براہ راست نشریات

39 پاکستانی زبانیں AI میں داخل—700 گھنٹے کی آوازیں محفوظ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Meesum Alam

پاکستانی محقق میسم عالم نے مقامی آبادیوں اور تنظیموں کے تعاون سے 39 پاکستانی زبانوں میں تقریباً 700 گھنٹے کا صوتی ڈیٹا جمع کیا ہے۔
روزمرہ جملوں، شاعری، لوک گیتوں اور مقامی متون پر مشتمل یہ ذخیرہ آواز شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی، ترجمے، تعلیمی ایپلی کیشنز اور ڈیجیٹل معاونت کے نظام بنانے میں استعمال ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں 70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں تقریباً 30 خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ بیشتر ڈیجیٹل وسائل اردو اور چند بڑی زبانوں تک محدود ہیں۔
منصوبہ زبانوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ یہ بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ مقامی آبادیوں کی آوازوں اور ڈیٹا سے تجارتی فائدہ حاصل کرنے کا حق کس کے پاس ہونا چاہئے؟

پاکستانی محقق کی قیادت میں کمیونٹی منصوبہ 

معدومیت کے خطرے سے دوچار زبانوں کو 

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں جگہ دلا رہا ہے

مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھا رہا ہے کہ 

لوگوں کی آوازوں اور ڈیٹا کا اصل مالک کون ہے؟

OVERSEAS POST  |  FEATURE STORY

تصور کریں کہ گلگت بلتستان کے کسی پہاڑی گاؤں میں رہنے والا ایک عمر رسیدہ شخص ایسی زبان میں بات کرتا ہے جسے اس کا موبائل فون کبھی سمجھ نہیں سکا۔ 

پھر ایک دن وہ پہلی بار کسی ڈیجیٹل پروگرام کو اپنے الفاظ پہچانتے یا اپنی زبان میں جواب دیتے دیکھتا ہے۔ 

انگریزی یا کسی دوسری بڑی زبان بولنے والے کے لیے شاید یہ معمولی بات ہو، لیکن جس زبان کے بولنے والوں کی تعداد چند سو رہ گئی ہو، اس کے لیے یہ معدوم ہوتی آواز کی واپسی سے کم نہیں۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں کسی زبان کی بقا کا انحصار صرف اس بات پر نہیں رہا کہ اسے گھروں اور بازاروں میں کتنے لوگ بولتے ہیں۔ 

اب یہ بھی اہم ہے کہ وہ زبان ڈیٹا بیس، سرچ انجن، کی بورڈ، ترجمہ کرنے والے پروگرام اور آواز شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی میں موجود ہے یا نہیں۔ 

مزید پڑھیں

جس زبان کے منظم متون اور صوتی ریکارڈ دستیاب نہ ہوں، وہ اپنے لوگوں کے درمیان زندہ رہنے کے باوجود موبائل فون، ڈیجیٹل معاون اور چیٹ بوٹ کے سامنے خاموش ہوجاتی ہے۔

اسی تناظر میں ایک پاکستانی منصوبہ غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ 

پاکستانی محقق میسم عالم نے مقامی آبادیوں اور تنظیموں کے تعاون 

سے 39 پاکستانی زبانوں میں تقریباً 700 گھنٹے کا صوتی ڈیٹا جمع کیا ہے۔ 

اس کا مقصد محققین اور سافٹ ویئر تیار کرنے والوں کو ان زبانوں کے لیے ٹیکنالوجی بنانے میں مدد دینا ہے جنہیں ڈیجیٹل صنعت نے طویل عرصے تک نظر انداز کئے رکھا۔

شناخت کے بحران سے شروع ہونے والا سفر

میسم عالم کے لیے اس کہانی کا آغاز ایک ذاتی تجربے سے ہوا۔ 

ان کا تعلق بلوچ برادری سے ہے، لیکن وہ اپنے آباؤ اجداد کی زبان بلوچی نہیں بول سکتے تھے۔ انہوں نے اس کیفیت کو ’لسانی شناخت کا بحران‘ قرار دیا۔ 

بنیادی سوال یہ تھا کہ جب ایک زبان نسلوں کے درمیان منتقل ہونا بند ہوجائے اور ڈیجیٹل دنیا بھی اسے قبول نہ کرے تو اس زبان اور اس سے وابستہ شناخت کا کیا ہوگا؟

55 اہم ترین ہائی لائٹس +
  1. 39 پاکستانی زبانوں کا تقریباً 700 گھنٹے صوتی ڈیٹا جمع کیا گیا ہے۔
  2. پاکستان کی 70 سے زیادہ زبانوں میں سے تقریباً 30 خطرے سے دوچار ہیں۔
  3. ذخیرے میں روزمرہ گفتگو، شاعری، لوک گیت اور مقامی متون شامل ہیں۔
  4. میسم عالم کے مطابق میٹا سمیت بعض اداروں نے کچھ ڈیٹا صوتی شناخت میں استعمال کیا۔
  5. Mozilla Data Collective کمیونٹیز کو شرائط، لائسنس اور ممکنہ معاوضہ طے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی اور تخلیقی مصنوعی ذہانت کے عام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے کم ڈیجیٹل وسائل رکھنے والی پاکستانی زبانوں کو محفوظ کرنا شروع کردیا تھا۔ 

ابتدائی زبانوں میں داؤدی شامل تھی، جسے بعض پرانی تحقیقات میں ڈوماکی کہا گیا ہے۔ 

یہ شدید خطرے سے دوچار زبان ہنزہ اور نگر میں بہت محدود تعداد میں بولی جاتی ہے۔ 

ان کی کوششوں میں کلاشہ بھی شامل ہوئی، جس کے بولنے والوں کی تعداد عالمی رپورٹ میں دیئے گئے اندازوں کے مطابق چند ہزار ہے۔

بعد میں موزیلا کے اوپن ملٹی لنگول اسپیچ فنڈ کی مدد سے منصوبے کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ میسم عالم اور محقق فرانسس ٹائرز نے مئی 2026 میں LREC کانفرنس میں پیش کئے گئے تحقیقی مقالے میں پاکستان کی 39 مقامی زبانوں کے لیے ایک سال پر محیط کمیونٹی منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔

جمع کئے گئے مواد میں مقامی افراد کے لکھے ہوئے متون، روزمرہ گفتگو، شاعری اور لوک گیت شامل ہیں۔ 

مقصد زبان کو موبائل فون کو حکم دینے والے چند الفاظ تک محدود کرنے کے بجائے اس کے ثقافتی مزاج اور سماجی زندگی کو بھی محفوظ کرنا ہے۔

39فیکٹ باکس +
شامل زبانیں39 پاکستانی زبانیں
صوتی ڈیٹاتقریباً 700 گھنٹے
پاکستان کی زبانیں70 سے زیادہ
خطرے سے دوچارتقریباً 30 زبانیں
مرکزی محققمیسم عالم
تحقیقی شراکت دارفرانسس ٹائرز
تحقیقی پیشکشLREC 2026، مئی 2026

مقالے کے مطابق پاکستان میں 70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں تقریباً 30 خطرے سے دوچار ہیں۔ 

اس کے باوجود بیشتر ڈیجیٹل وسائل اردو اور چند بڑی زبانوں تک محدود ہیں۔ 

یوں پاکستان کے درجنوں لسانی گروہ مصنوعی ذہانت کے زمانے میں داخل تو ہورہے ہیں، مگر انہیں خدمات فراہم کرنے والے نظاموں کے لیے وہ تقریباً غیر مرئی ہیں۔

700 گھنٹے کی ریکارڈنگ کیا کرسکتی ہے؟

کسی خودکار نظام کو بولی جانے والی زبان سمجھانے کے لیے ایسی ریکارڈنگ درکار ہوتی ہے جس کے ساتھ بولے گئے الفاظ کا درست متن بھی موجود ہو۔ 

مختلف عمروں، لہجوں، علاقوں اور صوتی ماحول سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوں تو نظام حقیقی زندگی کی گفتگو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔

اس ڈیٹا سے بولی گئی بات کو تحریر میں بدلنے، صوتی سرچ بہتر بنانے اور تعلیمی، ترجمے اور ڈیجیٹل معاونت کی ایپلی کیشنز تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 

؟یہ کیوں اہم ہے؟ +

مصنوعی ذہانت صرف انہی زبانوں کو بہتر سمجھ سکتی ہے جن کے معیاری متون اور صوتی نمونے اسے دستیاب ہوں۔ کسی زبان کی ڈیجیٹل عدم موجودگی کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ مستقبل کے موبائل فون، تعلیمی نظام، طبی ایپلی کیشنز اور سرکاری خدمات اسے بولنے والوں کو نظر انداز کردیں۔

یہ منصوبہ زبانوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ مقامی آبادیوں کو اپنے ڈیٹا پر اختیار دینے کی کوشش بھی ہے۔ لوگوں کی آوازیں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مفت خام مال نہیں بلکہ ثقافتی ورثہ اور حساس ذاتی ڈیٹا ہیں۔

میسم عالم کے مطابق میٹا سمیت بعض اداروں نے اس مواد کا کچھ حصہ آواز شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی میں استعمال کیا ہے۔ 

انہیں ایسے افراد کے پیغامات بھی ملتے ہیں جو پہلی مرتبہ اپنی زبان میں کسی ذہین ایپلی کیشن سے رابطہ کرنے کے قابل ہوئے۔

تاہم ریکارڈنگ موجود ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام 39 زبانیں فوراً اور یکساں معیار کے ساتھ ہر چیٹ بوٹ میں دستیاب ہوگئی ہیں۔ 

ڈیٹا وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کے ماڈل تیار کیے جاسکتے ہیں، یہ بذاتِ خود مکمل ڈیجیٹل سروس نہیں۔

اگر 700 گھنٹوں کو محض حساب سمجھانے کے لیے 39 زبانوں میں برابر تقسیم کیا جائے تو فی زبان اوسط 18 گھنٹے سے بھی کم بنتی ہے۔ 

اس سے واضح ہے کہ یہ اہم آغاز ہے، منزل نہیں۔ 

پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ حقیقی ڈیٹا تمام زبانوں میں برابر تقسیم ہوا ہو۔

لوگوں کی آوازوں کا مالک کون؟

اصل مسئلہ صرف ڈیٹا جمع کرنا نہیں بلکہ یہ طے کرنا بھی ہے کہ اس کا مالک کون ہوگا اور اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ 

مصنوعی ذہانت کے ماڈل انٹرنیٹ پر موجود بہت بڑی مقدار میں تحریروں، تصاویر اور آوازوں سے تربیت حاصل کرتے رہے ہیں، اکثر اس مواد کے تخلیق کاروں یا متعلقہ برادریوں سے براہِ راست معاہدے کے بغیر۔

گخلیج میں مقیم پاکستانیوں کے لیے +
  • تارکین وطن اپنی علاقائی زبانوں کی کہانیاں، کہاوتیں اور لوک گیت منظم منصوبوں کے ذریعے محفوظ کرسکتے ہیں۔
  • پاکستانی کارکنوں کی زبانوں میں صحت، حفاظتی ہدایات اور سرکاری معلومات کی صوتی خدمات تیار ہوسکتی ہیں۔
  • بیرون ملک نئی نسل کو خاندان کی زبان سے جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل تعلیمی مواد بنایا جاسکتا ہے۔
  • ریکارڈنگ سے پہلے رضامندی، ملکیت، رازداری اور مستقبل کے استعمال کی شرائط سمجھنا ضروری ہوگا۔

جب کسی نایاب زبان کا ڈیٹا کسی عالمی کمپنی کے لیے قیمتی بن جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے: 

کیا کمپنی وہ زبان مفت حاصل کرکے بعد میں اسی زبان بولنے والوں کو اس پر تیار کردہ خدمات فروخت کرسکتی ہے؟

اس کا ایک ممکنہ جواب ’ڈیٹا کوآپریٹو‘ یعنی اجتماعی ڈیٹا نظام ہے۔ 

اس میں ہر شخص اپنی آواز الگ سے کسی نامعلوم ادارے کے حوالے نہیں کرتا بلکہ ایک کمیونٹی تنظیم مواد جمع کرکے شرکا کی جانب سے اس کے استعمال کی شرائط طے کرتی ہے۔ 

وہ تحقیق اور تعلیم کے لیے اجازت دے سکتی ہے، بعض تجارتی استعمال روک سکتی ہے یا مالی معاوضہ طلب کرکے اسے کمیونٹی پر خرچ کرسکتی ہے۔

موزیلا ڈیٹا کلیکٹو پر ڈیٹا فراہم کرنے والے اپنی ملکیت برقرار رکھ سکتے ہیں اور یہ طے کرسکتے ہیں کہ مواد کس لائسنس، قیمت، ادارے اور مقصد کے تحت استعمال ہوگا۔ 

یہاں دونوں سہولتوں میں فرق ضروری ہے۔ 

کامن وائس کی کھلی ریکارڈنگ عموماً وسیع استعمال کی اجازت دینے والے لائسنس کے تحت جاری ہوتی ہے، جبکہ موزیلا ڈیٹا کلیکٹو تحقیقی، غیر تجارتی یا معاوضے والے مختلف لائسنسوں کی سہولت دیتا ہے۔

اس طریقے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ کسی کمیونٹی کو ڈیجیٹل دنیا سے مکمل غائب ہوجانے یا اپنا ڈیٹا بلاشرط حوالے کرنے میں سے صرف ایک راستہ منتخب کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

1mایک منٹ میں کہانی +

پاکستان میں 70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، مگر مصنوعی ذہانت کی دنیا میں بیشتر تقریباً خاموش ہیں۔ میسم عالم نے مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر 39 زبانوں کی تقریباً 700 گھنٹے ریکارڈنگ جمع کی ہے، جن میں روزمرہ جملے، شاعری اور لوک گیت شامل ہیں۔ یہ ڈیٹا مستقبل میں صوتی شناخت، ترجمے اور مقامی زبانوں میں ڈیجیٹل خدمات بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اصل معرکہ صرف زبان محفوظ کرنا نہیں بلکہ یہ طے کرنا بھی ہے کہ لوگوں کی آوازوں کا مالک کون ہوگا اور عالمی کمپنیاں انہیں کن شرائط پر استعمال کرسکیں گی۔

بڑا موقع، حقیقی خطرات

یہ صوتی ذخیرے مستقبل میں مریض کی زبان سمجھنے والی طبی ایپلی کیشنز، بچوں کے تعلیمی مواد، صوتی سرکاری خدمات اور لوک کہانیوں، گیتوں اور زبانی تاریخ کو محفوظ کرنے والے نظام تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 

ان سے بزرگوں اور پڑھنے لکھنے سے محروم افراد کے لیے بھی ٹیکنالوجی تک رسائی آسان ہوسکتی ہے۔

مگر آواز نہایت حساس ڈیٹا ہے۔ 

اس سے کسی شخص کی شناخت، لہجہ، علاقہ اور اندازاً عمر معلوم کی جاسکتی ہے۔ 

مصنوعی طریقے سے آواز نقل کرنے کی ٹیکنالوجی بہتر ہونے کے ساتھ غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

رضامندی سے متعلق سوالات بھی اہم ہیں: 

پوری برادری کی نمائندگی کون کرے گا؟ 

کیا ہر شخص سمجھتا ہے کہ کئی سال بعد اس کی آواز کس طرح استعمال ہوسکتی ہے؟ 

کیا ریکارڈنگ میں خواتین، بزرگوں اور مختلف لہجوں کی مناسب نمائندگی ہے؟

بعض زبانوں کا متفقہ رسم الخط موجود نہیں اور بعض ایک سے زیادہ خطوط میں لکھی جاتی ہیں۔ 

کئی لوگ گفتگو میں اپنی زبان کو اردو یا انگریزی کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ 

اس لیے معیاری ڈیٹا بنانا محض ریکارڈنگ اپ لوڈ کرنے کا کام نہیں بلکہ ایک پیچیدہ لسانی اور سماجی ذمہ داری ہے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

خلیج میں مقیم پاکستانیوں کا کردار

یہ کہانی بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ 

سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں آباد خاندان اردو کو تو کسی حد تک محفوظ رکھتے ہیں، لیکن اپنی علاقائی زبان اور مقامی لہجہ نئی نسل تک منتقل کرنا ان کے لیے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

پاکستانی تارکین وطن منظم منصوبوں کے ذریعے کہانیاں، کہاوتیں، الفاظ اور لوک گیت ریکارڈ کرکے لسانی ورثہ محفوظ کرنے میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم رضامندی، ملکیت اور نجی معلومات کا تحفظ بنیادی شرط ہونا چاہئے۔

کثیر لسانی صوتی خدمات ان کارکنوں کے لیے بھی مفید ہوسکتی ہیں جو عربی یا انگریزی اچھی طرح نہیں سمجھتے۔ 

صحت سے متعلق آگاہی، کام کی جگہ پر حفاظتی ہدایات اور سرکاری طریقۂ کار کو ان کی اپنی زبان میں سمجھانا ثقافتی تحفظ کے ساتھ معلومات اور حقوق تک رسائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

خخلاصہ +

پاکستانی محقق میسم عالم نے مقامی آبادیوں اور تنظیموں کے تعاون سے 39 پاکستانی زبانوں میں تقریباً 700 گھنٹے کا صوتی ڈیٹا جمع کیا ہے۔ روزمرہ جملوں، شاعری، لوک گیتوں اور مقامی متون پر مشتمل یہ ذخیرہ آواز شناخت کرنے، ترجمے اور تعلیمی ایپلی کیشنز کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے۔ منصوبہ زبانوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ مقامی آبادیوں کی آوازوں اور ڈیٹا سے فائدہ اٹھانے کا حق کس کے پاس ہونا چاہیے؟

ڈیجیٹل وجود کی دوڑ

مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ صرف جدید چپس، بڑے ڈیٹا سینٹرز اور طاقتور ماڈلز تک محدود نہیں۔ 

ایک خاموش دوڑ یہ طے کرنے کے لیے بھی جاری ہے کہ مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کن زبانوں اور ثقافتوں کو پہچانے گی اور کنہیں غیر موجود سمجھ کر نظر انداز کردے گی۔

میسم عالم اور شریک کمیونٹیز کا کام تنہا 39 زبانوں کی بقا کی ضمانت نہیں دے سکتا، مگر اس نے انہیں مستقبل میں جگہ بنانے کا موقع ضرور فراہم کیا ہے۔ 

اس کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ لوگوں کی آوازیں مفت خام مال نہیں اور زبان ایک زندہ ورثہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں اسے بولنے والوں کی شرکت ضروری ہے۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہوکر مزید وسیع ہوگیا تو شاید ایک دن پاکستانی بچے کو ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہونے کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی زبان دروازے پر چھوڑنا نہیں پڑے گی۔ 

اس وقت کسی مشین کا ایک چھوٹی زبان میں بات کرنا صرف تکنیکی کامیابی نہیں ہوگا، بلکہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ ایک پوری برادری اب بھی موجود ہے اور اس کی آواز خاموش نہیں ہوئی۔

بنیادی اصل ذرائع +

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے