عالمی فٹبال میں طاقت کی سب سے بڑی کرسی ایک بار پھرتنازعات کے گھیرے میں ہے۔
مزید پڑھیں
ایک دہائی سے فیفا کی باگ ڈور سنبھالنے والے جانی انفینٹینو اگلے سال چوتھی اور آخری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، مگر اس سے پہلے ہی یورپ سے اٹھنے والی مخالفت نے ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
واضح رہے کہ ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے اب صرف تنقید تک محدود رہنے کے بجائے انفینٹینو سے استعفے کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیڈریشن کی صدر لیزا کلاوینیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ موجودہ ماحول میں انفینٹینو فیفا کی مستحکم قیادت کے لیے درکار ادارہ جاتی اعتماد کھو چکے ہیں۔
لیزا کلاوینیس کے الفاظ میں ’اب انفینٹینو کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔‘
کھلی مخالفت
فیفا میں بغاوت: انفینٹینو کے خلاف کون کھڑا ہے؟
فیفا میں بغاوت: انفینٹینو کے خلاف کون کھڑا ہے؟
ناروے فٹبال فیڈریشن کی باضابطہ پیش قدمی
یورپی ملک ناروے نے محض زبانی اعتراضات کے بجائے باضابطہ طور پر جانی انفینٹینو کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ قدم عالمی فٹبال کی اعلیٰ ترین قیادت کے خلاف حالیہ سالوں کی سب سے بڑی عوامی بغاوت سمجھا جا رہا ہے۔
ناروے فیڈریشن کی سربراہ جو طویل عرصے سے فیفا کے طرزِ حکمرانی، شفافیت اور مالی فیصلوں پر کھل کر سخت سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔
ناروے کے اس دلیرانہ فیصلے کے بعد اب دیگر یورپی فٹبال فیڈریشنز پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ انفینٹینو کی حمایت یا مخالفت میں کھلی پوزیشن اختیار کریں۔
"اب انفینٹینو کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ ادارہ جاتی اعتماد کھو چکے ہیں۔"— لیزا کلاوینیس (صدر ناروے فٹبال فیڈریشن)
ناروے نے کھلی مخالفت کیوں کی؟
یہ فیصلہ اچانک نہیں آیا۔ کلاوینیس کئی برس سے انفینٹینو کی قیادت اور فیفا کے طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ اب ناروے کی فیڈریشن کے بورڈ اجلاس کے بعد اس اختلاف نے باضابطہ سیاسی شکل اختیار کرلی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ انفینٹینو آئندہ مارچ میں فیفا کی صدارت کے لیے دوبارہ میدان میں اترنے والے ہیں۔
وہ اب تک واحد اعلان کردہ امیدوار ہیں، لیکن ناروے کا کھلا مطالبہ دوسرے ممالک کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
فیفا کا تخت ہلنے لگا
جانی انفینٹینو کے خلاف یورپ میں ابھرتی ہوئی سیاسی بغاوت اور قیادت کا بحران
ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے فیفا صدر کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ تجارتی سرمایہ کاری اور قیادت کے اطمینان پر تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
🚨 استعفے کا باضابطہ مطالبہ
ناروے کی فیڈریشن کی صدر لیزا کلاوینیس کا کہنا ہے کہ انفینٹینو ادارہ جاتی اعتماد کھو چکے ہیں اور ان کے لیے واپسی کا راستہ نہیں۔
💼 تجارتی سرمایہ کاری کا تنازع
ورلڈ کپ سمیت اہم مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کی تجاویز نے عالمی فٹبال کے تجارتی اثرورسوخ پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
🗳️ انتخاب میں برتری کے اصول
211فیفا صدر کو دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے رکن فیڈریشنز کی اکثریت کا اعتماد درکار ہوگا۔
⏱️ آئندہ انتخابی شیڈول
18نومبر تک امیدواروں کے لیے درخواستیں کھلی ہیں، جبکہ مارچ کا اجلاس فیفا کا مستقبل طے کرے گا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اصل لڑائی ورلڈ کپ کے پیسوں کی ہے؟
انفینٹینو پر تازہ دباؤ کے پیچھے ایک بڑا معاملہ فیفا کے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کا منصوبہ بھی ہے۔
گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی اس تجویز کے تحت نجی سرمایہ کاروں کے لیے فیفا کے مقابلوں، حتیٰ کہ ورلڈ کپ، میں سرمایہ لگانے کا راستہ کھولنے کی کوشش کی گئی۔
آئندہ منظرنامہ
آگے کیا ہوگا؟
آگے کیا ہوگا؟
دیکھنا یہ ہے کہ ناروے کے اس کھلے اعلان کے بعد جرمنی، انگلینڈ اور فرانس جیسی بڑی یورپی فیڈریشنز کیا مؤقف اختیار کرتی ہیں۔
امیدواروں کی نامزدگی کے وقت تک اگر کوئی دوسرا حریف سامنے نہ آیا تو انفینٹینو بلا مقابلہ یا آسان اکثریت سے جیت سکتے ہیں۔
آئندہ برس مارچ میں ہونے والے انتخابات صرف فیفا صدارت کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ عالمی فٹبال کی رقم اور طاقت کی سمت متعین کریں گے۔
یہ منصوبہ مشکلات کا شکار ہوا تو بحث صرف سرمایہ کاری تک محدود نہ رہی۔
سوال یہ بنا کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے سب سے قیمتی مقابلوں پر تجارتی سرمایہ کس حد تک اثر انداز ہونا چاہیے؟
کیا واقعی انفینٹینو کی کرسی خطرے میں ہے؟
فی الحال انفینٹینو کو انتخابی اعتبار سے کمزور سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
انتخابی طاقت
انفینٹینو کتنے طاقتور ہیں؟
انفینٹینو کتنے طاقتور ہیں؟
فیفا صدارت کی حتمی شق
انفینٹینو کو چوتھی اور آخری بار صدر بننے کے لیے عالمی فیڈریشنز کی سادہ اکثریت درکار ہے۔
2016 سے قائم اقتدار
اطالوی نژاد سوئس وکیل 10 برس سے فیفا کے صدارتی عہدے پر براجمان ہیں اور عالمی سطح پر ایک مضبوط ووٹ بینک تیار کر چکے ہیں۔
چھوٹے ممالک کی حمایت
ایشیا، افریقہ اور کیریبین کی متعدد فیڈریشنز مالی گرانٹس اور ترقیاتی فنڈز کی وجہ سے انفینٹینو کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔
واحد نامزد امیدوار
فی الحال انتخابات میں وہ واحد میدان میں اترنے والے امیدوار ہیں، جس کی وجہ سے انتخابی اعتبار سے انہیں فوری شکست دینا آسان نہیں۔
18 نومبر کی آخری تاریخ
امیدواروں کے کاغذات جمع کرانے کی حتمی تاریخ تک اگر کوئی مضبوط متبادل یورپی بلاک کی طرف سے نہ آیا تو ان کی جیت یقینی ہو سکتی ہے۔
2016 سے فیفا کی صدارت سنبھالنے والے اطالوی نژاد سوئس وکیل کو دوبارہ کامیابی کے لیے 211 رکن فیڈریشنز میں اکثریت درکار ہوگی، جبکہ امیدواروں کے لیے دروازہ 18 نومبر تک کھلا ہے۔
اصل امتحان اب یہ ہے کہ ناروے تنہا رہتا ہے یا اس کے پیچھے مزید فیڈریشنز بھی کھڑی ہوجاتی ہیں۔
اگر مخالفت پھیلتی ہے تو اگلے چند ماہ فیفا کے اندر محض انتخابی مہم نہیں بلکہ عالمی فٹبال کی طاقت، پیسے اور مستقبل کی سمت طے کرنے والی جنگ بن سکتے ہیں۔