انقرہ کے ہوائی اڈے پر بظاہر سب کچھ امریکی صدر کے کسی معمول کے غیر ملکی دورے جیسا تھا۔
مزید پڑھیں
ٹیلی وژن کیمرے موجود تھے، صدارتی طیارہ تیار کھڑا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ سب کے سامنے اس میں سوار بھی ہوگئے، لیکن چند منٹ بعد منظر کے پیچھے ایک ایسی کارروائی شروع ہوچکی تھی جس کا علم وہاں موجود بیشتر لوگوں کو نہیں تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے انکشافات کے مطابق امریکی سیکیورٹی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران ٹرمپ یا ان کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسی خطرے نے امریکی صدر کی ترکیہ سے واپسی کو ایک غیر معمولی خفیہ آپریشن میں بدل دیا تھا۔
🕵️♂️ انقرہ کا خفیہ آپریشن
ٹرمپ کو کیسے غائب کیا گیا؟
ٹرمپ کو کیسے غائب کیا گیا؟
🚚 فوڈ ٹرک کی حیران کن چال
کیمیروں کے سامنے پرانے صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' میں سوار ہونے کے چند منٹ بعد، امریکی صدر کو عقبی دروازے سے ایئرپورٹ کے ایک عام کیٹرنگ (فوڈ) ٹرک کے ذریعے خاموشی سے نکال کر ملٹری طیارے سی-32 اے منتقل کر دیا گیا۔
نظریاتی ڈیکوئے (Decoy)
دنیا اور ذرائع ابلاغ کو دکھانے کے لیے جمبو جیٹ کا استعمال کیا گیا تاکہ ممکنہ حملے کا رخ اصل صدر سے دور رکھا جا سکے۔
ہائیڈرولک ٹرک کا استعمال
پرواز میں کھانا پہنچانے والے ٹرک کے ہائیڈرولک لفٹ سے صدر اور معاونین کو مخالف سمت کے گیٹ سے خفیہ طور پر اتارا گیا۔
صحافیوں سے لاعلمی
ہمراہ سفر کرنے والے وائٹ ہاؤس کے پریس کور کو بھی شیلٹر میں رکھا گیا اور وہ یہی سمجھے کہ صدر انہی کے ساتھ سوار ہیں۔
فوجی طیارے سے روانگی
چھوٹے سائز کے امریکی فوجی جہاز C-32A کو ہنگامی اور تیز رفتار انخلا کے لیے بطور محفوظ سواری منتخب کیا گیا۔
ٹرمپ کو سب نے طیارے میں جاتے دیکھا
ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچے تھے اور واپسی سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ ترکیہ لانے والے نئے طیارے کے بجائے سابق صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں سفر کریں گے۔
8 جولائی کو کیمروں کے سامنے ٹرمپ پرانے جمبو صدارتی طیارے میں داخل ہوئے اور دیکھنے والوں کے لیے یہی اُن کی روانگی کا طیارہ تھا، مگر اصل منصوبہ کچھ اور تھا۔
ایران کا خوف: فوڈ ٹرک اور ٹرمپ کا خفیہ سفر
انقرہ ایئرپورٹ پر ایرانی خطرے کے پیش نظر امریکی صدر کی واپسی کا سنسنی خیز خفیہ آپریشن
ایرانی حملے کے شدید خدشات کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی طیارے سے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خاموشی سے ملٹری جیٹ میں منتقل کیا گیا۔
ایئرپورٹ کا عام کیٹرنگ ٹرک طیارے کے پچھلے دروازے پر بلند کیا گیا جس کے ذریعے ٹرمپ خاموشی سے نکل کر چھوٹے ملٹری طیارے سی-32 اے میں منتقل ہوئے۔
پرانے صدارتی طیارے ایئر فورس ون کو بطور دھوکہ (ڈیکوئے) استعمال کیا گیا جس میں صحافی سوار رہے اور وہ ٹرمپ کی موجودگی سے بے خبر تھے۔
سیکیورٹی کے تحت پریس کور کو طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی، جس سے پراسرا روانگی کا اشارہ ملا۔
ٹرمپ نے دورانِ پرواز اعتراف کیا کہ ان کی جان کو مسلسل خطرہ ہے اور وہ ایرانی فہرست میں پہلے نمبر پر موجود ہیں۔
امریکی صدارتی تاریخ کا یہ غیر معمولی واقعہ تھا جہاں مرکزی میڈیا اور پریس کور کی موجودگی کے باوجود صدر نے خفیہ راستے سے ملک چھوڑا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دستاویزات، ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف ذریعے سے سامنے آنے والی معلومات بتاتی ہیں کہ ٹرمپ چند منٹ بعد ہی اس طیارے سے خفیہ طور پر نکال لیے گئے۔
فوڈ ٹرک نے کھیل کیسے بدلا؟
اس آپریشن کا سب سے حیران کن کردار کوئی جدید بکتر بند گاڑی نہیں بلکہ ایئرپورٹ کا ایک عام کیٹرنگ ٹرک تھا۔ ایسے ٹرک عموماً پرواز سے پہلے طیاروں میں کھانے پینے کی اشیا پہنچاتے ہیں۔
✈️
ایک صدر، دو طیارے
حفاظتی پروٹوکول کے تحت صدارتی پرواز کی دو طیاروں میں تقسیم کا مقصد ممکنہ دشمن کو غلط فہمی میں مبتلا رکھنا تھا تاکہ انٹیلی جنس خطرے کو ناکام بنایا جا سکے۔
جمبو صدارتی طیارہ جسے سب نے دیکھا اور جس میں پریس کور اور عملہ سوار تھا۔
فوجی ورژن بوئنگ 757 جس میں ٹرمپ خاموشی سے سوار ہو کر روانہ ہوئے۔
صحافی پردے بند کر کے ڈیکوئے طیارے میں پرواز کرتے رہے، بے خبر کہ صدر دوسرے طیارے میں ہیں۔
ہائیڈرولک نظام کے ذریعے ٹرک کو طیارے کے اس دروازے تک بلند کیا گیا جو مرکزی داخلی راستے کی مخالف سمت تھا۔ ٹرمپ اور ان کے چند معاونین کسی کی نظروں میں آئے بغیر اس میں سوار ہوگئے۔
بعد میں ٹرمپ کو نسبتاً چھوٹے امریکی فوجی طیارے ’سی-32 اے‘ تک پہنچایا گیا اور یوں وہ طیارہ، جسے دنیا ٹرمپ کا اصل صدارتی طیارہ سمجھ رہی تھی، عملی طور پر ایک ’ڈیکوئے‘ بن چکا تھا۔
صحافی بھی اس منصوبے سے بے خبر رہے
اس پلان کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں اور بعض اہلکاروں کو بھی حقیقت معلوم نہیں تھی۔ وہ پرانے صدارتی طیارے میں سوار ہوئے اور یہی سمجھتے رہے کہ ٹرمپ بھی اسی جہاز میں موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آپریشن میں متعدد لوگ شریک تھے، لیکن اس کے باوجود بعض افراد پھر بھی پورے منصوبے سے واقف نہیں تھے۔
صحافیوں کو نہ طیارہ بدلنے کی اطلاع دی گئی اور نہ ہی مبینہ ایرانی خطرے کی مکمل نوعیت بتائی گئی۔
💥
منصوبہ ناکام ہو جاتا تو؟
◀
منصوبہ ناکام ہو جاتا تو؟
نیٹو کے رکن ملک ترکیہ میں امریکی صدر پر حملے کی صورت میں واشنگٹن اور تہران میں راست جنگ چھڑ سکتی تھی۔
اصل طیارے کے نشانہ بننے کی صورت میں وائٹ ہاؤس پریس کور اور صدارتی عملے کی قیمتی جانیں ضائع ہو سکتیں۔
غیر ملکی خودمختار ایئرپورٹ پر انٹیلی جنس معلومات کا افشا سیکرٹ سروس کی تاریخ کی بڑی ناکامی بن جاتا۔
مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کی شدت بڑھنے سے عالمی تیل کی منڈی اور اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار ہو جاتے۔
جب صحافی طیارے میں داخل ہورہے تھے تو انہیں کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ یہی اقدام بعد میں اس پراسرار روانگی کا ایک اہم اشارہ بنا۔
خطرہ کتنا سنگین تھا؟
امریکی عہدیدار کے مطابق اس پورے آپریشن کی بنیاد ٹرمپ کے خلاف ایک قابل اعتبار خطرہ تھا، جس میں ایران کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا پہلے بھی رپورٹ کرچکا تھا کہ انٹیلی جنس حکام کو صدر یا ان کے طیارے پر ممکنہ حملے سے متعلق مخصوص خطرے کا پتا چلا تھا۔
⚠️
ایرانی خطرہ کتنا سنگین تھا؟ اندر کی کہانی
+
ایرانی خطرہ کتنا سنگین تھا؟ اندر کی کہانی
انٹیلی جنس تھریٹ کی نوعیت
- واشنگٹن اور تہران مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حتمی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔
- امریکی اداروں کو صدر کے طیارے پر ممکنہ فضائی یا زمین پر حملے کا 'قابلِ اعتماد' خطرہ ملا۔
- ٹرمپ کے مطابق وہ ایرانی ہٹ لسٹ پر ’نمبر ون‘ ہدف سمجھے جاتے ہیں۔
حفاظتی جوابی اقدامات
- روایتی صدارتی پروٹوکول کو منسوخ کر کے فوجی طریقہ کار نافذ کیا گیا۔
- انقرہ ایئرپورٹ پر لمحہ بہ لمحہ کیٹرنگ ٹرک کی حرکت کی خفیہ نگرانی کی گئی۔
- فلائٹ روٹ اور طیارے کی شناخت کو عالمی نظام سے آخری لمحے تک پوشیدہ رکھا گیا۔
اس واقعے کی ٹائمنگ بھی اہم تھی۔ ٹرمپ کی انقرہ موجودگی اس وقت ہوئی جب واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات ناکام ہوچکے تھے اور اُن کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف فوجی حملے دوبارہ شروع کردیے تھے۔
ایسے میں امریکی صدر کی واپسی محض ایک فضائی سفر نہیں تھی بلکہ سیکیورٹی حکام کے لیے ایک حساس مشن بن گئی تھی۔
’شاید آپ خطرناک پرواز پر تھے‘
اس کہانی کا ایک دلچسپ موڑ بعد میں سامنے آیا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے تقریباً 15 منٹ گفتگو کی اور ایران سے اپنی جان کو لاحق خطرات کا ذکر کیا، مگر طیارے کی خفیہ تبدیلی کا راز ظاہر نہیں کیا۔
🪟
بند پردوں کے پیچھے کیا ہو رہا تھا؟
منظر نامہ
کیمروں کی موجودگی میں طیارے میں انٹری
ڈونلڈ ٹرمپ سب کو دکھا کر پرانے صدارتی طیارے 'ایئر فورس ون' میں سوار ہوئے تاکہ پریس کور یہی سمجھے کہ پرواز معمول کی ہے۔
صحافیوں کو پردے بند رکھنے کا حکم
صحافیوں کے بیٹھتے ہی تمام کھڑکیوں کے پردے گرا دیے گئے تاکہ باہر کیٹرنگ ٹرک کی حرکت اور دوسرے طیارے کی منتقلی نہ دکھائی دے سکے۔
پرواز کے بعد کا غیر متوقع انکشاف
پرواز کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں کے سوال پر مذاقاً کہا کہ 'شاید آپ ایک خطرناک پرواز پر تھے'، مگر طیارے کے تبادلے کا اصل راز چھپایا۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ ترکیہ میں صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے بند کرنے کا حکم کیوں دیا گیا تو ٹرمپ نے کہا ’کیونکہ شاید آپ ایک خطرناک پرواز پر تھے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جان کو مسلسل خطرہ رہتا ہے اور وہ ایران کی فہرست میں ’نمبر ایک‘ پر ہیں۔ پھر صحافیوں سے مذاق کے انداز میں کہا کہ اگر وہ گئے تو ساتھ موجود صحافی بھی جائیں گے، اس لیے شاید انہیں کبھی اپنا پیشہ بدلنے پر غور کرنا چاہیے۔
چند منٹوں میں پورا منصوبہ کیسے تبدیل ہوا؟
▼
⏱️ انٹیلی جنس الرٹ اور ہنگامی حکمتِ عملی
ترکی سے معمول کی صدارتی پرواز پر روانگی سے قبل امریکی خفیہ اداروں کو انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئیں جن کے بعد ایئرپورٹ پر ہنگامی پروٹوکول نافذ کر کے ایئر فورس ون کو ڈیکوئے بنا دیا گیا۔
1. عوامی پیغام کی تبدیلی
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پرانے طیارے کے استعمال کا اعلان کیا تاکہ تمام توجہ اسی پر مرکوز رہے۔
2. پبلک بورڈنگ کا ڈراما
کیمروں اور عوام کے سامنے مرکزی دروازے سے طیارے میں سوار ہو کر معمول کی روانگی کا تاثر دیا گیا۔
3. عقبی رستے سے منتقلی
کیٹرنگ ٹرک کے ہائیڈرولک پلیٹ فارم سے چپکے سے اتر کر ملٹری بوئنگ سی-32 میں شفٹ کیا گیا۔
4. متوازی روانگی
ڈیکوئے طیارہ پریس کور کے ساتھ اڑا، جبکہ امریکی صدر خاموشی سے دوسرے راستے امریکی حدود میں داخل ہوئے۔
صدارتی سفر کا غیر معمولی باب
امریکی صدور کے ساتھ وائٹ ہاؤس ’پریس کور‘ کا سفر دہائیوں پرانی روایت ہے۔ صحافی ٹرمپ سے پہلے جو بائیڈن، باراک اوباما اور جارج ڈبلیو بش سمیت مختلف صدور کے ساتھ خطرناک علاقوں تک جاتے رہے ہیں۔
انقرہ کا واقعہ اس روایت سے غیر معمولی انحراف تھا۔ ایک طرف صحافیوں سے بھرا صدارتی طیارہ دنیا کو دکھائی دے رہا تھا، دوسری طرف امریکی صدر ایک چھوٹے فوجی جہاز میں خاموشی سے ترکیہ چھوڑ رہے تھے۔
یوں ایک عام سا کیٹرنگ ٹرک، بند کھڑکیاں اور 2 مختلف طیارے اس خفیہ آپریشن کے مرکزی کردار بن گئے۔ بظاہر معمول کی صدارتی روانگی دراصل جدید دور کی ایک غیر معمولی سیکیورٹی چال ثابت ہوئی۔