہیں جبکہ عالمی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی ان کا کردار نمایاں ہے۔
خالد الفالح نے واضح کیا کہ سعودی اور ترک معیشتیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب توانائی کا عالمی مرکز ہے اور تیزی سے قابلِ تجدید توانائی، ہائیڈروجن، بجلی، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سیاحت اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے، جس کے لیے مضبوط قوانین اور جدید انفرا اسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوسری جانب ترکی کو صنعت، سیاحت، خدمات، مضبوط نجی شعبے، تربیت یافتہ افرادی قوت اور یورپی منڈیوں سے گہرے تجارتی تعلقات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
وزیرِ سرمایہ کاری نے کہا کہ سعودی وژن 2030ء نے سرمایہ کاری کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے واضح منصوبے اور مسابقتی ماحول فراہم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2016ء میں وژن کے آغاز کے بعد مملکت کی مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، مستقل سرمایہ کاری بڑھی، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی تعداد 10 گنا تک پہنچ گئی جبکہ 700 کے قریب ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سعودی عرب میں اپنے علاقائی ہیڈکوارٹر قائم کیے، جو 2030ء کے اہداف سے بھی زیادہ ہیں۔
خالد الفالح کے مطابق عالمی سرمایہ کار اب یہ سوال نہیں کر رہے کہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری فائدہ مند ہے یا نہیں بلکہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس رفتار، کس طریقے اور کس حد تک تعاون ممکن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سعودی۔ترک سرمایہ کاری فورم ان سوالات کے عملی جوابات فراہم کرے گا۔
وزیرِ سرمایہ کاری کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن میں نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس، انفرا اسٹرکچر، سماجی شعبے، تعمیرات، رئیل اسٹیٹ، شہری ترقی، غذائی صنعت، زرعی کاروبار، دفاعی صنعت (50 فیصد سے زائد مقامی تیاری کا ہدف)، سیاحت، ہوٹلنگ، ریٹیل اور جدت شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں کاروباری مواقع آئندہ برسوں میں مزید بڑھیں گے، خاص طور پر ایکسپو ریاض 2030ء اور فیفا ورلڈ کپ 2034ء کی میزبانی کے باعث سرمایہ کاری اور شراکت داری کے نئے دروازے کھلیں گے۔