مصنوعی ذہانت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کی دوڑ بن چکی ہے، جہاں ہر چند ماہ بعد نیا اے آئی ماڈل، طاقتور چپ یا دیوہیکل ڈیٹا سینٹر سامنے آتا ہے، لیکن اس چمکتی ہوئی صنعت کے پیچھے ایک ایسی مالی تصویر بھی بن رہی ہے جو سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے نے اسی تصویر کا نیا رُخ بھی دکھایا ہے۔
امریکا کی 9 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مستقبل سے جڑے مالی وعدے تقریباً 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ان کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت کی موجودہ دوڑ سے متعلق ہے۔
💼
3 ٹریلین ڈالر کہاں پھنسے ہیں؟
▼
جدید ترین AI ایکسلریٹر چپس، سرور ہارڈویئر اور مسلسل بجلی کی فراہمی کو پیشگی محفوظ بنانے کے سودے، جن کی لاگت مال یا سروس ملنے پر کھاتوں میں درج ہوگی۔
دیوہیکل ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ بنیادی ڈھانچے کے طویل مدتی کرایے، جیسے میٹا کا 27 ارب ڈالر کا لوزیانا منصوبہ جس کی ادائیگیاں تکمیل کے بعد شروع ہوں گی۔
اصل معاملہ مستقبل کے لیز معاہدوں، خریداری کے طویل مدتی سودوں اور دوسری مالی ذمہ داریوں کا ہے، جن کی ادائیگیاں آنے والے برسوں میں سامنے آئیں گی۔
ان کمپنیوں میں این ویڈیا، میٹا، الفابیٹ، مائیکروسافٹ، ایمیزون، اوریکل، اسپیس ایکس، براڈکام اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مالی وعدے کمپنیوں کے ظاہر کردہ سرمایہ کے اخراجات سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال ہی ان کمپنیوں کے مجموعی سرمایہ جاتی اخراجات تقریباً 600 ارب ڈالر رہے۔
امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر اور چپس کے لیے 3 کھرب ڈالر کے معاہدے کر لیے ہیں جن کی واپسی مستقبل میں صارفین کی مانگ پر منحصر ہے۔
یہ رقم فوری اخراجات کے بجائے ڈیٹا سینٹرز کی لیز اور چپس کی طویل مدتی خریداری کے سودوں پر مشتمل ہے۔
سرمایہ کاری کو منافع بخش بنانے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی شعبے کی موجودہ آمدنی سے بھی زیادہ رقم درکار ہوگی۔
ڈیٹا سینٹرز، توانائی اور جدید سرورز پر کمپنیوں کے مجموعی اخراجات مسلسل تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی دوڑ میں کمپنیاں اپنے خزانوں کے علاوہ بھاری بینک قرضوں پر بھی انحصار کر رہی ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
میٹا کا 27 ارب ڈالر کا ڈیٹا سینٹر
اس نئے مالی ماڈل کو سمجھنے کے لیے میٹا کا منصوبہ اہم مثال ہے۔ کمپنی امریکی ریاست لوزیانا میں ’ہائپیریئن‘ نامی ایک بہت بڑا ڈیٹا سینٹر تیار کررہی ہے، جس کی لاگت تقریباً 27 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
یہ منصوبہ میٹا اور اسے چلانے کے لیے قائم کمپنی ’بلو آؤل‘ کے اشتراک سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بلو آؤل کے پاس اس منصوبے کے 80 فیصد حصص ہیں، جبکہ مکمل ہونے کے بعد میٹا اس کی خدمات لیز پر لے گی۔
📈 اے آئی کی دوڑ کتنی مہنگی ہوچکی ہے؟
لاگت کا تخمینہ
➔
بڑی ٹیک کمپنیوں نے صرف بنیادی AI کمپیوٹ سسٹمز اور انفراسٹرکچر پر خرچ کر دیے۔
ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، بجلی کے گرڈ معاہدوں اور چپس کی مستقل دستیابی پر خرچ کا نیا حجم۔
اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو سالانہ اخراجات کا پہاڑ اس تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گا۔
یہاں اصل نکتہ اکاؤنٹنگ کا ہے۔ میٹا کے نفع و نقصان کے کھاتے میں اس لیز کا خرچ اس وقت ظاہر ہوگا جب ادائیگیاں شروع ہوں گی۔ یعنی آج کیا گیا بڑا مالی وعدہ کئی سال بعد باقاعدہ اخراجات میں نظر آسکتا ہے۔
گزشتہ جون تک میٹا ایسے معاہدوں پر 347 ارب ڈالر کی ذمہ داریاں ظاہر کرچکی ہے جو ابھی شروع نہیں ہوئے۔
اسی طرح تمام متعلقہ کمپنیوں کو دیکھا جائے تو مستقبل کے لیز معاہدوں کا حجم تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر بنتا ہے۔
چپس کی دوڑ نے ایک اور بل تیار کردیا
اس دوڑ میں صرف ڈیٹا سینٹرز ہی تنہا مسئلہ نہیں ہیں۔ اے آئی کی طاقت کا انحصار جدید چپس، سرورز، بجلی اور مسلسل دستیاب کمپیوٹنگ وسائل پر ہے۔
🎮 اے آئی کا سب سے مہنگا کھیل
▼
صرف ایک پراجیکٹ (جیسے میٹا کا ہائپیریئن) 27 ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے، جس کے لیے اسپیشل پرپز کمپنیاں اور آف بیلنس شیٹ فنانسنگ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
AI کلسٹرز کو چلانے کے لیے ایٹمی، ہائیڈرو اور گرڈ پاور کے خصوصی طویل مدتی معاہدے کیے جا رہے ہیں جو مستقل فکسڈ مالی ذمہ داریاں پیدا کرتے ہیں۔
این ویڈیا اور براڈکام کی جدید ترین چپس کی فراہمی کے لیے اربوں ڈالر کے پیشگی پرچیز آرڈرز دیے جا رہے ہیں تاکہ سپلائی چین کی قلت سے بچا جا سکے۔
ہر دو سال بعد نئے اور طاقتور ماڈلز کی آمد سے پرانی چپس اور سرورز غیر مؤثر ہو جاتے ہیں، جس سے کمپنیوں کو مسلسل نئے اربوں ڈالر جھونکنے پڑتے ہیں۔
اسی لیے بڑی کمپنیاں ضروری سامان کی فراہمی پہلے سے محفوظ کررہی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے کے مطابق 9 کمپنیوں کے طویل مدتی خریداری معاہدوں سے متعلق مالی وعدے تقریباً 1.9 ٹریلین ڈالر ہیں۔
اکاؤنٹنگ قواعد کے باعث یہ رقوم بھی فوری طور پر مالی حسابات میں خرچ کے طور پر سامنے نہیں آتیں۔ ان کی لاگت مصنوعات یا خدمات فراہم ہونے کے بعد کمپنی کے باقاعدہ حسابات کا حصہ بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ مالی نتائج دیکھنے والا سرمایہ کار شاید کمپنی کی آج کی مضبوط آمدنی اور منافع دیکھ رہا ہو، لیکن پس منظر میں آنے والے برسوں کے لیے بہت بڑے اخراجات پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
💰 کھربوں کا خرچ، مگر کمائی کہاں سے آئے گی؟
+
عام صارفین کی بھاری اکثریت مفت بنیادی AI ماڈلز پر انحصار کرتی ہے اور ماہانہ بامعاوضہ سبسکرپشن لینے پر آمادہ نہیں، جس سے ریٹیل صارفین سے کمائی کی گنجائش محدود رہتی ہے۔
سرمائے کی واپسی کا واحد بڑا ذریعہ کارپوریٹ اداروں کو جدید AI حل فروخت کرنا ہے۔ اگر کمپنیوں نے پیداواری صلاحیت میں واضح فائدہ نہ دیکھا تو وہ اپنے AI بجٹ میں کٹوتی کر سکتی ہیں۔
اے آئی کی دوڑ کتنی مہنگی ہوچکی ہے؟
الفابیٹ، میٹا، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت بڑی کمپنیوں نے گزشتہ سال مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر تقریباً 450 ارب ڈالر خرچ کردیے ہیں۔
دی اکانومسٹ کے مطابق ڈیٹا سینٹرز، توانائی اور چپس پر ان کمپنیوں کے اخراجات تقریباً 900 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 2027 میں یہ رقم بڑھ کر 1.4 ٹریلین ڈالر تک جاسکتی ہے۔
اتنی بڑی سرمایہ کاری صرف کمپنیوں کے موجودہ خزانے سے پوری نہیں ہورہی، بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں قرض بھی لے رہی ہیں۔ اکانومسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال تقریباً 400 ارب ڈالر قرض لیا گیا ہے۔
اسی غیرمعمولی رفتار نے اکانومسٹ کو مصنوعی ذہانت میں موجودہ سرمایہ کاری کو ’تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کی لہر‘ قرار دینے پر مجبور کیا ہے۔
🏛️ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیاں داؤ پر؟
▶
اگر طلب اور انٹرپرائز اپنانے کی رفتار توقعات کے مطابق بڑھی تو یہ انفراسٹرکچر آئندہ دہائی کی عالمی ڈیجیٹل معیشت کا ناقابل تسخیر اجارہ دارانہ مرکز بن جائے گا۔
اگر آمدنی کا گراف توقعات سے کم رہا تو یہ مستقبل کے فکسڈ لیز اور پرچیز سودے کمپنیوں کے منافع، مارجنز اور اسٹاک ویلیویشن کو شدید دباؤ میں لا سکتے ہیں۔
اصل سوال: اے آئی کمائے گا کتنا؟
یہاں پہنچ کر کہانی ٹیکنالوجی سے نکل کر کاروبار کی بنیادی حقیقت تک پہنچتی ہے۔ یعنی اگر کھربوں ڈالر لگ رہے ہیں تو یہ سرمایہ واپس کہاں سے آئے گا؟
اکانومسٹ کے مطابق ان بھاری سرمایہ کاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر سالانہ آمدنی درکار ہوسکتی ہے۔ یہ رقم صرف موجودہ اے آئی صنعت نہیں بلکہ پورے امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر کی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ عام صارفین کی بڑی تعداد اے آئی ماڈلز کے لیے رقم دینے کے بجائے مفت سروس استعمال کرنا پسند کرتی ہے۔ اس لیے اصل کمائی کا بڑا میدان کاروباری ادارے بن سکتے ہیں، جنہیں اے آئی خدمات بڑے پیمانے پر فروخت کرنا ضروری ہوگا۔
بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کی ایک تحقیق بھی اسی خطرے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اے آئی سے آمدنی تیزی سے بڑھ ضرور رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ رفتار سرمایہ کاروں کی توقعات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی؟
💳 قرض کے سہارے اے آئی کی دوڑ ؟
مالی ڈھانچہ
▼
دی اکانومسٹ کے مطابق کمپنیاں صرف اپنے موجودہ منافع پر تکیہ نہیں کر رہیں بلکہ انہوں نے رواں سال تقریباً 400 ارب ڈالر کے بانڈز اور قرضے مارکیٹ سے اٹھائے ہیں۔
ڈیٹا سینٹرز کے بھاری اخراجات کو فوری نفع و نقصان کھاتے سے باہر رکھنے کے لیے اسپیشل پرپز وینچرز (جیسے بلو آؤل) کے ذریعے لیز ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔
مرکزی بینکوں کے عالمی ادارے (BIS) کی تحقیق کے مطابق آمدنی میں اضافے کے باوجود اس کی رفتار ان بھاری مالی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔
سود کی موجودہ بلند شرحوں میں قرض اور طویل مدتی وعدوں پر انحصار تبھی کارآمد ہوگا جب AI ایپلی کیشنز حقیقی کارپوریٹ منافع کمانا شروع کریں۔
اگر مانگ توقع کے مطابق نہ بڑھی تو؟
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جاری اس دوڑ کا دارومدار ایک بڑے مفروضے پر ہے۔ یعنی آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کی طلب بہت تیزی سے بڑھے گی۔
اسی توقع پر آج ڈیٹا سینٹرز بن رہے ہیں، چپس محفوظ کی جارہی ہیں اور توانائی کے طویل مدتی انتظامات کیے جارہے ہیں۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوا تو یہی انفرااسٹرکچر دنیا کی اگلی بڑی ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے، لیکن اگر صارفین اور کاروباری اداروں نے توقع کے مطابق رقم خرچ نہ کی تو تصویر بالکل مختلف ہوگی۔
وال اسٹریٹ جرنل کا انتباہ بھی ہے کہ طلب مطلوبہ سطح تک نہ پہنچی تو آج مستقبل کی تیاری سمجھے جانے والے کھربوں ڈالر کے مالی وعدے کل کمپنیوں اور ان کے سرمایہ کاروں کے لیے بہت بڑا بوجھ بن سکتے ہیں۔
اسی لیے اے آئی کی موجودہ کہانی صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ اگلا طاقتور ماڈل کون بنائے گا۔ شاید اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس تاریخی ٹیکنالوجی دوڑ کا 3 ٹریلین ڈالر کا بل آخر ادا کون کرے گا؟