ہوائی اڈوں کے اندر چھپی اربوں کی معیشت فلائٹ لیٹ ہونے میں ہے
فلائٹ لیٹ ہونا صرف سفری پریشانی نہیں بلکہ ایک پوری معاشی زنجیر ہے۔
ایک طرف ایئرلائن کو ہر اضافی منٹ کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے اور مسافر وقت و پیسہ کھوتا ہے، دوسری طرف ایئرپورٹ کے اندر دکانیں، کیفے، لاؤنجز اور ڈیجیٹل فلائٹ ٹریکنگ سروسز اضافی طلب سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
آپ ایئرپورٹ پہنچ چکے ہیں، چیک اِن مکمل ہے اور بورڈنگ کا وقت قریب ہے۔
اچانک موبائل پر پیغام آتا ہے:
آپ کی پرواز تاخیر کا شکار ہے۔
مسافر کے لیے اس کا مطلب اگلی کنیکٹنگ فلائٹ چھوٹنا، ہوٹل پہنچنے میں تاخیر، اضافی کھانے یا ٹیکسی کا خرچ اور کبھی پورے سفری منصوبے کا بگڑ جانا ہو سکتا ہے۔
مگر اسی انتظار کے دوران ایک دوسری معیشت حرکت میں آ جاتی ہے، جس میں کسی کا نقصان کسی دوسرے کی آمدن بن جاتا ہے۔
الجزیرہ کی ایک حالیہ اقتصادی رپورٹ نے اسی ’چھپی ہوئی معیشت‘ کی جانب توجہ دلائی ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT فلائٹ میں تاخیر — اہم نکات ⌄
- ✓امریکی مسافر بردار ایئرلائنز میں 2025 کے دوران طیارے کے براہِ راست آپریٹنگ اخراجات اوسطاً 98.41 ڈالر فی منٹ رہے۔
- ✓فلائٹ کی تاخیر ایئرلائن کے لیے صرف وقت کا نقصان نہیں بلکہ عملے، ایندھن، دیکھ بھال اور دیگر اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
- ✓ایئرپورٹس کی آمدن کا بڑا حصہ ریٹیل، پارکنگ، کھانے پینے، جائیداد اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے حاصل ہوتا ہے۔
- ✓مسافر کا ایئرپورٹ پر زیادہ وقت گزارنا بعض حالات میں دکانوں، کیفے اور لاؤنجز کے لیے زیادہ کاروبار پیدا کرسکتا ہے۔
- ✓Flightradar24 روزانہ 50 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کرتا اور 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ پروازیں ٹریک کرتا ہے۔
- !تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ ایئرپورٹس مسافروں سے زیادہ رقم کمانے کے لیے جان بوجھ کر پروازیں لیٹ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پرواز کی تاخیر جہاں ایئرلائن کے لیے براہِ راست مالی بوجھ بنتی ہے، وہیں ایئرپورٹ کے ریسٹورنٹس، کافی شاپس، ڈیوٹی فری اسٹورز، لاؤنجز، پارکنگ، ہوٹلوں اور فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارمز کے لیے اضافی کاروبار پیدا کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
ایئرلائن کے لیے ہر منٹ کی قیمت
امریکی مسافر بردار ایئرلائنز میں 2025 کے دوران طیارے کے براہِ راست آپریٹنگ اخراجات کا اوسط تقریباً 98.41 ڈالر فی منٹ بتایا گیا۔
اس میں عملے، ایندھن اور دیکھ بھال سمیت مختلف اخراجات شامل ہیں۔
اگر طیارہ گیٹ پر کھڑا رہے یا ٹیک آف کلیئرنس کا انتظار کرے تو مسئلہ
ایک فلائٹ تک محدود نہیں رہتا، کیونکہ ایک پرواز کی تاخیر اگلی پروازوں کے شیڈول تک منتقل ہو سکتی ہے۔
یورپ میں 2015 سے 2025 کے درمیان ایئر نیویگیشن سروسز سے متعلق تاخیر نے ایئرلائنز اور مسافروں پر تقریباً 20.2 ارب ڈالر کا بوجھ ڈالا۔
اس میں 12.6 ارب ڈالر ایئرلائنز کے اخراجات جبکہ تقریباً 7.6 ارب ڈالر مسافروں کے ضائع ہونے والے وقت کی اقتصادی قدر شمار کی گئی۔
اسی مدت میں تقریباً 7.3 ملین پروازیں اور 1.1 ارب مسافر متاثر ہوئے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX فلائٹ تاخیر کی معیشت: فیکٹ باکس ⌄
- امریکی ایئرلائن کا اوسط آپریٹنگ خرچ
- 98.41 ڈالر فی منٹ
- عملے کا خرچ
- 37.01 ڈالر فی منٹ
- ایندھن کا خرچ
- 29.34 ڈالر فی منٹ
- دیکھ بھال کا خرچ
- 18.35 ڈالر فی منٹ
- غیر فضائی آمدن کا عالمی حصہ
- 36.7 فیصد
- غیر فضائی آمدن فی مسافر
- 7.57 ڈالر
- Flightradar24 کے روزانہ صارفین
- 50 لاکھ سے زیادہ
- روزانہ ٹریک ہونے والی پروازیں
- 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ
مسافر کا انتظار، کسی اور کی آمدن
ایئرپورٹ پر اضافی ایک یا دو گھنٹے گزارنے والا شخص انتظار کے دوران کافی، کھانا، کتاب، خوشبو، تحفہ یا دوسری اشیا خرید سکتا ہے۔ طویل تاخیر ہو تو لاؤنج، ہوٹل، ٹرانسپورٹ یا اضافی پارکنگ کی ضرورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہیں سے تاخیر کی دوسری معاشی تصویر سامنے آتی ہے۔
2024 میں عالمی سطح پر ایئرپورٹس کی مجموعی آمدن کا 36.7 فیصد حصہ ایسے ذرائع سے آیا جو براہِ راست فضائی آپریشن سے متعلق نہیں تھے۔
ان میں ریٹیل، کھانے پینے کی دکانیں، پارکنگ، اشتہارات، جائیداد اور لاؤنجز شامل ہیں۔
89 امریکی ایئرپورٹس کے ڈیٹا پر مبنی ایک تحقیق کے مطابق مسافروں کے ایئرپورٹ پر قیام کے وقت میں 10 فیصد اضافہ مجموعی غیر فضائی آمدن میں تقریباً 5 فیصد اضافے سے منسلک تھا۔
اسی تحقیق میں کھانے پینے کی آمدن میں تقریباً 8 فیصد اور ریٹیل آمدن میں تقریباً 6 فیصد اضافے کا تعلق زیادہ قیام کے وقت سے سامنے آیا۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSIS فلائٹ کی تاخیر کیوں اہم ہے؟ ⌄
فلائٹ کا ایک اضافی گھنٹہ تین مختلف معاشی پہلوؤں کو ایک ساتھ متاثر کرسکتا ہے:
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر تاخیر سے لازماً اتنی ہی آمدن بڑھتی ہے، مگر یہ ضرور بتاتا ہے کہ ایئرپورٹ کے اندر گزارا گیا مسافر کا وقت بھی قابلِ پیمائش اقتصادی قدر رکھتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں بھی ’تاخیر‘ بکتی ہے
پرواز وقت پر ہو تو مسافر شاید ایک بار اس کا اسٹیٹس دیکھے، لیکن تاخیر ہوتے ہی وہ بار بار جاننا چاہتا ہے کہ طیارہ کہاں ہے، نیا روانگی وقت کیا ہے، گیٹ تبدیل ہوا یا نہیں اور کنیکٹنگ فلائٹ مل سکے گی یا نہیں۔
اسی ضرورت نے فلائٹ ٹریکنگ اور ایوی ایشن ڈیٹا کو ایک بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق Flightradar24 روزانہ 50 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے اور 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ پروازیں روزانہ ٹریک کرتا ہے۔
اسی طرح FlightAware نے 2025 میں 69 ملین سے زیادہ پروازوں کو ٹریک کیا، جبکہ Cirium جیسے ادارے روزانہ کروڑوں فلائٹ اسٹیٹس اپ ڈیٹس پراسیس کرتے ہیں۔
یعنی تاخیر صرف مسافر کے لیے پریشانی نہیں، بلکہ فوری اور درست معلومات کی طلب بھی بڑھاتی ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- امریکی مسافر بردار ایئرلائنز کا 2025 میں براہِ راست آپریٹنگ خرچ اوسطاً 98.41 ڈالر فی منٹ تھا۔
- ایئرپورٹس کے لیے غیر فضائی یا تجارتی آمدن ان کے مجموعی مالی ماڈل کا اہم حصہ ہے۔
- ریٹیل، پارکنگ، جائیداد اور کھانے پینے کی سرگرمیاں غیر فضائی آمدن کے اہم ذرائع ہیں۔
- Flightradar24 روزانہ 50 لاکھ سے زیادہ صارفین اور 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ پروازوں کی ٹریکنگ رپورٹ کرتا ہے۔
- پروازوں کی تاخیر ایئرلائن اور مسافر دونوں پر اضافی اقتصادی لاگت ڈال سکتی ہے۔
جو بات اس طرح ثابت نہیں
- ہر فلائٹ کی تاخیر لازماً ہر ایئرپورٹ کی تجارتی آمدن بڑھاتی ہے، ایسا عمومی اصول ثابت نہیں۔
- ہر اضافی گھنٹے سے دکانوں یا ریسٹورنٹس کو ایک مقررہ رقم کا فائدہ ہوتا ہے، ایسا کوئی یکساں عالمی حساب نہیں۔
- ایئرپورٹس جان بوجھ کر مسافروں سے زیادہ خرچ کرانے کے لیے پروازیں تاخیر کا شکار کرتے ہیں، اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں۔
- طویل تاخیر ہمیشہ ایئرپورٹ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے، یہ نتیجہ درست نہیں کیونکہ آپریشن اور مسافر تجربہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اہم احتیاط: مسافر کے زیادہ انتظار اور تجارتی مواقع کے درمیان تعلق کو جان بوجھ کر پیدا کی جانے والی تاخیر کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
کیا ایئرپورٹس تاخیر چاہتے ہیں؟
اس سوال کا جواب نہیں ہے۔
محدود انتظار کے دوران تجارتی آمدن بڑھ سکتی ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ تاخیر ایئرپورٹ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
رش بڑھتا ہے، مسافر کا اعتماد کم ہوتا ہے، سروس کا معیار متاثر ہوتا ہے اور بار بار خراب تجربہ مستقبل کے سفری فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
اسی لیے کامیاب ایئرپورٹس کا مقصد پروازوں کو جان بوجھ کر لیٹ کرنا نہیں، بلکہ مسافر کے ایئرپورٹ پر گزارے جانے والے وقت کو زیادہ آرام دہ اور تجارتی طور پر مؤثر بنانا ہوتا ہے۔ رپورٹ بھی اس نکتے کی نشان دہی کرتی ہے کہ ایک حد کے بعد تاخیر کا فائدہ ختم اور نقصان شروع ہو جاتا ہے۔
مسافر کے لیے اصل سبق
اصل حقیقت یہ ہے کہ فلائٹ لیٹ ہونے پر پیسہ غائب نہیں ہوتا بلکہ اس کا رخ بدل جاتا ہے۔
ایئرلائن زیادہ خرچ کرتی ہے، مسافر وقت اور رقم کھوتا ہے، جبکہ ایئرپورٹ کے اندر کئی کاروبار اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم اضافی طلب حاصل کر لیتے ہیں۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READ ایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
آپ کی فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ ہو تو آپ وقت کھوتے ہیں، جبکہ ایئرلائن کے طیارے، عملے، ایندھن اور دیگر آپریشنز پر اضافی مالی بوجھ پڑسکتا ہے۔
لیکن یہی اضافی انتظار ایئرپورٹ کے کیفے، ریسٹورنٹس، ریٹیل اسٹورز، پارکنگ اور لاؤنجز کے لیے مزید کاروباری مواقع پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ مسافر ٹرمینل میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں بھی یہی اصول نظر آتا ہے۔ تاخیر کے وقت مسافر بار بار فلائٹ اسٹیٹس دیکھتا ہے، جس سے فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارمز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یوں ایک ہی تاخیر کسی کے لیے نقصان اور کسی دوسرے کے لیے کاروبار بن جاتی ہے۔
خلیجی ممالک کے بڑے ٹرانزٹ ایئرپورٹس سے سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے عملی سبق یہ ہے کہ کنیکٹنگ فلائٹ میں مناسب اضافی وقت رکھیں، ایئرلائن ایپ اور فلائٹ ٹریکنگ سروس سے صورتحال چیک کریں، اور طویل تاخیر کی صورت میں کھانے، ہوٹل یا معاوضے سے متعلق اپنے حقوق ضرور معلوم کریں۔
کیونکہ کبھی آپ کی فلائٹ کا ایک گھنٹہ کسی کے لیے نقصان اور کسی دوسرے کے لیے کاروبار بن جاتا ہے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع ⌄
اعداد و شمار کے لیے بنیادی ادارہ جاتی ذرائع کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ الجزیرہ کی رپورٹ موضوع کی مرکزی صحافتی بنیاد ہے۔