خلیجی بندرگاہوں سے تیل کی لوڈنگ بحال مگر خطرات ایشیا تک ترسیل اور شپنگ لاگت پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں
سعودی ارامکو نے رأس تنورہ اور الجعیمہ سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کرتے ہوئے چند دنوں میں تقریباً 60 لاکھ بیرل تیل روانہ کیا ہے۔
تاہم آبنائے ہرمز میں محدود جہاز رانی، باب المندب کے خطرات اور ایشیا تک بڑھتی شپنگ لاگت بتاتی ہے کہ توانائی بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔
کئی ہفتوں کی کشیدگی اور رکاوٹوں کے بعد، جنہوں نے دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک کو متاثر کیا، سعودی تیل بردار جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے اندر واقع بندرگاہوں سے روانہ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
بظاہر یہ پیش رفت سعودی عرب کے روایتی برآمدی راستے کی بحالی کا اشارہ ہے، لیکن اقتصادی تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
سعودی ارامکو نے حالیہ دنوں میں رأس تنورہ اور الجعیمہ کی بندرگاہوں سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی۔
یہ سرگرمیاں امریکی، ایرانی کشیدگی کے دوران آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد عارضی طور پر متاثر ہوئی تھیں۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسعودی تیل اور ہرمز — اہم نکات ⌄
- ✓سعودی آرامکو نے رأس تنورہ اور الجعیمہ سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔
- ✓12 سے 16 اگست کے درمیان تین بڑے ٹینکروں پر مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لادا گیا۔
- ✓آبنائے ہرمز میں جہاز رانی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر محدود ہے۔
- ✓سعودی عرب ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ہرمز کو بائی پاس کرکے تیل ینبع تک پہنچا سکتا ہے۔
- ✓باب المندب کے خطرات نے بحیرۂ احمر کے متبادل راستے کو بھی زیادہ مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
- ✓اصل سوال یہ ہے کہ ہرمز سے محفوظ، مستقل اور کم لاگت ترسیل کب معمول بنے گی؟
12 سے 16 اگست کے درمیان 3 بڑے آئل ٹینکروں میں سے ہر ایک پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لادا گیا، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل سعودی خام تیل۔
مزید پڑھیں
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزید ٹینکرز آئندہ دنوں میں تیل لوڈ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ 60 لاکھ بیرل صرف ایک تجارتی کھیپ نہیں، بلکہ اس بات کا امتحان ہیں کہ آیا سعودی عرب ایشیائی منڈیوں کے لیے اپنے سب سے مختصر اور کم لاگت والے سمندری راستے کو دوبارہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکتا ہے یا نہیں۔
ہرمز کھلا ضرور، مگر حالات معمول پر نہیں
موجودہ بحران سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کی سب سے اہم گزرگاہوں میں شمار ہوتی تھی۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں ہرمز سے یومیہ اوسطاً 2 کروڑ 16 لاکھ بیرل تیل اور پیٹرولیم مائعات گزرتے تھے۔
تاہم 2026 کی دوسری سہ ماہی میں علاقائی جنگ اور سمندری رکاوٹوں کے باعث یہ مقدار گھٹ کر تقریباً 49 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی۔
حالیہ دنوں میں بھی جہازوں کی آمدورفت انتہائی محدود رہی۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق ایک ہفتے کے روز صرف پانچ تجارتی جہاز ہرمز سے گزرے، جبکہ اگلے روز ایک بھی جہاز اس راستے سے نہیں گزرا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXہرمز اور سعودی تیل: فیکٹ باکس ⌄
- حالیہ لوڈنگ
- تقریباً 60 لاکھ بیرل
- اہم بندرگاہیں
- رأس تنورہ، الجعیمہ
- اہم عالمی گزرگاہ
- آبنائے ہرمز
- متبادل سعودی راستہ
- ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن → ینبع
- ایشیا کے لیے اہمیت
- مختصر اور نسبتاً کم لاگت بحری راستہ
- مغربی چیلنج
- باب المندب
- اسٹریٹجک نکتہ
- سعودی عرب کے پاس ہرمز کو بائی پاس کرنے کے متبادل راستے موجود ہیں، مگر ان کی لاگت اور دورانیہ زیادہ ہوسکتا ہے۔
- موجودہ صورتحال
- ترسیل بحال، مگر مکمل معمول ابھی واپس نہیں آیا
جنگ سے پہلے یہی تعداد کئی دنوں میں 130 سے زائد جہاز یومیہ تک پہنچ جاتی تھی۔
اس لیے آرامکو کی لوڈنگ کی بحالی کو ہرمز کی مکمل بحالی نہیں کہا جاسکتا، بلکہ یہ خطرات کے درمیان ایک اہم برآمدی راستے کو مرحلہ وار دوبارہ فعال کرنے کی کوشش ہے۔
متبادل ہونے کے باوجود سعودی عرب کو ہرمز کیوں چاہیے؟
موجودہ بحران نے سعودی عرب کے توانائی انفراسٹرکچر کی ایک بڑی طاقت بھی سامنے لائی ہے۔
مملکت کے پاس ایسٹ، ویسٹ پائپ لائن موجود ہے، جو مشرقی علاقوں کے تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک پہنچاتی ہے، یوں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بائی پاس کیا جاسکتا ہے۔
آرامکو کے مطابق اس پائپ لائن، ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور متبادل برآمدی ٹرمینلز میں کی گئی سرمایہ کاری نے علاقائی بحران کے دوران پیداوار اور برآمدات جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ایسی پائپ لائنوں کی مجموعی صلاحیت تقریباً 47 لاکھ بیرل یومیہ ہے جو ہرمز سے گزرے بغیر تیل منتقل کرسکتی ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مغربی راستہ بھی اب مکمل محفوظ نہیں رہا۔
حوثیوں سے منسلک خطرات اور حملوں کے باعث کئی ٹینکروں نے باب المندب سے گزرنے سے گریز کیا ہے۔
نتیجتاً بعض سعودی کھیپوں کو ینبع سے شمال کی طرف لے جا کر نہرِ سویز یا مصر کی سومید پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ روم کے سیدی کریر ٹرمینل تک پہنچایا جارہا ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
ہرمز میں سعودی تیل کی واپسی تین سطحوں پر اہم ہے:
یوں سعودی عرب ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کررہا ہے:
مشرق میں ہرمز خطرناک ہے، جبکہ مغرب میں باب المندب بھی مستقل اور محفوظ متبادل نہیں رہا۔
اصل کہانی ایشیا کی ہے
ہرمز کی بحالی کی سب سے زیادہ اہمیت ایشیائی خریداروں کے تناظر میں سامنے آتی ہے۔
آرامکو نے حالیہ دنوں میں ایشیائی ریفائنریوں کو عرب میڈیم اور عرب ہیوی خام تیل کی نئی کھیپیں پیش کرنا شروع کی ہیں۔
کچھ معاملات میں فجیرہ کے قریب ایک جہاز سے دوسرے جہاز پر تیل منتقل کرنے کا طریقہ استعمال کیا جارہا ہے، تاکہ خریدار ممالک کے ٹینکروں کو زیادہ خطرناک علاقوں میں داخل ہونے سے بچایا جاسکے۔
یہ لچک اس وقت خاص طور پر اہم ہے جب ایشیائی شپنگ کمپنیاں زیادہ محتاط ہوتی جارہی ہیں۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا واضح ہے، کہاں ادارتی احتیاط ضروری ہے؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- آرامکو نے خلیجی بندرگاہوں سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی۔
- تین بڑے ٹینکروں پر مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل خام تیل لادا گیا۔
- سعودی عرب کے پاس ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن موجود ہے۔
- باب المندب میں خطرات کے باعث بحیرۂ احمر کے راستے پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔
- طویل متبادل راستے شپنگ وقت، ایندھن اور انشورنس لاگت بڑھا سکتے ہیں۔
ادارتی احتیاط
- ہرمز کو مکمل طور پر معمول پر آچکا کہنا درست نہیں؛ آمدورفت اب بھی محدود ہوسکتی ہے۔
- کسی ایک دن کی تیل قیمت کو مستقل رجحان کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
- شپنگ لاگت راستے، جہاز، انشورنس اور خطرے کی سطح کے مطابق بدل سکتی ہے۔
- سیاسی یا جنگی پیش رفت کے لیے تازہ اور معتبر ذرائع استعمال کیے جائیں۔
چین کی بعض بڑی سرکاری شپنگ کمپنیوں نے جولائی کے آخر سے ہرمز اور باب المندب کے راستوں پر اپنی سرگرمیاں محدود یا معطل کردی تھیں اور خلیج سے باہر متبادل مقامات پر تیل منتقل کرنے کے انتظامات کیے تھے۔
اسی دوران عمان سے چین جانے والے ٹینکروں کے آپریٹنگ اخراجات بعض اوقات یومیہ ایک لاکھ 40 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گئے۔
جاپانی خریداروں کے لیے بھی متبادل راستوں نے سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
جو سفر عام حالات میں تقریباً 20 دن لیتا تھا، بعض صورتوں میں اب 50 سے 60 دن تک پہنچ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صرف بحیرۂ احمر کی طرف برآمدات منتقل کردینا اقتصادی اعتبار سے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔
جنگ کی قیمت ہر بیرل میں شامل ہورہی ہے
خام تیل بندرگاہ سے نکل سکتا ہے، مگر اسے خریدار تک پہنچانے کی لاگت اب کہیں زیادہ اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
رویٹرز کے سابقہ تخمینوں کے مطابق طویل بحری راستے بعض ٹینکروں کے ایندھن کے اخراجات کو تقریباً 12 لاکھ 60 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 28 لاکھ 70 ہزار ڈالر تک لے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ نہرِ سویز کے استعمال کی صورت میں بعض سفر پر تقریباً 10 لاکھ ڈالر تک اضافی فیس بھی ادا کرنا پڑسکتی ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
سعودی آرامکو نے رأس تنورہ اور الجعیمہ سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کی، اور چند دنوں میں تقریباً 60 لاکھ بیرل تیل تین بڑے ٹینکروں پر لادا گیا۔
یہ بحالی اہم ہے، مگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اب بھی مکمل معمول پر نہیں۔ دوسری طرف باب المندب کے خطرات نے بحیرۂ احمر کو بھی ایک مہنگا اور پیچیدہ متبادل بنا دیا ہے۔
سعودی عرب کے پاس ایسٹ۔ویسٹ پائپ لائن، ینبع، سویز اور سومید جیسے آپشن موجود ہیں، مگر ہر اضافی راستہ وقت اور لاگت بڑھاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہرمز سے محفوظ اور مستقل ترسیل دوبارہ معمول بن سکے گی؟
یہ اضافی خرچ صرف تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں تک محدود نہیں رہتا۔
اس کا کچھ حصہ ریفائنریوں، تاجروں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہوتا ہے اور بالآخر ایندھن، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کی صورت میں صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان فوری سیاسی حل کی امیدیں کمزور ہونے کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں بھی دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی منڈیاں اب بھی ہر بیرل کی قیمت میں جغرافیائی سیاسی خطرے کی ایک نمایاں اضافی لاگت شامل کررہی ہیں۔
یہ مکمل بحالی نہیں، ایک حکمت عملی ہے
اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہرمز کے ذریعے سعودی تیل کی ترسیل کی بحالی کو بحران کے خاتمے سے زیادہ سعودی برآمدی نظام کی لچک اور متبادل راستوں کی کامیابی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
آرامکو کے پاس مشرق میں رأس تنورہ اور الجعیمہ، مغرب میں ینبع، اور ضرورت پڑنے پر بحیرۂ روم میں سیدی کریر جیسے متعدد آپشن موجود ہیں۔
کمپنی جہاز سے جہاز پر تیل منتقل کرکے بھی خریداروں کے خطرات کم کرسکتی ہے۔
لیکن ہر اضافی راستہ، ہر اضافی منتقلی اور سمندر میں گزارا جانے والا ہر اضافی دن برآمدی لاگت میں اضافہ کرتا ہے۔
اسی لیے آنے والے دنوں میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ:
کیا سعودی ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں؟
بلکہ اصل سوال یہ ہوگا:
کیا وہ مستقل، محفوظ اور ایسی لاگت کے ساتھ ہرمز سے گزر سکتے ہیں جس سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دوبارہ ایشیا کی طرف معمول کے مطابق روانہ ہوسکے؟
اگر ایسا ہوتا ہے تو شپنگ کے اخراجات اور عالمی تیل قیمتوں میں شامل خطرے کی اضافی قیمت بتدریج کم ہوسکتی ہے۔
لیکن اگر آبنائے ہرمز کی آمدورفت محدود رہی اور ساتھ ہی باب المندب بھی غیر مستحکم رہا، تو جو صورتحال اب تک ایک عارضی شپنگ بحران سمجھی جارہی تھی، وہ عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک نئے، زیادہ مہنگے معمول میں تبدیل ہوسکتی ہے۔